Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

کیرالہ کی زبیدہ، انسانیت کی انمول کہانی

ہمارے ارد گرد کہانیاںاپنے اندر موجود نت نئے کرداروں کے ساتھ بکھری پڑی ہیں۔ ہنساتے، رلاتے، دل بہلاتے اور زندگی کی اونچ نیچ کا درس دیتے ان کرداروں میں سے کچھ تو امر ہوکر معاشرے سے ستائش اور قدر حاصل کر لیتے ہیں ۔ کچھ داستانیں مگر اپنے کرداروں کے ساتھ ہی تاریخ کے بہتے پانیوں میں ڈوب جاتی ہیں اور کبھی سامنے نہیں آتیں۔ کچھ لازوال کردار ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی داستان ان کے جانے کے بعد سامنے آتی ہے اور ایک دنیا کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ایسی ہی ایک کہانی کیرالہ کی زبیدہ کی بھی ہے ۔یہ کہانی ایک عورت کی بھی ہے، ایک ماں کی بھی ہے اور انسانیت سے بھرے ایک دل کی بھی۔
ہندوستان کی ریاست کیرالہ اپنی خوبصورتی، تعلیم اور سماجی ہم آہنگی کے لئے مشہور ہے۔ کیرالہ کے مالاپورم ضلع میں نیلمبور کے قریب ’’کالیکا ووـ‘‘ گائوں میں ایک مسلمان خاندان آباد تھا۔اس خاندان سے ایک ایسی متاثر کن کہانی جڑی ہوئی ہے جو انسان دوستی، ہمدردی اور ایثار کا ایک انمول نمونہ پیش کرتی ہے۔ گھر کے سربراہ حاجی عبدالعزیز تھے ۔ حاجی صاحب کی اہلیہ زبیدہ ایک نیک دل مسلم خاتون تھی جنہوں نے اپنی عملی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ اصل عظمت اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے جینے میں ہے۔ یہ ایک روایتی، مذہبی اور متوسط مگر خوش حال گھرانہ تھا جہاں دینی تعلیمات کا پرتو ہر طرف نظر آتا تھا۔حاجی صاحب کی چھوٹی سی ایک دکان ہی ان کا کاروبار تھی جس کے زریعے اپنے خاندان کی گزر بسر کا بندوبست کرتے تھے۔زبیدہ کا ہاتھ بٹانے کے لئے ان کے گھر ایک ہندو خاندان کی عورت’’چکی‘‘ کام کرنے کے لئے آتی جاتی تھی۔ چکی کی مالی حالت انتہائی کمزور تھی اور وہ اسی طرح گھروں میں کام کاج کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی تھی۔ اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ تنہا اپنے تین بچوں کی پرورش کا بار اٹھائے ہوئی تھی۔ چکی کا اس مسلم گھرانے سے تعلق محض ایک نوکرانی والا نہ تھابلکہ وہ زبیدہ کی قریبی سہیلی جیسی بن چکی تھی۔ سلسلہ روز و شب اسی طرح رواں دواں تھا کہ ۱۹۷۶ میں چکی ایک پیچیدہ بیماری کے ہاتھوں لقمہ اجل بن گئی اور اپنے پیچھے اپنی بڑی ۱۱ سالہ بیٹی رمانی ، ۶ سالہ بیٹی لیلا اور ایک چند ماہ کے ننھے اور شیر خوار بچے شری دھارن کو اس دنیا میں اکیلا چھوڑ گئی۔ کوئی قریبی عزیز رشتہ دار یا تو تھا نہیں یا تھا بھی تو ان کے سر پر دست ہمدردی و شفقت رکھنے کو تیار نہ تھا۔
چکی کی اس اچانک موت نے زبیدہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسے اور تو کچھ نہ سوجھا، بچوں کو لے کر اپنے گھر آگئی او ر بچوں کی دیکھ بھال کا ذمہ اپنے سر لے لیا۔حاجی صاحب نے بھی زبیدہ کے اس انسان پرور اقدام پر کوئی اعتراض نہ کیا بلکہ اس معاملے میں زبیدہ کا بھرپور ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اس دور میں بچوں کو اپنانے کا کوئی قانونی ذریعہ نہیں ہوتا تھا سو کسی قانونی پیچیدگی کا سامنا بھی نہ تھا۔ یوں بچوں کو ایک چھت بھی مل گئی اور ممتا کی چھائوں بھی۔ لیکن یہ فیصلہ بہت سے حوالوں سے آسان نہ تھا۔ بچوں کا دین دھرم ہندو تھا، حاجی صاحب، زبیدہ اور ان کے تین بچے سچے پکے مسلمان ۔
گھر میں چھہ بچے ہو گئے تھے ، تین مسلم،تین ہندو مگر محبت میں کوئی فرق نہیں تھا۔ سب ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے ، لڑتے ، ہنستے ایک خاندان کی طرح بن گئے ۔مالی وسائل پر آئے بوجھ کی پرواہ کئے بغیر زبیدہ نے چکی کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سنبھالا ان پر اپنے دین سے الگ ہونے پر کوئی جبر نہی کیا۔ ان کو ہر قسم کی مذہبی آزادی دی اور وہ اپنے عقائد، رسومات کے مطابق اپنے تہوار مناتے رہے۔زبیدہ ان سے کہتی تھی ’’ میں تمہاری ماں کی جگہ تو نہیں لے سکتی، لیکن تم میری اولاد ہو‘‘۔ چکی کی بچیاں جوان ہوئیںتو زبیدہ نے ان کی شادیاں بھی دھوم دھام سے انجام دے کر ان کو اپنے اپنے گھروں میں رخصت کر دیا۔اسی طرح چھوٹے ننھے بچے شری دھارن کو بھی تعلیم دلوائی، مکمل پرورش کی اور آج وہ ایک تعلیم یافتہ خوشحال آدمی ہے۔یہ کہانی دنیا کی نظروں سے اوجھل رہی اور پھر تب سامنے آئی جب ۲۰۱۹ میں زبیدہ انتقال کر گئی۔تب چکی کے اس بیٹے نے فیس بک پر ایک جذباتی پوسٹ کی اور زبیدہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس نے ’’امی‘‘ کا لفظ استمعال کیا۔ پورا بھارت اور دنیا چونک گئی کہ ایک ہندو انسان کی ایک مسلمان امی کہاں سے آگئی۔تب یہ با کمال داستان دنیا کے سامنے آئی۔ دو سال بعد حاجی عبدلعزیز بھی دنیا سے رخصت ہو گئے مگر یہ خاندان آج بھی ایک دوسرے کے ساتھ عزت احترام سے جُڑے ہوئے ہیں۔۲۰۲۳ء میں اس کہانی پر ایک فلم بھی بنی جس کا نام ’’ENNU SWANTHAM SREEDHARAN‘‘ یعنی ’’ تمہارا اپنا شری دھارن ‘‘ تھا۔
زبیدہ کی یہ کہانی انسانیت کی اہمیت اجاگر کرنے والی ایک انمول کہانی ہے جہاں زبیدہ نے انسانیت اور بچوں کی تعلیم و پرورش اور ان کی ذہنی آسودگی پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ شائد زبیدہ کے ذہن میں یہ خوف سما گیا ہو کہ اگر مذہب کے حوالے سے زور زبردستی کی گئی تو کہیں یہ سارا ماحول ہی مجروح نہ ہو جائے، کہیں بچے بدذن ہو کر گھر نہ چھوڑ جائیں اور کہیں پھر سے اس بھری دنیا میں اکیلے نہ رہ جائیں۔ انسانیت کو مذہب پر فو قیت دینے کے پیچھے زبیدہ کی چاہے کوئی بھی سوچ ہو، حقیقت یہ ہے کہ آخر میں فتح اور سربلند دین اسلام ہی ٹھہرا کی اسلام بھی انسانیت کا ہی درس لے کر آیا ہے۔ آج زبیدہ کے کردار کو جہاں سراہا جاتا ہے وہیں اسلام کے درسِ انسانیت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
زبیدہ نے جس حکمت، تدبر اور جانفشانی سے مذہب کی دیواروں کو گرائے بغیر صرف انسانیت سے خاندان کو جوڑ کر رکھا ، یہ ہمارے معاشرے کو بھی ایک پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنے اندر موجود تفرقات کو نفرتوں اور کدورتوںکو پھیلانے کا زریعہ نہ بنائیں۔ اپنے اپنے مذاہب، عقائد یا مسالک پر چلیں مگر دوسروں سے اس بنیادپرلڑائی جھگڑے سے گریز کریں، انسانیت کی مشترکہ اقدارسے ایک دوسرے کو جوڑ کر ایک مضبوط زنجیر بن جائیں ۔یہی اس کہانی اور زبیدہ کا پیغام ہے۔

یہ بھی پڑھیں