اس دوران کا ایک اور واقعہ بھی سامنے رکھ لیجیے کہ اس دور میں مدینہ منورہ میں ایک ’’این جی او‘‘ قائم ہوئی اور مسجد کے مقدس نام پر قائم ہوئی۔ جس کے بنانے والوں نے قسم کھا کر کہا کہ ’’انا اردنا للحسنی‘‘ ان کا ارادہ بہت اچھا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد میں جانے اور وہاں نماز پڑھا کر مسجد کا افتتاح کرنے کا وعدہ فرما لیا، مگر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ یہ مسجد نہیں بلکہ مسجد کے نام پر کافروں کی گھات اور مورچہ ہے اس لیے آپؐ اس مسجد میں نہ جائیں۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد کو آگ لگوا دی اور بعض مفسرین کے ارشاد کے مطابق عبرت اور سبق کے لیے اس نام نہاد مسجد کے کھنڈرات پر فِلتھ ڈپو بنوا دیا۔
یہ مسجد اس لیے منافقین نے بنائی تھی تاکہ وہ ان کے باہمی مشوروں کا مرکز ہو اور رومی استعمار کے ساتھ رابطوں اور ان کی ہدایت کی وصولی کے لیے مرکز بنے۔ مگر علم ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برداشت نہیں کیا اور مسجد کے نام پر بننے والی اس بلڈنگ کو نذرِ آتش کر دیا۔
اس کے ساتھ اسی معرکہ سے تعلق رکھنے والا ایک اور واقعہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ غزوہ کے لیے تبوک جانے والے لشکر میں منافقین کی ایک بڑی تعداد نہیں گئی اور عذر بہانے کر دیے، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول بھی فرما لیا۔ البتہ تین مخلص صحابی حضرت کعب بن مالکؓ، حضرت مرارہ بن ربیعؓ اور حضرت ہلال بن امیہؓ کسی عذر کے بغیر ساتھ جانے سے رہ گئے تھے۔ انہوں نے کوئی عذر بھی نہیں کیا اور تبوک سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی کے بعد صاف طور پر عرض کر دیا کہ کوئی عذر نہیں ہے، غلطی ہوئی ہے اس لیے جو سزا دی جائے قبول ہے۔ یہ ان کے خلوص کی علامت تھی اور ایمان کا اظہار تھا۔ چنانچہ انہیں اس کی سزا ملی جو سوشل بائیکاٹ کی صورت میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو ان کے ساتھ لین دین، بول چال اور تعلقات سے منع کر دیا، حتیٰ کہ بیویوں کو بھی حکم ہوا کہ تا حکمِ ثانی خاوندوں کے گھر چھوڑ کر ماں باپ کے ہاں چلی جائیں۔ یہ بائیکاٹ پچاس دن تک جاری رہا اور قرآن کریم کی زبان میں یہ سماجی مقاطعہ اس قدر سخت تھا کہ زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود ان تینوں صحابہؓ پر تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں بھی جسموں میں تنگ پڑ گئیں۔ یہ سخت ابتلا اور آزمائش کا دور تھا۔
اس دوران رومی حکمرانوں کا ایک قاصد مدینہ منورہ آیا اور حضرت کعب بن مالکؓ سے ملا۔ اس کے پاس ایک خط تھا جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ آپ پر آپ کے صاحب یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے ہیں اور انہوں نے آپ کو جماعت سے الگ کر دیا ہے، اس لیے ہم آپ کو پیشکش کرتے ہیں کہ ہمارے پاس آجائیں، ہم آپ کو جگہ بھی دیں گے، خرچہ بھی دیں گے اور اعزاز اور پروٹوکول بھی دیں گے۔ یہ آج کی اصطلاح میں سیاسی پناہ کی پیشکش تھی جو حضرت کعب بن مالکؓ کو رومی حکمرانوں کی طرف سے دی گئی، مگر حضرت کعب بن مالکؓ نے اس کا کیا جواب دیا؟ بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت کعب بن مالکؓ اس قاصد کو ساتھ لے کر محلہ کے تنور پر گئے جہاں آگ جل رہی تھی اور کوئی خاتون روٹیاں پکا رہی تھیں۔ حضرت کعبؓ نے قاصد کے سامنے اس خط کو پھاڑ کر تنور میں پھینک دیا اور اسے کہا کہ جا کر اپنے افسروں کو بتا دو کہ کعبؓ نے تمہارے خط کا یہ جواب دیا ہے۔ یہ حضرت کعبؓ کی غیرتِ ایمانی کا اظہار تھا جو آج ہمارے لیے بھی نمونہ ہے اور ایمان کی علامت ہے۔
یہ واقعات میں نے اس لیے عرض کیے ہیں کہ ہمیں بھی آج اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے اور امریکہ نام کی ایک بڑی طاقت ہمیں اپنا غلام بنائے رکھنے یا کچل دینے کے لیے ادھار کھائے ہوئے ہے۔ اور ہمیں اپنی خود مختاری اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے اس کی بالادستی اور سازشوں کی دلدل سے نکلنا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اپنا کر اور آپؐ کے نقشِ قدم پر چل کر ہی ہم اس دلدل سے نجات حاصل کر سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔