دنیا میں کچھ کردار ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی بے مثال جدوجہد کی داستان عام لوگوں سے اوجھل رہ جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس کردار کی سادگی اور شرافت ہوتی ہے جو تشہیر اور نمود و نمائش کے بجائے خاموشی سے اپنا کام کرتے چلے جاتے ہیں ۔محمد انور کی کہانی بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کی تائیدونصرت کے ساتھ ساتھ انسان انتھک محنت ، لگن ، تگ و دو اور استقامت سے کام لے توراستے کا ہر پتھر اور منزل کو مسدود کردینے والی ہر دیوار ریت کی طرح زرہ زرہ ہو سکتی ہے۔
محمد انور پرویز کا جنم ۱۵ مارچ ۱۹۳۵ کو راولپنڈی (ٹھٹھی) میں ایک انتہائی پسماندہ و تنگدست خاندان میں ہوا۔ گزر بسر کا واحد زریعہ کھیتی باڑی تھا جس سے ا تنا کاشت کر لیا جاتا تھا کہ دو وقت کی روٹی میسر آجاتی تھی۔ نامساعد حالات کے باوجود والدین کی آنکھوں میں خوابوں کی ایک دنیا آباد تھی اور محمد انور کے دل میں بھی کچھ کر گزرنے کی امنگیں پنپ رہیں تھیں۔ والدین نے کم وسائل کے باوجود انور کو تعلیم سے دور نہ رکھا ۔ انور ہر روز قریباً ۸ میل پیدل چل کر سکول جاتے آتے ۔ میٹرک کے بعد کچھ عرصہ ایف سی کالج، لاہور میں گزارنے کے بعد ناکافی آمدن کی وجہ سے محمد انور مزید اعلیٰ تعلیم نہ حاصل کر پائے۔ حالات کے ناخوشگوار تھپیڑوں نے انورکو نوکری کرنے پر مجبور کردیا اور وہ شعبہ ٹیلی فون میں آپریٹر بھرتی ہو گئے جہاں ان کی ماہوار تنخواہ محض ۹۶ روپے تھی۔ اپنے گردوپیش پھیلی غریبی اور مفلسی کی چلچلاتی دھوپ نے ان کے دل کی آرزووں کو مزید جگانا شروع کر دیا اور ان کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ بہتر مستقبل کے مواقع کہاں مل سکتے ہیں۔ ۱۹۵۶ میں جب ان کی عمر صرف ۲۱ سال تھی انہوں نے پاکستان سے باہر جانے کا فیصلہ کر لیا۔اپنے آبائی گائوں ، وطن ، گھر اور خاندان کو چھوڑ کر جانا ایک مشکل فیصلہ تھا۔ رخت سفر باندھتے وقت انہیں کیا خبر تھی کہ قدرت نے ان کے لئے کن رفعتوں اور کامرانیوں کا انتخاب کر رکھا ہے۔ منزل برطانیہ تھی جہاں پہلے سے موجود ان کے کچھ دوستوں اور خیر خواہوں نے ان کے سفری اخراجات اٹھا کر ان کے ساتھ تعاون کیااور یوں وہ بہتر مستقبل کے سپنے سجائے برطانیہ پہنچ گئے۔پاکستانی کمیونٹی کا مرکز ’’بریڈ فورڈ‘ ‘ ان کا پہلا ٹھکانہ تھا ۔ ابتدا میں انہوں نے بس کنڈکٹری اور ڈرائیونگ کا کام شروع کیا۔ وہ ہفتے کے ساتوں دن ڈبل شفٹ میں کام کرتے ۔ہفتہ وار تنخواہ اتنی قلیل تھی کہ اپنے لئے رہائش کا بندوبست بھی نہیں ہو سکتا تھا اور وہ دوستوں کے ساتھ ہی مقیم رہے۔ سرد موسم، دن رات محنت اور نا آشنا ماحول بھی محمد انور کی چٹان جیسی ہمت کو توڑ نہ سکا اور وہ چار سال تک یہ کام اسی لگن اور حوصلے سے کرتے رہے۔۱۹۶۱ میں انہوں نے ایک دوست کی شراکت داری میں لندن( کلبرن) میں ایک معمولی سی دکان کھولی ۔ یہ ان کے خود کاروبار کرنے کا پہلا تجربہ تھا جس کی بنیاد پر بعد ازاں لندن کے Earl,s Courtمیں اپنا پہلا سہولت سٹور ’’کشمیر‘‘ کے نام سے کھولا ۔ کچھ سالوں میں جمع کی گئی بچت سے محمد انور نے اپنا ایک گھر بھی خرید لیا۔ محنت ، لگن اور آگے بڑھنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور ۱۹۷۰ کی دہائی تک لندن میں ان کے سٹورز کی تعداد ۱۰ ہو گئی۔ ۱۹۷۶ میں انہوں نے ’’BEST WAY GROUP‘‘ کی بنیاد رکھی جو ابتداء میں ایک چھوٹی ہول سیل کی دکان تھی اور جو اب برطانیہ کی دوسری بڑی ہول سیل کمپنی بن چکی ہے۔ جس کے ۶۱ گودام، ۵ بلین پائونڈز سے زیادہ کا کاروبار اور جس نے ۴۷۰۰۰ سے زائد ملازمین کا روزگار بھی چلا رکھا ہے۔
انور پرویز اب ارب پتی بن چکے ہیں،مگر ابتدائی زندگی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کو وہ کبھی فراموش نہ کر پائے۔ اپنی ادھوری تعلیم، مالی بے چارگی، ان گنت مسائل اور عسرت زدہ لمحات کی چبھن کا احساس کبھی گیا ہی نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جوں جوں ان کی مالی حالت میں بہتری آتی گئی ، وہ اس کا ایک حصہ تعلیم، صحت اور دیگر کارِ خیر کے لئے وقف کر تے گئے۔ بیسٹ وے گروپ کے منافع کا ڈھائی فیصد فلاحی کاموں کے لئے مختص ہے جو بیسٹ وے فائونڈیشن کے ذریعے خرچ کیا جاتا ہے۔ فائونڈیشن کی ۴۴ ملین پائونڈزسے زائد کی مختص رقم سے جنوبی ایشیاء سے آئے طالب علم مستفید ہوتے ہیں۔ ان کی کاروباری اہمیت ، ساکھ او ر عوامی خدمات کے اعتراف میںبرطانوی سرکار نے ۱۹۹۲ میں ان کو OBE اور’’ سر‘‘ کے خطاب سے نوازا جو بلا شبہ ان کے لئے اور پاکستان کے لئے انتہائی باعث فخر ہے۔
مادرِ وطن سے دور ایک عمر بتانے اور دولت کی ریل پیل میں بھی سر محمد انور پاکستان او ر اپنے گائوں (ٹھٹھی) کی مٹی کو بھولے نہیں۔رفاہ عامہ کا یہ سلسلہ پاکستان میں بھی پھیلتا گیا اور۱۹۹۷ میں پاکستان میں الگ سے بیسٹ وے فائونڈیشن پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا۔فائونڈیشن کے ذریعے اپنے گائوں میں تعلیم ، صحت اور دیگر رفاہی کام بھی کروائے جس میں نمایاں نام ۲۰۱۲ میں قائم کردہ فرح پرویز گرلز ڈگری کالج کا قیام ہے جس میں تعلیم مفت رکھی گئی ہے اور سارے اخراجات فائونڈیشن خود برداشت کرتی ہے۔ یہ کالج ٹھٹھی اور گرد و نواح کی سینکڑوں لڑکیوں کی تعلیم میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی فائونڈیشن کے زیرِاہتمام چکوال میں بھی سکول قائم کئے گئے۔ راولپنڈی کی دیہی علاقوں میں ۲۰۰۵ میں ۲۹ سرکاری سکولوں کو اپنا کر ان کو دوبارہ تعمیر کر کے ان کا معیار بلند کیا گیا۔ ٹھٹھی، چکوال اور خیبر پختونخواہ کے دو علاقوں میں بنیادی مرکزِ صحت قائم کئے گئے جہاں سالانہ ۳۵۰۰۰ سے زائد مریضوں کو مفت علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔بیسٹ وے فائونڈیشن کے ذریعے ہر سال پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے ۳۰۰ طلباء کے لئے سکالر شپس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ نسٹ یونیورسٹی، اسلام آباد میں بیسٹ وے سکالر شپ انڈونمنٹ فنڈ اور آئی بی اے، کراچی کو ۱۰۰ ملین روپے کاعطیہ فراہم کیا گیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں پاکستان نے بھی اپنے اس درخشاں سپوت کو ۲۰۰۰ میںہلالِ پاکستان دے کر پذیرائی بخشی۔
اپنے خاندان، پاکستان، راولپنڈی اور ٹھٹھی کے لئے باعثِ افتخار سر انور پرویز کی عمر اب ۹۱ برس ہو چلی ہے مگر عزم و ہمت ابھی تک برقرار ہے۔انہوں نے نہ صرف اپنی محنت سے اپنی زندگی کی مشکلات پر قابو پایا بلکہ اس دولت کا ایک خطیر حصہ محروم طبقات کو لوٹا کر نہ جانے کتنے افراد اور خاندانوں کے کتنے مصائب ، مالی الجھنوں اور پریشانیوں کو دور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ آج کل کے نوجوان جو چور راستوں اور بلا محنت کے راتوں رات سرسبز صبح کو دیکھنا چاہتے ہیں ان کے لئے سرمحمد انور کی زندگی مشعلِ راہ سے کم نہیں۔سر محمد انور کی تابناک اور سبق آموزکہانی بتاتی ہے کہ محنت، لگن اور اخلاص نیت کے ساتھ ساتھ جو ہتھیار سب سے زیادہ کارگر ہے وہ ہے صبر، جس کا دامن تھام لیا جائے تو کوئی منزل کھوٹی اور کوئی خواب تشنہ نہیں رہتے ۔