فضا علی نام کی بڈھی گھوڑیوں کو اگر لال لگامیں نہ ڈالیں گیں، تو وہ قائد اعظم ؒکے پاکستان کو اپنی گندگی کی بھینٹ چڑھاتی رہیں گی،فضا علی کو اپنے تیسرے شوہر کی اکلوتی بیگم ہونے کا جشن منانے کا پورا حق حاصل ہے ،مگر گھر کی چار دیواری کے اندر ،اگر موصوفہ سڑکوں یا ٹی وی پروگراموں میں حجلہ عروسی سجانے کی کوشش کرے گی تو پاکستانی قوم اسے اس واہیاتی اور لچر پن کی اجازت نہیں دے گی،جمعیت علماء اسلام کے ترجمان محمد اسلم غوری نے الیکٹرانک چینلز پر بڑھتی ہوئی بے حیائی و فحاشی اور’’فضا علی‘‘ٹائیپ اخلاق باختہ مارننگ شوز کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے مارننگ شوز اور ڈراموں میں پیش کیے جانے والے غیر اخلاقی پروگرام قابلِ مذمت ہیں۔میڈیا کو آزادی اظہار کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی، اخلاقی اور قومی ذمہ داریوں کا بھی احساس کرنا ہوگا۔ افسوس کہ اسلامی معاشرے کے خلاف کی جانے والی سازشوں میں حکومتی وزرا کے چینلز سرفہرست ہیں۔ غیر اسلامی اور غیر شرعی قانون سازی کے بعد یہ اگلا قدم ملک کو سیکولر بنانے کی گہری سازش ہے۔پیمرا اور سنسرشپ کے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ قوم پوچھتی ہے کہ حکمرانوں کے خلاف بیانات پر نوٹس لینے والی پیمرا کہاں ہے؟ اخلاقیات اور مشرقی اقدار کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ان پروگراموں کو دیکھنا ممکن نہیں رہا۔ ملکی میڈیا پر مشرقی روایات، حیاء اور خاندانی اقدار کو دانستہ طور پر پامال کیا جا رہا ہے، پاکستانی معاشرہ اس وقت جس تیزی سے سماجی، ثقافتی اور فکری تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، وہ نہ صرف قابلِ غور ہے بلکہ سنجیدہ مکالمے کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا، جو جدید دور میں رائے سازی کا سب سے طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، اس کی سمت اور ترجیحات پر سوالات اٹھنا ایک فطری امر ہے۔
جمعیت علماء اسلام پاکستان کے ترجمان محمد اسلم غوری کی جانب سے ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے مارننگ شوز اور ڈراموں کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔یہ اعتراضات محض ایک جماعت یا فرد کی آواز نہیں،بلکہ معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہمارے ٹی وی چینلز اپنی سماجی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے غافل ہو چکے ہیں؟ کیا آزادی اظہار کے نام پر ہر حد پار کرنا جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور کیا ہمارے نگران حکومتی ادارے اس صورت حال پر خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ میڈیا معاشرے کا آئینہ بھی ہوتا ہے اور سمت متعین کرنے والا رہنما بھی۔ جس معاشرے میں میڈیا مضبوط، ذمہ دار اور بااخلاق ہو، وہاں اجتماعی شعور میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔ لیکن جب یہی میڈیا سنسنی، ریٹنگ اور کاروباری مفادات کی دوڑ میں اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے دور ہو جائے تو اس کے اثرات پوری قوم پر مرتب ہوتے ہیں۔ آزادی اظہار جمہوری معاشروں کا بنیادی ستون ہے، مگر آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ اگر میڈیا کو مکمل آزادی حاصل ہے تو اسے اس بات کا بھی احساس ہونا چاہیے کہ وہ معاشرتی اقدار، خاندانی نظام اور قومی شناخت پر کس قدر اثر انداز ہوتا ہے۔ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ صبح کے اوقات میں نشر ہونے والے پروگرام اور ڈرامہ سیریلز ایسی سمت اختیار کر چکے ہیں، جہاں خاندانی ماحول میں بیٹھ کر انہیں دیکھنا مشکل ہو گیا ہے۔پاکستان میں مارننگ شوز کا آغاز بنیادی طور پر گھریلو خواتین کے لئے معلوماتی اور تفریحی پروگراموں کے طور پر ہوا تھا۔ ان پروگراموں کا مقصد صحت، تعلیم، گھریلو معاملات اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ آج بہت سے مارننگ شوز میں شادی بیاہ کی غیر ضروری نمائش، نجی زندگیوں کی تشہیر اور سنسنی خیز موضوعات کو غیر ضروری حد تک اجاگر کیا جاتا ہے۔
ناقدین کے مطابق یہ پروگرام بے حیائی و فحاشی اور لچر پن کو پروان چڑھانے میں صف اول کا رول ادا کر رہے ہیں ، معاشرتی اقدار کو مضبوط کرنے کی بجائے ایک مصنوعی اور غیر حقیقی طرزِ زندگی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ریٹنگ حاصل کرنے کے لئے معاشرتی حساسیت کو نظر انداز کرنا درست ہے؟پاکستانی ڈرامہ کبھی دنیا بھر میں اپنی حقیقت پسندی، سادگی اور مضبوط کہانیوں کے باعث پہچانا جاتا تھا۔ ماضی کے ڈرامے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتے اور مثبت پیغام دیتے تھے، مگر حالیہ برسوں میں اس صنعت کا رخ کافی حد تک تبدیل ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اب اکثر ڈراموں میں خاندانی سازشیں، غیر حقیقی رشتے اور منفی کرداروں کی بھرمار دکھائی دیتی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ بہن، بھائی خاوند ،بیوی،باپ بیٹی کے مقدس اور محترم رشتوں کو بھی بری طرح پامال کیا جا رہا ہے،جس سے معاشرے میں بداعتمادی، حسد،زنا اور غیر ضروری مقابلہ بازی جیسے رجحانات کو تقویت مل رہی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میڈیا صرف تفریح فراہم نہیں کرتا بلکہ سوچ اور رویوں کو تشکیل بھی دیتا ہے۔پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جس کی بنیاد مذہبی اور ثقافتی اقدار پر رکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب میڈیا کے مواد کو ان اقدار سے متصادم سمجھا جاتا ہے تو ردعمل سامنے آتا ہے۔ ناقدین کا مقف ہے کہ غیر اسلامی اور غیر شرعی قانون سازی کے بعد میڈیا کے ذریعے معاشرتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور یہ اقدامات ملک کو’’سیکولر‘‘ بنانے کی ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیے جاتے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ثقافتی شناخت ہر قوم کے لیے حساس معاملہ ہوتی ہے۔اس تمام بحث میں سب سے اہم سوال نگران حکومتی اداروں کی کارکردگی کا ہے۔ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی کی ذمہ داری ’’پیمر‘‘کے پاس ہے۔
(جاری ہے)