Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ابو اور عید

عید آئی اور گزر گئی ۔یونہی وقت آتا اور چلا جاتا ہے۔ گئی رتوں اور بہاروں کو کتنا ہی پکارا جائے ، وہ لوٹ کر نہیں آتیں۔ پانی کے بہتے ریلوں کی طرح بچھڑنے والے توکبھی واپس نہیں آتے مگر ان کی یادیں لہروں کی طرح دل سے ٹکراتی اور طوفان اٹھاتی رہتی ہیں۔ شیکسپیئر نے کہا تھا کہ یہ دنیا ایک سٹیج ہے جہاں ہر شخص اپنا اپنا کردار ادا کر تا ہے اور چلا جاتا ہے۔ سچ بھی یہی ہے کہ ہر کردار کی اپنی ایک کہانی اور اپنا ایک وقت ہوتا ہے جس کے بعد وہ منظر سے جدا ہو جاتا ہے۔شیکسپیئر کے اس قول میں تھوڑی ترمیم کر کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انفرادی کردار اپنی جگہ مگرہرکہانی کا ایک مرکزی کردار بھی تو ہوتا ہے جو باقی کرداروں پر اپنی شخصیت اور صفات سے اثر انداز ہو رہا ہوتا ہے۔یہ مرکزی کردار جب کہانی سے نکلتا ہے تو اس کے گرد جُڑے ہر کردار کی کہانی بھی ایسے بھٹکے مسافر کی سی ہو جاتی ہے جو اچانک اپنا راستہ اور سمت بھول گیا ہو۔ہمارے خاندانی نظام اور رہن سہن میں عموما ایسے مرکزی کردار اور بزرگ موجود ہوتے ہیں جن کے جانے کے بعد زندگی کی چاشنی اور رعنائی میں وہ پہلی سی بات نہیں رہتی۔ ہمارے والد (عرفان صدیقی صاحب) بھی ہم سب کی کہانیوں کا مرکزی کردار تھے جن کے جاتے ہی ہماری کہانی میں نہ وہ رنگ روپ رہا، نہ وہ دلچسپی اور نہ وہ روانی رہی۔ہر موڑ پر ان کی کمی کا احساس نمایاں ہے۔عید تو پہلے بھی آتی تھی اور آیندہ بھی آتی رہے گی مگر یہ عید ان کے بنا پہلی عید تھی۔عید کی نماز پڑھتے ہی ایک احساسِ جدائی نے جکڑ لیا، اب وہ نہیں تھے جو گلے لگاتے تھے تو عید کا حقیقی لطف حاصل ہوتا تھا۔عید کے دن ابو کا معمول ہوتا تھاکہ گھر میں کچھ وقت گزار کر راولپنڈی اپنے والدین کی قبور پر حاضری دینے جاتے تھے۔ آج ہم سب بہن بھائی والدہ سمیت ابو کی آخری آرام گاہ پر ان کے لئے دعا گو تھے۔ قبر کو ہم نے پھولوں سے ڈھک دیا تھا۔ آج تو ہر قبر کا یہی حال تھا ، قبرستان پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔شہرِ خاموشاں میں اس دن لوگوں کا ایک سمندر تھا۔ بچھڑ جانے والوں سے ملنے کا تو بس یہی ایک طریقہ ہے کہ ان کے سرہانے بیٹھ کر ان کے لئے دعا کی جائے۔اسلام آباد کے قبرستان روایتی قبرستانوں سے خاصے مختلف ہیں۔ یہاں قبروں کی ایک ترتیب ہے، نظم و ضبط ہے اور صفائی ستھرائی کا باقائدہ انتظام بھی۔اسلام آباد اور خصوصا قبرستان کی انتظامیہ اس حوالے سے داد کے مستحق ہیں۔عید کا تہوار تو اللہ نے خوشیوں کے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔ ابو کے بناء پہلی عید اور ان کی کمی کا احساس اپنی جگہ، لیکن یہ سوچ کر دل مضبوط ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کو بڑے با کمال انداز میں گزارا۔ جہاں جس شعبے میں قدم رکھا وہاں اس قدم کو جمایابھی اور ایک نام اور مقام پایا جو ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ان کی شخصیت سراپا تبسم تھی۔ وہ جہاں جس محفل میں بیٹھتے ، اس محفل کا رنگ ہمیشہ دلکش اور خوشگوار رہتا ۔ ان کو ہم نے کبھی کسی موقع پر اداس نہیں پایا ۔ یہی وجہ ہے کہ عید کے دنوں میں ان کی جدائی کی مغموم کیفیت کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان کی جا بجا بکھری مسکراتی یادوں کو تازہ کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ان کے ساتھ بیتے لمجات کی خوبصورت یادیں اور باتیں یاد آتیں چلی جا رہی ہیں۔وقت بھی کتنا تیز رفتار ہے کہ ابھی انسان ٹھیک سے دیکھ بھی نہیں پاتا کہ پردے پر منظر بدل جاتا ہے۔کچھ باتیں یاد رہتی ہیں اور کچھ بھول جاتی ہیں۔
ابو نے اپنی صلاحیتوں کی بدولت اقتدار کے ایوانوں اورطاقتوروں کے دربار تک رسائی حاصل کی مگر اپنی سادہ دل اور حلیم طبیعت پر اس کا کبھی اثر نہیں ہونے دیا۔ وہ جتنے بڑے انسان گھر سے باہر تھے، اپنی گھریلو اور زاتی زندگی میں اس سے کہیں بڑے انسان تھے۔ اسی حوالے سے آج ان کا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ یہ غالبا ۱۹۹۵ کے آس پاس کی بات ہے، اس وقت موبائل فون نہیں ہوتے تھے ۔ میں ان دنوں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔ میرا ایک دوست فیصل آباد سے اچانک مجھ سے ملنے گھر آگیا۔اتفاق سے گھر پر ابو کے سوا کوئی نہ تھا۔ جب میں گھر پہنچا تو ابو نے بتایا کہ تمہارا کوئی دوست آیا بیٹھا ہے۔ میں فورا بیٹھک میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دوست آرام سے اپنے سامنے رکھی چائے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ کہنے لگا’’ میں بہت شرمندہ ہوں، اچانک آگیا،آپ کے والد محترم نے مجھے یہاں بٹھاکر انتظار کرنے کو کہا اور تھوڑی دیر بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ گھر کا اندرونی دروازہ کھلتا ہے اور آپ کے والد ہاتھ میں چائے کی ٹرے اٹھائے اندر آتے ہیں اور میں اٹھ کر ان کے ہاتھ سے لے لیتا ہوں‘‘۔ تب میں نے اس دوست کو بتایا کے چائے بھی ابو نے خود بنائی ہے کیونکہ گھر میں تو کوئی اور ہے ہی نہیں۔میرا یہ دوست ابو کی وفات پر کہنے لگا کہ’’ مجھے آج بھی ان سے وہ پہلی ملاقات یاد ہے اور میںپہلے تعارف ہی میں ان کی سادگی اور عظمت کا قائل ہو گیا تھا، آپ کے والد ایک بہت عظیم انسان تھے‘‘۔سچ یہی ہے کہ ابو سے وابسطہ ایسی کتنی خوشگوار یادیں ہیں جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔
ابو اور شہر خموشاں کے باسیوں کے لئے دعا کے بعد ہم قبرستان سے نکل آئے۔ اب پھر وہی شور ہے اور وہی ہنگامہِ زیست ہے۔۔مرکزی کردار کے بنا اب ہماری کہانیوں میں ایک خلا ہے مگر، ہمیں یقین اور امید ہے کہ ابو کی شخصیت اور دی ہوئی رہنمائی کے چراغ ہماری زندگیوں کوہمیشہ روشن کئے رکھیں گے۔ابو کی ایک نظم کے اشعار ہیں
بہار کی مشکبو دنوں کی حسیں رتوں میں بھی کیا رہے گا
جو تم نہیں تو گلاب کھلنے کے موسموں میں بھی کیا رہے گا
نئی رتوں میں مجھے بھلانے کے سو بہانے ملیں گے تم کو
پرانی رت کو بھلا دیا تو نئی رتوں میں بھی کیا رہے گا

یہ بھی پڑھیں