اسلام آباد سے آنے والی خبروں کے مطابق پولیس نے غیر قانونی ’’عورت مارچ‘‘کا انعقاد کرنے کی کوشش کرنے والے درجنوں مرد و خواتین کو حراست میں لے لیا۔عورت مارچ کے انعقاد کے خلاف لال مسجد و جامعہ حفصہ کی جانب سے حیاء مارچ کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔گزشتہ روز وفاقی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے ’’عورت مارچ‘‘ اور ’’حیاء مارچ‘‘کے منتظمین کو آگاہ کیا تھا کہ اسلام آباد میں دفعہ 144نافذ ہے۔ملکی حالات اور سیکورٹی خطرات کی وجہ سے عوامی اجتماع منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔جس پر حیا ء مارچ کی منتظمہ جامعہ حفصہ کی پرنسپل اُم حسان نے اسلام آباد انتظامیہ پر واضح کر دیا تھا کہ’’ہم ایسے دن منانے کے قائل نہیں ہیں۔جب سے یوم خواتین کے موقع پر عورت مارچ کے نام پر معاشرے میں بے حیائی، فحاشی، عریانیت اور بیہودگی کو فروغ دینے کی کوشش شروع کی گئی تو اس کے خلاف مجبوراً ہمیں حیا مارچ کا انعقاد کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ ہم معاشرے میں بے حیائی اور بیہودگی کو فروغ دینے کی اس سازش کو ناکام بنا سکیں۔ہمیں موجودہ ملکی صورتحال کا مکمل طور پر احساس ہے۔ہم قطعاً نہیں چاہتے کہ امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا ہو۔اگر عورت مارچ کے انعقاد کو روکا جائے گا تو ہم یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم حیاء مارچ کو ملتوی کر دیں گے‘‘۔اس پر وفاقی انتظامیہ کے افسران نے آگاہ کیا تھا کہ وہ عورت مارچ کے منتظمین کو پہلے ہی باضابطہ طور پر آگاہ کر چکے ہیں کہ عورت مارچ کی اجازت نہیں۔اگر اس کے باوجود بھی انہوں نے عورت مارچ کے انعقاد کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔جس کے بعد گزشتہ رات جامعہ حفصہ کی پرنسپل اُم حسان نے ایک پیغام جاری کرتے ہوئے ملکی موجودہ صورتحال اور وفاقی انتظامیہ کی یقین دہانی کی روشنی میں حیا ء مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اتوار کے روز جب عورت مارچ کے منتظمین نے اسلام آباد انتظامیہ کی تنبیہہ کے باوجود نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے عورت مارچ کے انعقاد کی کوشش کی تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی گئی۔
دارلحکومت اسلام آباد میں 8مارچ کو یومِ خواتین کے موقع پر پیش آنے والے واقعات نے ایک بار پھر پاکستان کے معاشرتی، مذہبی اور قانونی بحث کو تازہ کر دیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں عورت مارچ کے انعقاد کی کوشش اور اس کے ردعمل میں سامنے آنے والے موقف نے نہ صرف ریاستی رٹ بلکہ معاشرتی اقدار، آزادیِ اظہار اور قانون کی عملداری کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری ہے کہ جذبات سے بالاتر ہو کر قانون، معاشرتی حساسیت اور قومی مفاد کو مدنظر رکھا جائے۔ اطلاعات کے مطابق وفاقی انتظامیہ نے پہلے ہی اسلام آباد میں دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث کسی بھی قسم کے عوامی اجتماع کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہی پیغام عورت مارچ اور حیاء مارچ دونوں کے منتظمین تک پہنچایا گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ موجودہ ملکی حالات اور ممکنہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر کسی بڑے اجتماع کی اجازت دینا مناسب نہیں ہوگا۔ اس تناظر میں ریاستی اداروں کا اولین فریضہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ حیا مارچ کے منتظمین، جن کا تعلق لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے بتایا جاتا ہے، نے انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد اپنا پروگرام ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان کے بیان کے مطابق ان کا موقف یہ تھا کہ وہ کسی تصادم یا امن و امان کے مسئلے کا باعث نہیں بننا چاہتے۔ ان کے بقول حیاء مارچ کا مقصد معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی اور فحاشی کے رجحانات کے خلاف آواز اٹھانا تھا، تاہم ملکی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنے احتجاج کو موخر کر دیا۔دوسری جانب عورت مارچ کے بعض منتظمین نے انتظامیہ کی تنبیہ کے باوجود نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے اجتماع کرنے کی کوشش کی تو کیوں؟کیا عورت مارچ والی میرا جسم میری مرضی اینڈ کمپنی اپنے آپ کو آئین اور قانون سے بالا تر سمجھتی ہے؟ نتیجتاً پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ کاروائی صرف اور صرف قانون کی عملداری کے لئے کی گئی۔
یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاست کو ایسے معاملات میں مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے یا پھر اظہارِ رائے کے حق کو کسی حد تک اجازت دینی چاہیے؟ پاکستان کا آئین شہریوں کو پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کرتا ہے کہ یہ آزادی ریاستی مفاد، امن و امان اور اخلاقی حدود کے تابع ہے۔ اسی لئے دفعہ 144جیسے قوانین ہنگامی یا حساس حالات میں نافذ کئے جاتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ تصادم یا انتشار کو روکا جا سکے۔متنازع عورت مارچ کئی برسوں سے پاکستان کے مختلف شہروں میں منعقد ہوتا رہا ہے اور ہر سال اس حوالے سے شدید بحث چھڑ جاتی ہے۔ ملحدین کاطبقہ اسے خواتین کے حقوق کی جدوجہد کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اسے مغربی ثقافت کی نمائندگی اور معاشرتی اقدار کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ یہ اختلافِ رائے بذاتِ خود ایک حقیقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح حیاء مارچ جیسے ردعمل بھی اسی معاشرتی تقسیم کا اظہار ہیں۔ یہ دراصل اس سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں جو سمجھتی ہے کہ پاکستانی معاشرہ اپنی مذہبی اور اخلاقی بنیادوں پر قائم ہے اور اسے مغربی طرزِ فکر سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ دونوں نقطہ نظر کے پیچھے اپنے اپنے دلائل اور خدشات موجود ہیں۔ ریاست کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہی ہوتا ہے کہ وہ ان متضاد نظریات کے درمیان توازن قائم کرے۔ اگر کسی ایک فریق کو مکمل آزادی دے دی جائے اور دوسرے کو نظر انداز کیا جائے تو معاشرے میں مزید تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی لئے قانون کی یکساں عملداری ضروری ہے۔ اگر دفعہ 144نافذ ہے تو اس کا اطلاق ہر قسم کے اجتماعات پر یکساں ہونا چاہیے، چاہے وہ عورت مارچ ہو یا حیاء مارچ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں چھوٹے سے واقعے کو بھی بڑی سیاسی یا نظریاتی جنگ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ بعض حلقے فوری طور پر یہ تاثر دینے لگتے ہیں کہ ریاست کسی خاص گروہ کے دبا میں آ کر فیصلے کر رہی ہے۔ تاہم اگر انتظامیہ واقعی قانون کے مطابق کارروائی کرے تو ایسے تاثرات خود بخود کمزور ہو جاتے ہیں۔پاکستان جیسے معاشرے میں خواتین کے حقوق کا مسئلہ بھی انتہائی حساس ہے۔ یہاں ایک طرف خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور قانونی تحفظ جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے، جبکہ دوسری طرف ثقافتی اور مذہبی اقدار کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کے مسائل کو ایسے انداز میں اٹھایا جائے جو معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے قابلِ قبول ہو اور جس سے غیر ضروری تصادم پیدا نہ ہو۔
معاشرتی اصلاح صرف احتجاج سے نہیں بلکہ تعلیم، شعور اور مثبت رویوں کے فروغ سے ممکن ہوتی ہے۔ اگر مختلف نظریات رکھنے والے گروہ ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے کے بجائے مکالمے کا راستہ اپنائیں تو شائد بہت سے تنازعات خود بخود کم ہو جائیں۔وفاقی انتظامیہ کی حالیہ کارروائی کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر واقعی دونوں اطراف کو پہلے سے واضح طور پر آگاہ کیا گیا تھا کہ اجتماع کی اجازت نہیں، تو پھر قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے، ورنہ قانون کی حیثیت محض کاغذی رہ جاتی ہے۔مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ایک واضح پالیسی مرتب کرے جس کے تحت عوامی اجتماعات کے حوالے سے شفاف اور یکساں اصول طے کئے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی اور مذہبی حلقوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا بھی بے حد ضروری ہے۔