دنیا کی سیاست میں بعض منصوبے ایسے ہوتے ہیں جو اعلان کے لمحے میں تو تاریخ کا دھارا موڑ دینے کے دعوے کرتے ہیں، مگر وقت کی گرد ان پر اس تیزی سے بیٹھ جاتی ہے کہ چند ہی ماہ بعد وہ کسی بھولی ہوئی فائل کی طرح سفارتی میزوں کے کنارے پڑے رہ جاتے ہیں۔ غزہ کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیش کیا گیا امن منصوبہ اور اس کے تحت قائم کی گئی امن کونسل بھی شائد اسی انجام کی طرف بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔یہ وہ منصوبہ تھا جسے غیر معمولی اہتمام اور بلند بانگ دعوئوں کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔ کہا گیا کہ یہ صرف غزہ کی تعمیرِ نو کا پروگرام نہیں بلکہ عالمی امن کے ایک نئے نظام کی بنیاد ہے۔ اعلان کے وقت یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ یہ ادارہ اپنی نوعیت میں اتنا مثر ہوگا کہ اقوامِ متحدہ جیسے پرانے عالمی اداروں کی ناکامیوں کی تلافی کر سکے گا، بلکہ شائد ان کی جگہ بھی لے سکے۔جنوری 2026ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں جب اس منصوبے کا باضابطہ آغاز کیا گیا تو سفارت کاری کے ایوانوں میں ایک غیر معمولی ہلچل پیدا ہو گئی۔ چوبیس ممالک نے اس میں شمولیت اختیار کی، اربوں ڈالر کی امداد کے وعدے کئے گئے اور یہ اعلان کیا گیا کہ غزہ کو جنگ کے ملبے سے نکال کر ایک غیر مسلح اور پرامن خطہ بنایا جائے گا۔ تعمیر نو کے لئے ایک جامع پروگرام ترتیب دیا گیا جس میں سیاسی نظم و نسق کی ازسرِنو تشکیل سے لے کر بنیادی ڈھانچے کی بحالی تک ہر مرحلے کا تفصیلی خاکہ شامل تھا۔اس وقت یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے غزہ کی طویل اور المناک داستان میں شاید کوئی نیا باب کھلنے والا ہے۔ لیکن تاریخ اکثر بڑی بے رحمی سے امیدوں کے دھاگے توڑ دیتی ہے۔
ایران پر گرنے والی پہلی گولہ باری نے صرف ایک نئی جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ عالمی ترجیحات کی پوری ترتیب کو بدل کر رکھ دیا۔ مشرقِ وسطیٰ کے افق پر جب جنگ کے بادل گہرے ہوئے تو غزہ کے لئے قائم کی گئی امن کونسل کا چراغ بھی آہستہ آہستہ مدھم پڑنے لگا۔جو منصوبہ چند ہی ہفتے پہلے عالمی سفارت کاری کا مرکز تھا، وہ اب عالمی سیاست کے شور میں کہیں دب کر گم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔اصل مسئلہ صرف توجہ کا بٹ جانا نہیں۔ جنگوں کی اپنی ایک معاشی اور سیاسی منطق ہوتی ہے جو اکثر دوسرے تمام منصوبوں کو نگل جاتی ہے۔ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ محاذ آرائی پر روزانہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ ایسے میں غزہ کی تعمیر نو کے لئے کئے گئے وعدے خود بخود پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔یہ ایک عجیب اور تلخ تضاد ہے کہ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی طاقت روزانہ اربوں ڈالر جنگ پر صرف کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف غزہ میں تقریباً بیس لاکھ انسان ایسے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں خوراک، ایندھن اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات بھی نایاب ہو چکی ہیں۔غزہ کی گلیاں آج بھی ملبے سے اٹی ہوئی ہیں۔ کئی محلے ایسے ہیں جہاں زندگی کی کوئی واضح علامت باقی نہیں رہی۔ اکتوبر 2023 ء سے جاری تباہی نے اس چھوٹے سے محصور خطے کو انسانی المیوں کی ایک دردناک علامت بنا دیا ہے۔ جنگی سیاست کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی توجہ جب کسی دوسرے بحران کی طرف منتقل ہو جاتی ہے تو پرانے بحرانوں میں پھنسے لوگ مزید تنہا ہو جاتے ہیں۔ غزہ کے ساتھ اس وقت یہی ہو رہا ہے۔سرحدی گزرگاہوں پر کنٹرول بدستور اسرائیل کے پاس ہے۔ امدادی سامان کی آمد محدود ہے اور تعمیر نو کے نام پر کئے گئے وعدے ابھی تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ ایسے میں اسرائیل پر دبائو ڈالنے والا کوئی موثر عالمی فریم ورک بھی نظر نہیں آتا۔درحقیقت جس امن کونسل کو اس مسئلے کے حل کے لئے قائم کیا گیا تھا، اس کی ساخت ہی ایسی تھی کہ اس میں طاقت کا حقیقی توازن موجود نہیں تھا۔ فیصلوں کا مرکز واشنگٹن تھا جبکہ باقی ممالک کا کردار زیادہ تر حمایتی یا علامتی نوعیت کا دکھائی دیتا تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ جب حالات نے کروٹ بدلی تو اس پورے منصوبے کی رفتار بھی رک گئی۔اب صورتحال یہ ہے کہ اس منصوبے سے وابستہ سفارتی سرگرمیاں بھی تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ وہ امریکی نمائندے جو پہلے اس منصوبے کی نگرانی کر رہے تھے اب ایران کے بحران اور خطے کی نئی کشیدگیوں میں مصروف ہیں۔ ملاقاتیں ملتوی ہو چکی ہیں اور وہ سرگرمی جو کبھی اس منصوبے کے گرد دکھائی دیتی تھی اب کہیں نظر نہیں آتی۔اس کے ساتھ ساتھ معاشی عوامل بھی اس منصوبے کے راستے میں آ کھڑے ہوئے ہیں۔ خلیجی ممالک جنہوں نے تعمیرِ نو کے لیے بڑی مالی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا، اب خود ایک غیر یقینی معاشی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی کشیدگی اور توانائی کی عالمی منڈیوں میں اتار چڑھا نے ان کی ترجیحات کو بدل دیا ہے۔جب تیل کی ترسیل خطرے میں ہو اور خطے میں جنگ کے آثار نمایاں ہوں تو کسی دور افتادہ تعمیراتی منصوبے کے لیے اربوں ڈالر نکالنا آسان نہیں رہتا۔
سیاسی سطح پر بھی کئی ممالک نے اپنے وعدوں پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔ کچھ ممالک نے غزہ میں ممکنہ امن فورس بھیجنے کے فیصلے پر دوبارہ غور شروع کر دیا ہے کیونکہ جب منصوبہ ہی غیر یقینی ہو تو اس میں عملی شرکت بھی ایک خطرہ بن جاتی ہے۔اس تمام صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ غزہ کے مستقبل کا فیصلہ آخر کس کے ہاتھ میں ہوگا؟کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس کا انحصار ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے انجام پر ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل اس محاذ پر خود کو مضبوط پوزیشن میں پاتے ہیں تو ممکن ہے وہ غزہ کے بارے میں اپنی شرائط مزید سخت کر دیں۔ ایسی صورت میں تعمیر نو کا عمل بھی طاقت کے اسی توازن کے تحت آگے بڑھے گا۔لیکن اگر جنگ طویل ہو گئی یا اس نے اسرائیل کو سیاسی اور عسکری دبائو میں مبتلا کر دیا تو حالات کا رخ مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ غزہ کا مسئلہ صرف تعمیر نو کا نہیں بلکہ طاقت اور مزاحمت کے پیچیدہ توازن کا بھی ہے۔ اسرائیل مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی سیاسی حل سے پہلے فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے۔ یہی مسئلہ آئندہ بھی مذاکرات کے ہر مرحلے میں ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آ سکتا ہے۔یوں دیکھا جائے تو وہ منصوبہ جو کبھی عالمی امن کے ایک نئے باب کے طور پر پیش کیا گیا تھا اب خود عالمی سیاست کے بدلتے منظرنامے کا شکار ہو چکا ہے۔تاریخ کا یہ ایک پرانا سبق ہے کہ جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں، وہ خوابوں، منصوبوں اور امیدوں کو بھی نگل جاتی ہیں۔غزہ کے لئے بنائی گئی امن کونسل شائد اسی حقیقت کی ایک تازہ مثال ہے۔ ایک ایسا خواب جو بلند بانگ دعوئوں کے ساتھ شروع ہوا مگر جنگ کی پہلی گونج کے ساتھ ہی دھند میں کھو گیااور ملبے کے درمیان زندگی گزارنے والے لاکھوں انسان آج بھی اسی سوال کے ساتھ انتظار میں ہیں،کیا کبھی غزہ میں واقعی امن آئے گا؟