Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

نئی سحر ہے، نیا آفتاب اترا ہے

(گزشتہ سے پیوستہ)
راقم بغیر کسی توقف اور تذبذب کے یہ لکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہا کہ آج کی تاریخ تک ایران یہ جنگ جیت چکا ہےاس کی ایک حالیہ مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ گزشتہ روز جب امریکی صدر نے اپنی کابینہ اور فوجی و سیاسی معتمدین کا اجلاس بلایا تو اس میں عسکری قیادت سے ٹرمپ نے دوٹوک سوال پوچھا کہ کیا امریکہ یہ جنگ جیت چکا ہے تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ ’’ایران اس جنگ میں ابھی تک نہیں ہارا‘‘ جس پر امریکی صدر سیخ پا ہوگئے اور اپنے ایک دفاعی مشیر سے یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہوگئے کہ تم اس معاملہ میں تذبذب اور Confusionکا شکار کیوں ہو؟ اور پھر یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اس کا تسلی بخش جواب نہ پایا ٹرمپ انتہائی غصہ کے عالم میں اس اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ ساتھ ہی ساتھ بین الاقوامی میڈیا میں اب یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اوردفاعی مشیر اختلافات کی وجہ سے اپنی رائیں جدا کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ایک آدھ نے تو اعلانیہ بھی ایسا کر دیا ہے۔ یوں کہیے کہ جس جنگ کو امریکہ کا صدر دوچار دن کا کھیل قرار دے رہا تھا وہ اب خود امریکہ کے گلے پڑ گئی ہے یوں کہیے کہ امریکی صدر کے گلے میں ایک ایسی ہڈی ہےجس کو وہ نہ نگل سکتا ہےاور نہ اگلنے کی ہمت رکھتا ہے۔
راقم اس بات کا اعادہ کر رہا ہے کہ اس کی مذکورہ بالا رائے ہر طرح کے مذہبی تعصب سے پوری طرح پاک ہے اور محض مشاہدے کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے اگر میرے قارئین میں سے کوئی اس کے ساتھ اختلاف کرنا چاہے تو یہ اس کا حق ہےمگر اس کے لئے حالات کو کھلی آنکھ سے دیکھ کر شواہد پیش کرنا ہوں گے۔ جبکہ تمام شواہد اور قرائن اس لمحہ ایران کے حق میں جارہے ہیں اس کی ایک واضح مثال آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی بندش اور ان کے لئے راستہ کھولنے کی واضح ایرانی شرائط ہے چند لمحے پہلے ٹرمپ کا ایک بیان راقم کی نظروں سے گزرا ہےجس میں وہ یہ اعتراف کر رہا ہے کہ ایران انتہائی ہوشیار اور ذہین چالیں چل رہا ہے۔ امریکی صدر شاید اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں کہ یہ ہرگز ایران کا کمال نہیں ہے بلکہ آثار بتا رہے ہیں کہ دراصل یہ اللہ کی تدبیر کانتیجہ ہے کہ آج جنگ کو ختم کرنے یا اسے طول دینےکا مکمل اختیار ایران کے کنٹرول میں ہے۔ اسرائیل، امریکی، یورپی ممالک، نیٹو اور عرب ملکوں میں جنگ کی ناقص حکمت عملی کےحوالے سےجو اختلافات سامنے آچکے ہیں وہ خوفناک حد تک قابو سے باہرہوتے ہوئےنظر آرہےہیں دوسرے الفاظ سے امریکہ اور اسرائیل کو لینے کے دینے پڑ رہے ہیں۔
اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے ایوانوں میں اس جنگ سے فیس سیونگ کے ساتھ نکلنے4 کی تدبیر ڈھونڈی جارہی ہیں۔ یقینا ایسی صورتحال میں جب کوئی بھی راستہ نہ نکل سکا تو راقم کی رائے میں ایران کو امریکہ کی طرف سے براہ راست ایک بہت بڑے اور شدید حملے کاسامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہےکیونکہ ٹرمپ اور نیتن یاہو جنون اور پاگل پن کی حس، نفسیاتی اور ذہنی دبائو کاشکار نظر آرہے ہیں ان سے کسی بھی طرح کی توقع کی جاسکتی ہے اورویسےبھی انہوں نے اب اس جنگ کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا رکھا ہے اور دوسری طرف مسلمان ممالک کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’’ابھی یاکبھی نہیں‘‘ کیونکہ اگر ایران کو کسی بھی وحشیانہ کارروائی کا نشانہ بنا کرصفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی گئی تو پھر امریکہ بین الاقوامی سطح پر عملی طور پر تمام اسلامی ممالک کو اپنی نوآبادیات بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔
آخری اطلاعات آنے تک ایران کے صدر اور وزیر خارجہ سے کسی بھی قسم کے مذاکراتی عمل سے مکمل طور پر انکار کر رہا ہے اور یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ ایسا کوئی بھی مذاکراتی عمل فی الوقت نہیں چل رہا۔ ایران کے ساتھ اسرائیلی اور امریکی جنگ کے نتائج مستقبل میں جو بھی ہوں ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی اور مذاکرات کی بات کو مکمل طور پر طےکر دی ہےکہ جو خواب امریکہ اور اسرائیل نے دیکھا تھا وہ بہرحال کسی بھی طور شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندہ اسمعیل بقائی نے جو آئینہ سیکرٹری جنرل کو دکھایا ہےاس نے اقوام عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایرانی مندوب نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس بات کی تردید کی کہ اس جنگ سے معیشت کو نقصان سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ طاقتور ممالک کم قوت رکھنے والے ممالک پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہےکہ ایران کے سکول پرمیزائل حملہ سے سینکڑوں معصوم بچیوں کو قتل کیا گیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے کردار نے دنیا کی نظر میں اسے انتہائی ذلیل اور رسوا کر دیا ہے اور اس بین الاقوامی تنظیم کا مقصد محض دنیا کے طاقتور ممالک کے مفادات کا تحفظ ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
جب میں اپنے مضمون کی آخری سطریں قلم کے سپرد کر رہا تھا تو اچانک ایک معروف صحافی کے چند الفاظ میری سماعت سے گزرے اس گفتگو نے راقم کو ایک لمحے کے لئے ششدر کر دیا وہ کہہ رہے تھے کہ آپ نے اس بات پر غور کیا کہ اس جنگ سے پہلے ہمارا خیال یہ تھا کہ یورپ کے ممالک اسلام اور اسلامی ممالک کے حریف میں خصوصاً نیٹو ممالک کے بارے میں یہ تاثربہت شدیدتھا مگرحالیہ جنگ میں معاملہ الٹ ہوگیادراصل برائے نام اسلامی عرب ممالک اس وقت امریکہ اوراسرائیل کی عملی امداد میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں جبکہ یورپ اورنیٹو ممالک نے کھل کر امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کو انسانیت کے خلاف جرم قراردیا ہے بالفاظ دیگرجن کو ہم اسلام اور امت کا دشمن تصورکرتے تھے وہ ہمارے دوست اور ہم خود (عرب ممالک) اپنے ہی دشمن…ذرا سوچیے کیا یہ بات ہم سب کے لئے قابل شرم نہیں ہے؟
قارئین کرام کچھ اشعار حالات حاضرہ کی نظر
نئی سحر ہے نیا آفتاب اترا ہے
جمود سوچوں میں اب انقلاب اترا ہے
بہت سے چہروں پر ہمیں ترس نظر آیا
بہت سے چہروں سے آخر حجاب اترا ہے
یہ کس نے توڑا ہے میداں میں لشکروں کا غرور
کوئی تو رزم میں مرد تراب اترا ہے
بدل چکا ہے زمانے کا آج کل نقشہ
امید نو کا نگاہوں میں خواب اترا ہے
مخالفین سے کچھ بھی شکوہ نہیں ہے اسد
منافقین کے رخ سے نقاب اترا ہے

یہ بھی پڑھیں