Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

آزادیٔ اظہار اور ریاستی ذمہ داری

پاکستان جیسے جمہوری معاشرے میں آزادیٔ اظہار کو بنیادی انسانی اور آئینی حق کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ حق شہریوں کو اپنی رائے کے اظہار، حکومتی پالیسیوں پر تنقید، اور قومی معاملات پر آزادانہ گفتگو کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم ہر معاشرے میں اس آزادی کے ساتھ کچھ حدود اور ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ روز ایک دوست نے پاک فوج کے ترجمان کے بیان کا ایک ویڈیو کلپ سینڈ کیا، جس میں ترجمان پاک فوج کہتے ہیں کہ آزادیٔ اظہار کی آڑ میں ریاست کی سالمیت اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔یہ حقیقت ہے کہ ایک مضبوط اور صحت مند جمہوریت میں اختلافِ رائے کو جگہ دی جاتی ہے۔ مختلف آراء اور تنقید سے ہی معاشرے میں اصلاح اور ترقی کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ میڈیا، دانشور، سیاسی جماعتیں اور عام شہری قومی پالیسیوں پر تنقید اور بحث کے ذریعے جمہوری عمل کو مضبوط بناتے ہیں۔ تاہم اس عمل کے دوران یہ بھی ضروری ہے کہ اظہارِ رائے ذمہ داری کے دائرے میں ہو اور ایسا کوئی عمل نہ کیا جائے جو ریاستی اداروں کی ساکھ کو غیر ضروری طور پر نقصان پہنچائے یا دشمن قوتوں کے بیانیے کو تقویت دے۔آج کے دور میں سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو غیر معمولی وسعت دی ہے۔ ہر فرد ایک طرح سے میڈیا ہاؤس بن چکا ہے اور اپنی رائے لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ صورتحال جہاں معلومات کی تیز تر ترسیل کا باعث بنی ہے، وہیں اس کے منفی پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ جھوٹی خبروں، غیر مصدقہ اطلاعات اور اشتعال انگیز مواد کی وجہ سے معاشرتی انتشار اور غلط فہمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں ریاستی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قومی سلامتی اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کریں۔پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ملک کئی دہائیوں سے دہشت گردی، بیرونی دباؤ اور اندرونی عدم استحکام جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ اس پس منظر میں قومی سلامتی کا معاملہ محض ایک نظریاتی بحث نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے۔ ریاستی ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ اگر آزادیٔ اظہار کے نام پر ایسی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے جو دشمن عناصر کے پروپیگنڈے کا حصہ بن جائیں، تو اس سے قومی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔تاہم اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر آزادیٔ اظہار پر غیر ضروری پابندیاں عائد کر دی جائیں تو اس سے جمہوری اقدار متاثر ہو سکتی ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ خوف کے باعث اپنی رائے دینے سے گریز کریں، وہاں صحت مند مکالمہ اور اصلاح کا عمل کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریاستی پالیسیوں میں توازن برقرار رکھا جائے تاکہ ایک طرف قومی سلامتی کا تحفظ ہو اور دوسری طرف شہریوں کے بنیادی حقوق بھی محفوظ رہیں۔میڈیا اس سلسلے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ خبروں کی تصدیق کی جائے، غیر ضروری سنسنی سے گریز کیا جائے، اور قومی مفاد کو مدنظر رکھا جائے۔ اسی طرح سوشل میڈیا صارفین کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی ایک پوسٹ یا بیان بڑے پیمانے پر اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی سچائی اور ممکنہ نتائج پر غور کرنا ضروری ہے۔جمہوری معاشروں میں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جب عوام کو یقین ہو کہ ریاست ان کے حقوق کا احترام کرتی ہے اور ریاستی ادارے شفافیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں، تو معاشرے میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح ریاستی اداروں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر رابطے اور وضاحت کی پالیسی اختیار کریں۔پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے داخلی استحکام، معاشی ترقی اور عالمی سطح پر مثبت تشخص کی ضرورت ہے۔ ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ قومی بیانیہ مضبوط اور متحد ہو۔ اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے اسے تعمیری مکالمے میں ڈھالنا ہوگا۔ اسی صورت میں جمہوری اقدار اور قومی سلامتی دونوں کا تحفظ ممکن ہو سکے گا۔یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ آزادیٔ اظہار اور قومی سلامتی کے درمیان توازن قائم کرنا کسی بھی ریاست کے لیے ایک مسلسل چیلنج ہوتا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ بہتر ہے کہ وہ آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اظہارِ رائے کی آزادی کو یقینی بنائے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسی سرگرمیوں کی روک تھام کرے جو ریاست کی سالمیت اور قومی مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہوں۔ ایک ذمہ دار معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں آزادی اور ذمہ داری دونوں ساتھ ساتھ چلیں، اور جہاں اختلاف بھی قومی مفاد کے دائرے میں رہ کر کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں