مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید سیاسی و عسکری کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نہ صرف خطے کے امن کے لئے خطرہ بن چکی ہے بلکہ اس کے اثرات پورے عالمِ اسلام اور بالخصوص پاکستان جیسے ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ایسے حساس حالات میں پاکستان کے مذہبی، سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے جو بیانات اور موقف سامنے آ رہے ہیں وہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم نہ صرف عالمی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ اپنے قومی مفادات اور مذہبی جذبات کے حوالے سے بھی واضح سوچ رکھتی ہے۔اسی تناظر میں اسلام آباد میں پاک سعودی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کی مختلف مذہبی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ اس اجلاس کی میزبانی معروف دینی رہنما مولانا فضل الرحمن خلیل نے کی جبکہ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم، جمعیت علماء پاکستان کے سیکرٹری جنرل صاحبزادہ شاہ اویس نورانی اور دیگر اہم شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال، ایران امریکہ کشیدگی، سعودی عرب کے دفاع اور پاکستان کی سلامتی سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں حکومت پاکستان کے اس موقف کی مکمل حمایت کی گئی جو نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ایران امریکہ جنگ کے حوالے سے پیش کیا ہے۔
قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کو خطے میں امن کے قیام کے لئے ذمہ دارانہ اور متوازن کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان ہمیشہ سے مسلم دنیا کے اتحاد اور خطے کے امن کا داعی رہا ہے، اس لئے اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ کشیدگی کو کم کیا جائے اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔اجلاس میں حرمین شریفین کے دفاع کے حوالے سے بھی واضح مقف اختیار کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ حرمین شریفین مسلمانوں کے ایمان، عقیدت اور وحدت کی علامت ہیں اور ان کا دفاع پوری امت مسلمہ کا مشترکہ فریضہ ہے۔ پاکستانی علماء اور عوام ہمیشہ سے اس معاملے میں حساس رہے ہیں اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ اگر کبھی حرمین شریفین کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستانی قوم سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات محض سفارتی یا سیاسی نوعیت کے نہیں بلکہ مذہبی، تاریخی اور عوامی جذبات سے جڑے ہوئے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب نے مختلف ادوار میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ چاہے معاشی مشکلات ہوں، قدرتی آفات کا سامنا ہو یا عالمی سطح پر کسی سفارتی چیلنج کا معاملہ ہو، سعودی عرب نے پاکستان کے لیے ہمیشہ مدد اور تعاون کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام کے دلوں میں سعودی عرب کے لیے خاص احترام اور محبت پائی جاتی ہے۔اجلاس میں ایک اور اہم نکتہ یہ بھی اٹھایا گیا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ اعلامیہ میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی خودمختار ریاست پر بلا جواز حملے خطے کے امن کو مزید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ اس قسم کی کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی روح کے خلاف ہیں بلکہ ان سے جنگ کے شعلے مزید بھڑک سکتے ہیں۔ اسی طرح ایران کی جانب سے سعودی عرب یا خلیجی ممالک پر کسی بھی قسم کی جارحیت کو بھی خطے کے امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا۔درحقیقت مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں معمولی سی غلطی بھی بڑے پیمانے پر جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت خطے کے ذمہ دار ممالک پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کریں۔ اجلاس کے شرکا نے بھی یہی اپیل کی کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک مل کر ثالثی کا کردار ادا کریں تاکہ ممکنہ جنگ کو روکا جا سکے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایت رہی ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لئے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی مختلف عالمی تنازعات میں مصالحتی کردار ادا کیا ہے اور آج بھی وہ یہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر پاکستان، ترکی اور سعودی عرب جیسے ممالک مشترکہ کوشش کریں تو خطے میں امن کے امکانات کو تقویت مل سکتی ہے۔اجلاس میں افغانستان کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سلامتی اور خودمختاری کا بھرپور تحفظ کرنا چاہیے۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی کارروائیاں تشویش ناک ہیں اور انہیں روکنا ضروری ہے۔ تاہم اس مسئلے کا حل بھی جنگ یا کشیدگی میں نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتی رابطوں میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں برادر اسلامی ممالک ہیں اور ان کے درمیان پائیدار امن پورے خطے کے مفاد میں ہے۔افواج پاکستان اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو بھی اجلاس میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ پاکستان کو دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ کا سامنا رہا ہے جس میں سکیورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان قربانیوں کی بدولت آج پاکستان میں امن و استحکام کی فضاء قائم ہوئی ہے۔ شہداء کی قربانیاں پوری قوم کے لئے باعث فخر ہیں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار قومی ذمہ داری ہے۔موجودہ عالمی حالات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید مسائل کو جنم دیتی ہے۔ اگر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی معیشت میں عدم استحکام اور انسانی جانوں کا ضیاع ایسے نتائج ہیں جن سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہ سکے گا۔اسی لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی طاقتیں اور علاقائی ممالک عقل و دانش سے کام لیں اور جنگ کے بجائے مذاکرات کی راہ اختیار کریں۔ پاکستان جیسے ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے امن کی کوششوں کو آگے بڑھائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتا ہے۔پاکستانی قوم ہمیشہ امن، استحکام اور مسلم دنیا کے اتحاد کی داعی رہی ہے۔ اگر ہم اپنی قومی وحدت کو برقرار رکھتے ہوئے دانشمندانہ پالیسی اختیار کریں تو نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت اور ذمہ دار کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جو اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس سے بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستان کو خطے کے امن، حرمین شریفین کے احترام اور اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔آج کے غیر یقینی عالمی ماحول میں یہی حکمت عملی پاکستان کے لئے سب سے زیادہ موزوں اور موثر ثابت ہو سکتی ہے۔