(گزشتہ سےپیوستہ)
اس صورتِ حال میں پاکستان کے لئے یہ محض ہمسایہ ملک کی مددکامعاملہ نہیں بلکہ اپنی داخلی سلامتی کابھی سوال تھا۔یہی وجہ ہے کہ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون اورعسکری کارروائیوں کے ذریعے اس ممکنہ خطرے کومحدود کرنے کی کوشش کی گئی۔اسی دوران ایک اورمحاذبھی زیربحث آیا:کرد مسلح گروہوں کی ممکنہ نقل وحرکت۔ بعض اطلاعات کے مطابق ترکی اورعراق کے سرحدی خطوں سے ایسے جنگجوں کوایران میں داخل کرانے کی کوششوں کو روکنے میں علاقائی تعاون نے اہم کرداراداکیا۔ اس صورتِ حال میں پاکستان اورترکی دونوں کے اقدامات کوبعض تجزیہ نگارخطے میں استحکام کی کوشش قراردیتے ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق علاقائی تعاون اورخفیہ معلومات کے تبادلے کے باعث ان منصوبوں ک ناکام بنایا گیا۔اس سلسلے میں پاکستان اورترکی کے اقدامات کو خطے میں استحکام کے لئے اہم قراردیاگیا۔اس پورے منظرنامے میں ایک حقیقت نمایاں ہوکرسامنے آتی ہے کہ افغانستان میں موجود غیر ریاستی عناصرایک ایسابارو دی ذخیرہ بن چکے ہیں جوکسی بھی لمحے پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔
اگراس پورے منظرنامے کووسیع ترزاویے سے دیکھاجائے توواضح ہوتاہے کہ مشرقِ وسطی اورجنوبی ایشیاایک نہایت حساس دورسے گزررہے ہیں۔ایسے حالات میں کسی ایک واقعے کادائرہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتابلکہ پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔ایک چھوٹاساواقعہ بھی بڑی جنگ کاپیش خیمہ بن سکتاتھا۔بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اگرافغانستان میں موجودشدت پسند عناصرایران میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے توصورت حال ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیارکرسکتی تھی جس میں عالمی طاقتیں بھی ملوث ہوجاتیں۔
یوں کہاجا سکتاہے کہ اس پیچیدہ اورخطرناک صورت حال میں پاکستان کی جانب سے سرحدی دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات اور علاقائی تعاون نے ایک ایسے بحران کو پھیلنے سے روکنے میں کرداراداکیاجو باآسانی وسیع جنگ کاسبب بن سکتاتھا۔ اس پس منظرمیں بعض مبصرین پاکستان کوخطے میں استحکام کاایک اہم ستون قراردیتے ہیں جس نے نہ صرف اپنی سرزمین بلکہ ہمسایہ ممالک کے امن کے لئے بھی کردار اداکیا۔بعض مبصرین کے نزدیک یہ وہ لمحہ تھاجب پاکستان نے محض اپنی سرحدوں کانہیں بلکہ پورے خطے کے امن کا دفاع کیا۔تاریخ کے تناظرمں دیکھاجائے توایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جب کسی ریاست کا ایک فیصلہ پورے خطے کے مستقبل پراثراندازہو۔اگر حالات ذرابھی مختلف رخ اختیارکرتے تو ممکن تھا کہ مشرقِ وسطی ایک ایسی جنگ کی لپیٹ میں آجاتاجس کے اثرات عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوتے۔اس پس منظرمیں پاکستان کے اقدامات کو بعض حلقے خطے کے استحکام کی ایک اہم کوشش قرار دیتے ہیں۔
اگراس پورے منظرنامے کووسیع ترزاوئیے سے دیکھاجائے توحاصلِ کلام یہ معلوم ہوتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ اورجنوبی ایشیاایک ایسے تاریخی موڑپر کھڑے ہیں جہاں چھوٹے سے اقدام کے بھی عالمی اثرات مرتب ہو کتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ے کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء کی سیاست ایک نئے دوراہے پرکھڑی ہے جہاں طاقت،مفاد اورنظریات کی کشمکش نے پیچیدہ صورت اختیارکرلی ہے۔اگر اس پورے بحران کوایک تمثیل میں سمیٹاجائے تویوں کہاجا سکتاہے کہ عالمی سیاست کی بساط پرمہرے توبہت ہیں،مگر اصل بازی وہی جیتتاہے جوصبر،بصیرت اورتدبرکے ساتھ اپنے قدم بڑھاتاہے۔ بعض مبصرین کے نزدیک حالیہ واقعات نے یہ تاثر ضرور پیداکیاہے کہ علاقائی تعاون نے ایک ممکنہ بڑے بحران کوٹالنے میں کرداراداکیااوراگرایساہے تویہ محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لئے ایک اہم موڑبھی ہے۔
پاکستان کی جانب سے سرحدی دہشتگردی کے خلاف سخت اقدامات نے ایک ایسے بحران کوپھیلنے سے روکنے میں کرداراداکیاجوباآسانی ایک وسیع علاقائی جنگ کی صورت اختیار کرسکتاتھا۔یوں کہاجاسکتاہے کہ عالمی سیاست کی اس پرپیچ بساط پرپاکستان نے کم ازکم اس مرحلے پرایک ایساکرداراداکیاجس نے خطے کو مزید بڑے تصادم کی طرف بڑھنے سے روکنے میں مدددی۔ یہی وہ لمحہ ہے جب تاریخ خاموشی سے اپنا فیصلہ رقم کرتی ہے اور آنے والی نسلیں اس کے اثرات کوسمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔تاریخ کایہ باب ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پرکبھی کبھی ایک ریاست کابروقت اوردانشمندانہ اقدام پورے خطے کی تقدیر بدل دیتاہے۔ اگر حالات ذرابھی مختلف رخ اختیارکرتے توممکن تھاکہ مشرقِ وسطی ایک ایسی جنگ کی لپیٹ میں آ جاتاجس کے اثرات پوری دنیاپرمرتب ہوتے۔ایسے میں پاکستان کے اقدامات کوبعض مبصرین ایک ایسے حفاظتی حصارکے طورپر دیکھتے ہیں جس نے اس ممکنہ بحران کومحدود رکھنے میں مدددی۔
یوں محسوس ہوتاہے کہ عالمی سیاست کے اس پرپیچ دورمیں طاقت کے کھیل کے ساتھ ساتھ حکمت، تدبر اوربروقت اقدام بھی اہم کردارادا کرتے ہیں۔ اگرخطے میں بعض ریاستیں بروقت فیصلے نہ کرتیں توممکن تھاکہ یہ بحران ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہوجاتا۔اس حقیقت نے ایک بارپھریہ ثابت کردیا کہ کبھی کبھی تاریخ کے دھارے کوموڑنے کے لئے ایک مضبوط اور دوراند یش فیصلہ ہی کافی ہوتاہے۔