آبنائے ہرمز میں مدوجزر بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ گہرے ہوتے مہیب بھنور اور طلاطم خیز موجوںنے اس چھوٹے سے آبی قطعے کو وسیع میدانِ جنگ میں بدل دیا ہے۔ بحری جہاز اپنی منزلوں پر جانے کے لئے نئے راستوں کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے جنگی جنون سے بھڑکنے والی آگ کا دائرہ اب دنیا بھر کی معیشت اور معاشرت کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ہر ملک اپنے اندر بھی تیل کی کمی ،گرتے وسائل اور بڑھتے مسائل سے جنگ کر تا نظر آرہا ہے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اپنی منہ زور طاقت کے نشے سے مخمور ہو کر امریکہ جہاں جہاں بھی حملہ آور ہوا، وہاںتباہی کے سوا کچھ چھوڑکر نہ آیا ۔ پھر چاہے ویت نام کے تاریک گھنے جنگل ہوں، افغانستان کے پتھریلے پہاڑ ہوں یا پھر لیبیا، شام یا عراق کے میدان اور فضائیں ، ہر کہانی کا کم وبیش انجام ایک ہی ہے، تباہی، بربادی، خلفشاراور اس کے بعد ایک عبرت ناک انخلاء۔
امریکہ کو سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم، صحت ، جمہور یت اور دوسرے ہر میدان میں ترقی اور جدت کی ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔ دنیا مختلف میدانوں میں علم اور تربیت حاصل کرنے کے لئے امریکہ سے رہنمائی لینے کی تگ و دو میں رہتی ہے۔ یہی امریکہ اپنی طاقت اور بلا جواز یلغاروں سے نہ جانے کیوں اپنی تصویر کو دھندلاتا اوراپنے لئے نفرت کے بیج بوتا ہے، مگر تاریخ میں درج اپنی ہزیمتوں کے داغ دیکھ نہیں پاتا۔
۱۹۶۵ ء میں جنوبی ویت نام کی حمایت میںشمالی ویت نام کے ساتھ ۸ سال جنگ وجدل کا بازار گرم رکھا، کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جس سے آج تک ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے ۔ ۱۹۷۳ ء میں امریکہ ۶۰ ہزار سے زائد فوجیوں کی ہلاکت اور اپنی بدترین شکست کے بعد ایک معاہدہ کرکے وہاں سے نکل گیا۔۱۹۸۳ء میں شوق ِ فتنہ گری امریکہ کو ’’ گریناڈا‘‘ لے گیا جہاں اس نے چند ہفتوں میں ((OPERATION URGENT FURYکے نام سے تباہی مچا ئی ،حکومت کو تبدیل کیا اور چلتا بنا۔۱۹۸۹ ء میںجرنل نوریگا کو ہٹانے کے لئے پاناما پر جارحیت کی جس سے ہزاروں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے اور سیاسی انتشار سے شہر تباہ ہو گیا۔۱۹۹۰ء میں کویت پر عراقی حملے کے بعد اقوام متحدہ کی ’’ خصوصی اجازت ‘‘سے امریکہ نے عراق میں اپنے پنجے گاڑ لئے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش کو جواز بنا کر عراق کی معیشت، خود مختاری اور سماجی ڈھانچے کو مسمار کرکے وہاں سے نکل گیا۔
۲۰۰۱ ء میں امریکہ اپنے تمام سامانِ حشر کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہو گیا۔ افغانستان کی جنگجو تاریخ ، روس کی ناکامی اور اس کے ٹکڑے ہونے سے بھی امریکہ نے کوئی درسِ عبرت نہ پکڑا۔ ۲۰ سال افغانستان میں حصولِ اہداف کے لئے امریکہ جتنا سر پٹختا رہا ،اتنا ہی مزید دلدل میں دھنستا چلا گیا۔بالآخر ۲۰۲۱ ء میں رسوا کن انخلاء امریکہ کے ماتھے کا جھومر بنا۔ آج تک پورا خطہ اس ۲۰ سالہ امریکی بے حکمتی کے مضر اثرات سے نمٹ رہا ہے۔۲۰۱۱ ء میں امریکی قیادت میں نیٹو افواج نے لیبیا پر فضائی حملے کرکے قذافی کی حکومت کا خاتمہ کیا اور ملک کو تقسیم کر کے اسے خانہ جنگی میں دھکیل دیا۔ ۲۰۱۴ء میں امریکہ داعش کے خلاف کارروائی کی خاطر شام پر حملہ آور ہوا۔کثیر تعداد میں انخلاء کے باوجود ابھی تک شام میں امریکی حملے جاری ہیں۔
طاقت کے نشے سے سرشار امریکہ سارے اصول، ضابطے اور قوانین کو روندتا ہوا اپنی بے لگام ارمانوں کی تسکین کے لئے اس بار ایران کو ہڑپ کرنے نکل کھڑا ہوا۔ ایک ماہ سے زائد جاری جنگ میں میزائل باری کے ساتھ ساتھ بیانات کی گھن گرج بھی جاری ہے۔ اب تک کا جنگی منظر نامہ ایران کی کامیابیوں کی داستان سنا رہا ہے، جس نے اپنے سپریم لیڈر کی عظیم شہادت اور اندرونی طور پر گرتی ڈوبتی معیشت کے باوجود ڈٹ کر اپنا دفاع کیاہے۔ ایران کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے ا مریکہ کی سر کشی اورفرعونیت کو زمیں بوس کر دیا ہے۔ امریکہ جو ایران میں حکومت بدل کر اپنے من پسندوں کو مسند پر بٹھانے آیاتھا وہ اب اپنے اس ہدف ِلاحاصل کو چھوڑ کر آبنائے ہرمز کھلوانے کے جتن کرتا نظر آرہا ہے اور اس کے لئے کبھی دوسرے ممالک کو پکارتا ہے اور کبھی آبنائے ہرمز پر ایران کے ساتھ مشترکہ انتظام کی بات کرتا ہے ۔ ایران کی یہی کامیابی کیا کم ہے کہ امریکہ تاریخ میں کبھی اتنا اکیلا نہیں ہوا جتنا آج ہے۔ یہ کیسے دن آئے ہیں کہ نہ نیٹو ممالک امریکہ کو سنجیدہ لے کر اس کی بات سن رہے ہیں ، نہ اقوام متحدہ اس بار امریکہ کو اپنی بیساکھیاں دینے پر آمادہ ہے، نہ کوئی اور ملک آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے اور حد تو یہ ہے کہ ٹرمپ اپنے ہی ملک میں اپنی عوام سے الگ تھلگ اور جدا نظر آتا ہے۔ لاکھوں امریکی عوام کی مخالفت، اپنی گرتی سیاسی ساکھ، نیٹو اور اقوام متحدہ کا ساتھ دینے سے گریز کے بعد بھی امریکہ کا حملے جاری رکھنے کا اعلان دنیا کو ایک بڑی تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ ٹرمپ کا حالیہ قوم سے خطاب ایک مضطرب اور چٹخے ہوئے اعصاب کے مارے شخص کا لہجہ تھا جس کے زہن میں اب اگلا ہدف صرف تباہی ہی تباہی ہے۔ ٹرمپ کے خطاب میں آبنائے ہرمز سے لا تعلقی اور بے رخی امریکہ کے اکیلے پن کو مزید گہرا کر گئی ہے ۔ امریکہ جو خود کو سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے مگر اپنے عوام کی رائے سننے کے بجائے اسرائیل کے جنگی جنون کی آسودگی کے لئے اپنا کندھا اور بندوق پیش کرتا چلا آیا ہے۔ آتشیںہوا کے مزید پھیلاو سے اب تو گھروں کے چولہے بھی بجھ سکتے ہیں جو پہلے ہی پھڑپھڑا رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ یہ جنگ اس مقام تک آجائے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اپنے اپنے اہداف لے کر اس میں کود پڑیںاور تیسری عالمی جنگ کا غدر مچ جائے، اس جنگ کو روکنا ہی تمام دنیا کے لئے سودمند ہے۔پاکستان کی قیادت میں ترکیے اور مصر کی شروع کی گئی قیامِ امن کی مخلصانہ کاوشیں بھی عروج پر ہیں۔ مگر اصل تدبر، فراست اور معاملہ فہمی تو امریکہ اور ایران نے ہی دکھانی ہے۔ اپنی عزت، حقِ دفاع اور بنیادی شرائط پر سمجھوتہ کئے بغیر امن کو موقع دے کر اس مقام پر جنگ بندی ایران ہی کی کامیابی سے عبارت کی جائے گی۔ اسی طرح اگر امریکہ کو اقوام عالم میں اپنی ساکھ اور رہا سہا دبدبہ بچانا ہے تو یہی وقت ہے امن کا راستہ چننے کا۔ یہ اندیشہ دونوں ممالک کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ یہاں سے امن کی ناکامی ایک بڑی تباہی اور بربادی کو جنم دے گی جس کے بعد فتح و شکست کو پرکھنے والی کسوٹی بھی نہ رہے گی۔ جنگ کا یہ سانپ اپنازہر پھیلا کرنکل جائے گا اور دنیا کو پیٹنے کے لئے شائد لکیر بھی نہ ملے۔