متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کا انتہائی بدحواسی کی حالت میں نظر آنا سمجھ میں آرہا ہے۔اپنے ملک کی جانب سے امریکہ کو تحفظ کے نام پر کھربوں ڈالر ادا کرنے کے بعد اب جا کر اسے یہ احساس ہوا ہے کہ یہ فوجی اڈے دراصل اس کے برعکس کام کر رہے تھے۔ حقیقت میں ان کا بنیادی مقصد اسرائیلی ریاست کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا، کیونکہ انہی اڈوں کے ذریعے اسرائیل کی جانب آنے والے میزائلوں کو پہلے ہی محسوس (ڈیٹیکٹ)کر لیا جاتا ہے۔یوں امارات، اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں کی وجہ سے، غیر محسوس طور پر ایران کے خلاف ایک جاسوسی اور سازشی نیٹ ورک کا حصہ بن گیا، جس کے باعث وہ تہران کے ساتھ ایک نئے تنازع میں الجھ گیا ہے۔اب جا کر ہوش آیا!اسی گھبراہٹ کے عالم میں اماراتی وزیر خارجہ اٹلی کی طرف دوڑا گیا ہے تاکہ تقریبا ًدو ارب ڈالر مالیت کا فضائی دفاعی میزائل نظام خرید سکے۔ رقم یقینا بہت زیادہ ہے، مگر ناقدین کے مطابق فیصلہ سازی میں دانش کی کمی واضح دکھائی دیتی ہے۔ بظاہر انجام پھر بھی مایوسی ہی ہوگا، کیونکہ ناقدین کے مطابق اس نوعیت کے دفاعی نظام بھی اسی وقت موثر ثابت ہوتے ہیں جب اسرائیلی مفادات اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ اٹلی اور فرانس کا یہ مشترکہ دفاعی نظام MAMBAکہلاتا ہے۔ اس نظام میں Aster 30 Missile استعمال ہوتا ہے جو طیاروں، ڈرونز، کروز میزائلوں اور محدود حد تک بیلسٹک میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی موثر رینج تقریباً 120کلومیٹر تک ہے جبکہ میزائل کی رفتار تقریباً Mach4.5 ہوتی ہے۔ یہ نظام بیک وقت متعدد اہداف کو ٹریک اور نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور شہروں، فوجی اڈوں اور حساس تنصیبات کو فضائی حملوں سے بچانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
فوجی ماہرین اس نظام کا موازنہ اکثر امریکی MIM-104 Patriot فضائی دفاعی نظام سے کرتے ہیں اور اسے یورپ کے جدید ترین میزائل دفاعی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن خلیجی خطے کے تناظر میں اس کی افادیت مکمل اور فیصلہ کن نہیں سمجھی جاتی۔ اگر خطرہ بیلسٹک میزائلوں یا طویل فاصلے کے حملوں سے ہو، جیسے کہ ایران کے میزائل پروگرام سے منسوب خطرات، تو صرف یہ نظام کافی نہیں ہوتا دوسری طرف امریکہ اور صہیونی طاقتوں نے اب ایران میں پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے تاکہ لوگوں کو پیاس اور مشکلات میں مبتلا کر کے انہیں حکومت کے خلاف بغاوت پر ابھارا جا سکے۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی فورا ًاسی طرز کے اقدام کی دھمکی دے دی ہے۔ ایرانی صدر کی پڑوسی ممالک سے معذرت اور روس و چین کی ثالثی کے بعد کچھ امید پیدا ہوگئی تھی کہ یہ معاملہ کسی حد تک ٹھنڈا ہو جائے گا، تو اب یہ تنازعہ دوبارہ شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ پہلے تک حملے فوجی اڈوں، اسلحے کے مراکز اور میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز تک محدود تھے، لیکن اب صورتحال ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اب جنگ صرف فوج تک محدود نہیں رہی بلکہ پانی، بنیادی ڈھانچے اور شہری زندگی کو نشانہ بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ یوں عام شہری بھی براہِ راست خطرے میں آ گئے ہیں۔ اصل میں ہوا کیا؟ پہلے صہیونی اور امریکی اتحاد نے ایران کے جزیرہ قشم میں واقع میٹھے پانی کے ایک بڑے ڈی سیلینیشن (پانی صاف کرنے والے)پلانٹ کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ مختلف ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں تقریباً تیس دیہات میں پانی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے، جو یقینا ایک انسانی المیہ بن سکتا ہے۔اسی لئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے دراصل پانی کی جنگ کا آغاز کیا ہے، ہم نے نہیں۔ اس کے فورا ًبعد اوپن سورس انٹیلی جنس (OSINT)سے وابستہ ذرائع کی طرف سے خبریں اور تصاویر سامنے آئیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے یہ معلومات حاصل کر لی ہیں کہ بحرین نے امریکہ کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی، جہاں سے ایران پر میزائل داغے گئے۔
اطلاعات کے مطابق منامہ میں ایک میزائل لانچنگ سسٹم نصب کیا گیا تھا۔ البتہ یہ بات ابھی واضح نہیں کہ یہی میزائل قشم کے پانی کے پلانٹ پر حملے میں استعمال ہوئے یا نہیں۔بہر حال، اسی بنیاد پر پاسدارانِ انقلاب نے فوری ردعمل دیتے ہوئے بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈے الجفیرکو نشانہ بنایا اور اس پر فاتح، ذوالفقار اور رعد میزائل داغے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران نے حال ہی میں یہ نہیں کہا تھا کہ وہ عرب ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا؟جی ہاں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واقعی ایسا بیان دیا تھا۔ لیکن ان کے بیان میں ایک شرط بھی تھی اگر کسی عرب ملک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوئی تو پھر ایران اس کے جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کے اندر بھی بظاہر اقتدار کے مختلف حلقوں میں اختلافات نظر آ رہے ہیں۔ صدر پزشکیان کے بیان کے فوراً بعد ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژہای نے واضح طور پر کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور جب تک ایران کو خطرہ رہے گا، حملے جاری رہیں گے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت کے اندر بھی شاید ایک طرح کی کشمکش موجود ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عسکری دھڑا، یعنی پاسدارانِ انقلاب، صدر کے نسبتاً محتاط موقف سے متفق نہیں اور وہ زیادہ سخت ردعمل دے کیونکہ ایران نے اس سرزمین سے کئے گئے حملوں کا جواب دینے کا اعلان کر دیا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ اس ایرانی ردعمل کے مقابلے میں امریکی موقف بھی انتہائی سخت ہو گیا ہے۔گزشتہ صبح جاری ہونے والے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج رات ایران کو تاریخ کی سب سے شدید فضائی ضرب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اب سوال یہی ہے کہ آگے کیا ہوگا؟یہ تو صرف اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن اتنا واضح ہے کہ اس طرح مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی سب کے لئے خطرناک ہے۔ اس کا اثر عالمی معیشت پر بھی پڑنا شروع ہو چکا ہے۔ تیل کی قیمت پہلے ہی 92ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے اور اگر یہی صورتحال جاری رہی تو یہ ایک بڑے معاشی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو پوری دنیا کو متاثر کرے گا۔