Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

جمہوریت کے سائے میں خون

(گزشتہ سے پیوستہ)
استغاثہ کے مطابق،مئی2023ء میں انڈین حکومت کے ملازم وکاش یادونے گپتاکوگرپتونت سنگھ پنوں کوقتل کرنے کی ذمہ داری سونپی۔دہلی میں ملاقات کے ذریعے قتل کی ممکنہ منصوبہ بندی کی گئی۔ یادوکابینہ سیکریٹریٹ میں کام کرتے تھے،جہاں انڈین خفیہ ایجنسی ’’را‘‘کادفتربھی موجودہے۔یہ منظرسیاسی سازشوں کی کالی جالی کی مانندہے۔ یادوشی حکم پر گپتا نے امریکی خفیہ افسرسے رابطہ کیا،جوخودکوقاتل ظاہرکر رہاتھا۔اس نے قاتل کاکرداراداکرکے گپتاکو پنوں کی معلومات فراہم کیں،جن میں گھراورفون نمبرشامل تھے۔یہ ایک تمثیل ہے کہ جہاں دھوکہ اورمکاری چھپی ہو،وہاں انصاف کی آنکھ ہمیشہ جاگتی ہے۔مبینہ طورپرگپتا نے نجرکے قتل کے بعدمزیداہداف کی فہرست ’’اجرتی قاتل‘‘کودی۔ کینیڈا نے ان الزامات کی روشنی میں انڈیاپرتنقیدکی،مگر بھارت نے ان کی سختی سے تردیدکی۔یہ واقعہ عالمی سیاست کے پیچ وخم میں اخلاقی امتحان کی ایک دلیل ہے۔6مئی2024ء کوکینیڈاکی پولیس نے تین انڈین شہریوں کوگرفتارکیا،جونجرکے قتل میں ملوث تھے۔ نجروینک وورکے گرونانک سکھ گرودوارے کے صدرتھے اور18جون 2023ء کوقتل ہوئے۔ گرفتار افراد کرن برار،کرن پریت سنگھ،اورکمل پریت سنگھ ہیں،جو مغربی پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ سازش سے پتہ چلتاہے کہ سازش صرف کسی ایک فردتک محدودنہیں،بلکہ یہ ایک جالی دارمنصوبہ ہے۔14ستمبر2023ء کوخالصتانی رہنماں کے پراسرارقتل اورتجارتی معاہدے پرجھٹکے کے باعث کینیڈا اور انڈیا کے کشیدہ تعلقات عروج پرپہنچ گئے۔وزیراعظم جسٹن ٹروڈونے انڈین حکومت کے ایجنٹوں کے ملوث ہونے کاالزام لگایا،جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی۔یہ ایک ایسالمحہ تھاجہاں سیاست اور اخلاقیات کاٹکراعیاں ہوا۔جی20اجلاس میں شریک کینیڈاکے وزیراعظم ٹروڈودودن تک انڈیامیں پھنسے رہے،اورکینیڈا نے تجارتی بات چیت معطل کردی۔کینیڈاکی وزیر تجارت میری این کے ترجمان نے تصدیق کی کہ دوطرفہ تجارتی مذاکرات روک دیے گئے ہیں۔جی20اجلاس میں کشیدہ ملاقات کے دوران مودی اورٹروڈو کے درمیان گرما گرم بحث میں سکھ علیحدگی پسندتحریک اورسفارتی مسائل زیربحث آئے۔یہ منظرسیاسی ڈرامے کی مانندہے، جس میں ہرلفظ کاوزن ہے۔مودی حکومت سکھ علیحدگی پسندوں کی بین الاقوامی مقبولیت اورانڈین سفارتکاروں کے خلاف تشددسے ناخوش تھی۔یہ ایک تاریخی منظرہے جہاں طاقت اور مزاحمت کی کشمکش عیاں ہوتی ہے۔ٹروڈونے کہاکہ انڈیا کی کارروائیاں کینیڈاکی ملکی سیاست میں مداخلت کے مترادف ہیں۔یہ ایک عبرت آموزواقعہ ہے کہ یہ تمام واقعات عالمی سیاست میں طاقت،اثرورسوخ اور اقلیتوں کے حقوق کے تناظر میں ایک نیااورمتنازع باب کھولتے ہیں۔یہ اس بات کاثبوت ہے کہ دنیاکی سیاست بھی ایک شطرنج کی طرح ہے،جس میں ہرچال کی قدر دانی ضروری ہے۔یہ ایک ایسی کہانی ہے جوسچائی اوراخلاقیات کی روشنی میں پڑھی جاتی ہے۔یہ سلسلہ اس بات کاروشن ثبوت ہے کہ سیاسی،مذہبی،اورسفارتی طاقتیں انسانی حق و انصاف کے آئینے میں کس طرح جھلکتی ہیں۔ ہرواقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی، قانون،اور انصاف کی روشنی میں حقیقت کوچھپایانہیں جاسکتا،اورعالمی ضمیرہمیشہ بیداررہتاہے۔
یہ خون آلودصفحات،یہ مجرمانہ سازشیں،اوریہ تاریخی مظالم ہمیں یاددلاتے ہیں کہ طاقت، سیاست اورمذہب کاکھیل انسانی زندگی کے حقوق اور وقارکوکبھی ختم نہیں کرسکتا۔ان تمام مظالم کی روشنی میں یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ بھارت کی طاقتورحکومتیں جمہوریت کے نام پرنہ صرف اقلیتوں کے بنیادی حقوق کودباتی ہیں،بلکہ عالمی سطح پربھی خوف ودھمکی کے سائے ڈالتی ہیں۔1984ء کے گولڈن ٹیمپل حملے میں شہید ہونے والے دولاکھ سکھوں کی قربانی اورچھتی سنگھ پورہ میں بے رحمانہ قتل عام یہ ثابت کرتاہے کہ ریاستی طاقت کس طرح
مذہبی اور نسلی منافرت کے آڑمیں انسانی وقار کو پامال کرسکتی ہے۔گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی اور چھتی سنگھ پورہ کاخون تاریخ کے صفحات پرہمیشہ زندہ رہیں گے، تاکہ نسل درنسل یاد دلایا جاسکے کہ ظلم کی انتہاکہاں تک جاسکتی ہے۔
یہ سانحات نہ صرف سکھ برادری کے لئے ایک تاریخی زخم ہیں،بلکہ عالم انسانیت کے لئے ایک عبرت ہیں۔ان مظالم کی حقیقت کوچھپانا،تاریخ کی روشنی کومسخ کرنے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈین خفیہ ایجنسی راکی منصوبہ بندی اورریاستی سازشیں اقلیتوں کی آزادی اور انسانی حقوق کے لئے ایک مسلسل خطرہ رہی ہیں۔یہ سازشیں،چاہے وہ امریکی زمین پر قتل کی منصوبہ بندی ہویاکشمیری آزادی کی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش،ایک واضح مثال ہیں کہ طاقت کے غلط استعمال کاانجام صرف ظلم اورخون ریزی کے سواکچھ نہیں ہوتا۔
اقوام عالم کویہ یادرکھناچاہیے کہ بھارت کے اس تعصب اورمکاری کے سائے میں جمہوریت کے مینارجھک گئے ہیں۔یہ وہ لمحے ہیں جب انسانی ضمیر بیدار ہوناچاہیے،تاکہ آئندہ نسلوں کوایسے مظالم سے محفوظ رکھاجاسکے۔تاریخ کی عدالت میں یہ تمام واقعات ہمیشہ ریکارڈرہیں گے،اورسچائی کے علمبردارکبھی خاموش نہیں رہیں گے۔دولاکھ سکھوں کی قربانی، ہزاروں معصوم جانوں کاخون،اورعالمی دباؤکے باوجود دبائی جانے والی رپورٹیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ ظلم کی جڑیں گہری ہوسکتی ہیں،لیکن حقیقت کبھی چھپ نہیں سکتی۔
یہ سانحات،یہ خون آلودصفحات،اوریہ مجرمانہ سازشیں ایک سبق ہیں:طاقت،سیاست اورمذہب کاکھیل انسانی زندگی کے حقوق اوروقارکوکبھی نہیں مٹا سکتا اورعدل وانصاف کی کرن ہمیشہ ظلم کے سائے میں روشنی ڈالتی رہے گی۔اقوام عالم کویادرکھنا چاہیے کہ بھارت کی مکاری اور متعصب ہندوتواکی حکمرانی کے سائے میں جمہوریت محض ایک فریب ہے۔مگرحقیقت ہمیشہ سامنے آتی ہے،اور انصاف کی کرن ظلم کی تاریکی میں بھی روشنی ڈالتی ہے۔یہی سبق ہے جوانسانی ضمیر،تاریخ،اورآئندہ نسلوں کے لئے ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں