Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

حضور اکرم ﷺکی سیرت اور علماء کی ذمہ داری

سیرت النبیؐ ایک مقدس عنوان ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاں تذکرہ ہوتا ہے وہاں برکات اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا نصیب ہوتی ہے، اور اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔ لیکن سیرت طیبہ کے بیان کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس صاف و شفاف آئینے میں اپنا چہرہ دیکھیں، اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کر کے ان کی تلافی کی کوشش کریں اور اپنے مسائل و مشکلات میں اسوۂ رسولؐ سے رہنمائی حاصل کریں۔ اس مناسبت سے آج کے عالمی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ سے ایک دو واقعات عرض کرنا چاہوں گا تاکہ ہم آج کے حالات اور صورتحال میں سیرت مبارکہ سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔ مسائل بے شمار ہیں اور واقعات بھی بہت سے ہیں لیکن ان میں سے صرف دو مسئلوں کے حوالے سے بات کروں گا:
ایک یہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلی ثقافت سے کس طرح نجات حاصل کی تھی؟ اور دوسرا یہ کہ اس وقت بھی عالمی قوتیں موجود تھیں اور مسلمانوں کے درپئے آزار تھیں، حضورؐ نے ان کا کس انداز میں سامنا کیا تھا؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں دو باتیں بطور خاص فرمائی تھیں اور انہی کا حوالہ دوں گا۔ ایک یہ کہ ’’فزت و رب الکعبہ‘‘ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مشن کی تکمیل اور اس میں اپنی کامیابی کا اعلان کیا تھا جو بحیثیت پیغمبر آخر الزمانؐ آپ کے سپرد کیا گیا تھا۔ اور دوسرا یہ کہ ’’کل امر الجاہلیۃ تحت قدمی ہاتین‘‘ فرما کر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلی ثقافت اور کلچر کے مکمل خاتمہ کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ جاہلیت کی تمام رسوم و اقدار آج کے بعد میرے قدموں کے نیچے ہیں۔
یہ جاہلی ثقافت کیا تھی؟ وہی جسے آج جدید تمدن اور ترقی یافتہ کلچر کی صورت میں ایک بار پھر جھاڑ پھونک کر دنیا پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کی بنیاد مادر پدر آزادی پر ہے اور جس کی سب سے بڑی نشانی فحاشی، عریانی اور بے حیائی ہے۔ جس میں زنا ہے، ناچ گانا ہے، سود ہے، جوا ہے، معاشی استحصال ہے، رنگ و نسل کا امتیاز ہے، لسانیت اور علاقائیت کے فتنے ہیں، اور انسان کے سفلی جذبات کو ابھار کر اسے اخلاقِ انسانی سے بے گانہ کرنا ہے۔ یہ سب کچھ اس جاہلی ثقافت کا حصہ ہے جو ابوجہل کی ثقافت تھی، ابولہب کا کلچر تھا، اور عتبہ و شیبہ کا تمدن تھا۔ آج کی جدید ثقافت کے علمبرداروں سے میرا سوال ہے کہ جدید تہذیب اور ترقی یافتہ کلچر کے نام پر تم جو کلچر دنیا پر مسلط کر رہے ہو، اس میں کون سی نئی بات ایسی ہے جو ابو جہل اور ابو لہب کے کلچر میں نہیں تھی؟ اور جسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں اپنے قدموں کے نیچے رکھنے کا اعلان نہیں کیا تھا؟ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سولائزیشن وار اور ثقافتی جنگ کے نام پر آج کا عالمی استعمار جو کلچر ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے ہم اس سے پہلے نمٹ چکے ہیں اور ہم نے اسے چودہ سو برس پہلے شکست دی تھی، جیسے ہمارے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کی تمام اقدار و روایات کو اپنے پاؤں تلے روندنے کا اعلان فرمایا تھا۔
دوسری بات یہ کہ اس دور میں بھی روم اور فارس کی دو بڑی طاقتیں موجود تھیں، دونوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کو سابقہ پیش آیا تھا اور دونوں نے شکست کھائی تھی۔ ان میں سے ایک کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرکہ آرائی کا تذکرہ کرنا چاہوں گا اور وہ روم کی عظیم سلطنت تھی۔ یہ عیسائی سلطنت تھی اور قسطنطنیہ اس کا دارالحکومت تھا۔ اسے اُس دور کا امریکہ سمجھ لیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ سلطنتِ روما کا حکمران قیصر بڑا لشکر تیار کر کے مدینہ منورہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے اور اس نے اس کی تیاری شروع کر رکھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اقدامات کی تصدیق کے بعد پہلا فیصلہ یہ کیا کہ یہ جنگ مدینہ منوہ یا اسلامی ریاست کی زمین پر نہیں لڑی جائے گی بلکہ وہ خود پیش قدمی کر کے تبوک کی سرحد پر جائیں گے، جو شام کی سرحد پر تھا، اور شام اس زمانہ میں رومی سلطنت کا صوبہ ہوا کرتا تھا۔
سخت گرمی کا موسم تھا، فصلیں پکی ہوئی تھیں، کاشتکاروں اور باغبانوں کے لیے سال کا آخر تھا جس کی وجہ سے سخت معاشی تنگی تھی، لمبا سفر تھا، مگر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکرِ نبویؐ کا اعلان فرما دیا اور تیاریاں شروع کر دیں۔ صحابہ کرامؓ نے سب مشکلات اور رکاوٹوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کوچ کیا اور کم و بیش ایک ماہ کا سفر طے کر کے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر سمیت تبوک کی سرحد پر جا پہنچے۔ وہاں ایک ماہ رہ کر قیصر روم کی فوجوں کا انتظار کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حیرت انگیز اور جراتمندانہ پیش قدمی کا قیصرِ روم کے دل میں ایسا رعب ڈالا کہ اسے قسطنطنیہ سے فوج لے کر نکلنے کی جرات نہ ہوئی۔ اور اسی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں تعبیر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ماہ کی مسافت سے دشمن کے دل میں میرا رعب ڈال کر میری مدد فرمائی، جسے احادیث مبارکہ میں خصائص نبویؐ میں ذکر کیا جاتا ہے۔
اس دوران کا ایک اور واقعہ بھی سامنے رکھ لیجیے کہ اس دور میں مدینہ منورہ میں ایک ’’این جی او‘‘ قائم ہوئی اور مسجد کے مقدس نام پر قائم ہوئی۔ جس کے بنانے والوں نے قسم کھا کر کہا کہ ’’انا اردنا للحسنی‘‘ ان کا ارادہ بہت اچھا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد میں جانے اور وہاں نماز پڑھا کر مسجد کا افتتاح کرنے کا وعدہ فرما لیا، مگر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ یہ مسجد نہیں بلکہ مسجد کے نام پر کافروں کی گھات اور مورچہ ہے اس لیے آپؐ اس مسجد میں نہ جائیں۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد کو آگ لگوا دی اور بعض مفسرین کے ارشاد کے مطابق عبرت اور سبق کے لیے اس نام نہاد مسجد کے کھنڈرات پر فِلتھ ڈپو بنوا دیا۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں