Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

نئی سحر ہے، نیا آفتاب اترا ہے

آج کل سب سے زیادہ پوچھاجانےوالا سوال یہ ہےکہ ایران کا مستقبل کیا ہے اور وہ کب تک مقابلہ کرنےکی سکت رکھتاہےکیونکہ اسکاسامنادنیا کی بڑی فوجی طاقت امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہے۔ اس سوال کا جواب دینے کےلئے ہم دو ذرائع استعمال کر سکتے ہیں ایک ظاہری اسباب اور دوسرایہ کہ بلاشبہ ایران نےجس منظم اندازمیں اپنی عسکری اور سیاسی قیادت اورعوام کی جس طرزپرعملی تربیت کی ہے اس کے سامنے استعماری قوتیں بے بس ہوجائیں گی۔
آج تک کی جو صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے دوسرا امکان زیادہ نظر آرہا ہے۔ اسے مشاہدے کی نظر دیکھ بھی سکتی ہے اورجسے محسوس بھی کیا جاسکتا ہے۔ احساس اوربصیرت کی آنکھ کو اگر فطرت کی عینک لگا کردیکھا جائے تو تاریخ کا سبق یہ ہےکہ جارح اور انسانیت کی قاتل عالمی استعماری قوتوں کا انجام سبق آموز رہا ہے۔ راقم یہ بات کسی جذباتی کیفیت سے مغلوب ہوکر اپنےقارئین سےشیئر نہیں کررہا بلکہ میدانی حقائق کو سامنے رکھا جائےتو یہ بات ثابت ہوجاتی ہےکہ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانےکا سامراجی منصوبہ ہمیشہ سےاستعماری طاقتوں کے بین الاقوامی ایجنڈا میں سر فہرست رہا ہے، کبھی عراق کے ہاتھوں کبھی دیگر خلیجی ریاستوں کے توسط سے ایران کو معاشی اور عسکری میددان میں تباہ و برباد کرنے میں کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی گئی مگر اس کے باوجود ایران نہ صرف سیاسی بلکہ ریاستی اور معاشی مضبوط ڈھانچہ تعمیر کرنے میں مکمل طور پر سرخرو رہا ہے جہاں تک عسکری قوت اور صلاحیت کا تعلق ہے تو اس کا مظاہرہ اور نتائج آج آپ کے سامنے ہیں۔ ایک لمحہ کے لئے بھی بین الاقوامی سطح پر نشرواشاعت کی مکمل آزادی کے باوجود یہ تاثر نہیں مل رہا کہ ایران کسی طرح بھی عسکری اعتبار سے ایک کمزور ریاست ہے۔ راقم کی نظرمیں آج کی تاریخ تک نتائج کو سامنے رکھتے ہوئےمشاہدہ میں آنے والی بات یہ ہے کہ ایران نے ساری عالمی برادری کو نہ صرف ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہےبلکہ یہ سوچنے پر بھی مجبور کردیا ہے کہ وہ کون سی طاقت ہے وہ کون سا Factor ہے اور وہ کون سی حکمت عملی ہے جس نے ایران کو پوری دنیا میں ایک منفرد اور لازوال مملکت کے طور پر لاکھڑا کیا ہے؟
راقم ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعادہ کر رہا ہے کہ میرے یہ خیالات نہ تو کسی دینی اور مذہبی تعصب کا نتیجہ ہیں اور نہ ہی کسی وابستگی کی بنیاد پر راقم ان الفاظ کو سپرد قلم کر رہا ہے۔ بالکل غیر جانبداری سے یہ وہ احساس اور Feeling ہے جس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ہمارے لئے ایک انتہائی سبق آموز بات اور وہ یہ ہے کہ وطن عزیز جس قدر وسائل سے آراستہ ہے خاص طور پر دفاعی اور جوہری طور پر ہم جس قدر بہتر پوزیشن میں ہیں اس کے ساتھ ساتھ اگر ہماری توجہ قوم ساری کی طرف بھی مرکوز ہو تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی سالمیت اور اس کے وجود کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی۔ ذرا سوچئے کیا یہ ایک معجزہ نہیں ہے کہ ہم اپنی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود دنیا کے نقشے پر ایک مضبوط دفاعی ریاست کے طورپر جانے جاتےہیں۔ اگرکمی ہےتومحض انفرادی، اجتماعی، معاشرتی تربیت کی، اس سلسلہ میں نظریاتی اور اخلاقی سمت کو درست کر لینے سے ہم اس ہدف کو بھی حاصل کر سکتے۔ عوام الناس کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت ہی ایک واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک قوم بن سکتے ہیں۔ جیسا کہ ایران کی ریاست اور معاشرہ اپنے اجتماعی، قومی، ملی، علمی اور تہذیبی مفادات پر مکمل طور پر پہرہ دیتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
ذرا سوچیے کہ تقریباً اسی فیصد سے زیادہ ایران کی صف اول کی سیاسی اور عسکری قیادت کو شہادت کے رتبے پر پہنچانے کا باوجود آج بھی اسی استقامت،قوت اور اتحاد کے ساتھ عسکری آپریشز میں اضافہ ہو رہا ہے اور جہاں تک ایران کے قومی مورال کا تعلق ہے یوں محسوس ہوتاہےجیسے ایرانی قیادت نےاسےاپنےخون سےسینچ دیاہو۔ اس قدر خوداعتمادی اور بےخوفی، عزم و ہمت کی یہ منہ بولتی تصویرچشم فلک نے شاہد ہی اس سے قبل دیکھی ہو، جس قدر ایران کی قیادت بےخطر اپنی منزل کی طرف گامزن دکھائی دیتی ہے اس سے کہیں بڑھ کر وہاں کی عوام عزم اور حوصلے کی تصویر بنی بیٹھی ہے۔
قارئین کرام نظریات سے اختلاف ہوسکتا ہے مکتب فکر بھی مختلف ہوسکتا ہے، سوچنے کے انداز اورحکمت عملی کو بھی جذباتی قرار دیاجاسکتا ہےمگر ان تمام باتوں کے باوجود جس عنصر سےمیں اور آپ آنکھیں بند نہیں کر سکتے وہ ہے ہماری ہاں قوم سازی کا فقدان، کسی ریاست اور اس کے عمال حکومت سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور خواہ وہ کچھ بھی ہو مگر اس موقف کے ساتھ مکمل نظریاتی، قلبی اور ذہنی وابستگی کا ہونا ایک ایسی ناقابل تردید حقیقت ہے جسے کسی بھی صورت نظرانداز کرنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ (جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں