(گزشتہ سے پیوستہ)
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے مطابق’’ اگرامریکا ہمارے خلاف حملے ان اڈوں سے کرتاہے تووہ اڈے ہمارے لئے جائزفوجی اہداف ہیں‘‘ لیکن حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔کچھ حملے ایسے بھی ہوئے ہیں جن میں خلیجی ممالک کے شہری انفراسٹرکچرکونقصان پہنچا ہے ، مثلا ًمتحدہ عرب امارات کے ایئر پورٹس یا بحرین کے بعض شہری علاقے۔یہ محض حادثہ نہیں لگتا ۔ زیادہ ترتجزیہ کاروں کے مطابق ایران دراصل جنگ کی قیمت پورے خطے کیلئے بڑھانا چاہتا ہے۔ اگرخلیجی ممالک کواس جنگ کامعاشی اور سیاسی نقصان ہوگا تو وہ امریکاپردباؤ ڈالیں گے کہ وہ جنگ ختم کرے۔
کیاخلیجی ممالک جنگ میں شامل ہوں گے؟یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔خلیجی ممالک نے سخت بیانات ضروردیے ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک براہ راست فوجی کارروائی نہیں کی۔ اس کی ایک بڑی وجہ صلاحیت کی کمی بھی ہے۔اگران کے پاس مکمل دفاعی صلاحیت ہوتی توخطے میں اتنے بڑے امریکی فوجی اڈے موجود نہ ہوتے۔قطرمیں العدید ایئر بیس،بحرین میں ففتھ فلیٹ اورسعودی عرب میں امریکی فوجی تنصیبات اس بات کاثبوت ہیں کہ خلیجی ممالک اپنی سلامتی کیلئے امریکا پر انحصار کرتے ہیں۔
اس جنگ کاایک بڑانتیجہ یہ ہوسکتاہے کہ خلیج میں عسکریت پسندی بڑھ جائے۔ایران کے ڈرون اورمیزائل پروگرام نے خلیجی ممالک کویہ احساس دلایاہے کہ وہ براہ راست خطرے میں ہیں۔ایران کے شہیدڈرونزتقریبا2000کلومیٹرتک مارکرسکتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ پوراخلیجی خطہ ان کی پہنچ میں ہے۔ اسی لئے خلیجی ممالک پہلے ہی میزائل دفاعی نظاموں پراربوں ڈالر خرچ کررہے ہیں۔
اس جنگ کاسب سے بڑااثرعام لوگوں پرپڑرہاہے۔خلیجی ممالک کی معیشتیں عالمی سرمایہ کاری اوربیرونی افرادی قوت پرقائم ہیں۔ پاکستان،بھارت اوربنگلہ دیش کے لاکھوں لوگ وہاں کام کرتے ہیں۔ اب جب ایئرپورٹس بندہیں اورمیزائل حملوں کاخطرہ موجودہے تو ہزاروں لوگ وہاں پھنس گئے ہیں۔کئی مسافروں کی دل دہلا دینے والی کہانیاں میڈیاپر سامنے آرہی ہیں۔ایک امریکی خاتون نے روتے ہوئے کہا ’’ہم نے کبھی سوچابھی نہیں تھاکہ ہم بھی ایسے حالات میں پھنس جائیں گے‘‘۔ایک اورمسافر نے بتایاکہ وہ میزائل حملوں سے بچنے کے لئے پہاڑوں کی طرف بھاگ گئے۔یہ صورتحال اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ جنگ ہمیشہ عام انسان کی زندگی کوسب سے زیادہ متاثرکرتی ہے۔
کیاامریکااورخلیجی ممالک کے تعلقات بدل رہے ہیں؟تواس کاجواب یہ ہے کہ مختصرمدت میں شایدنہیں۔امریکااب بھی خلیجی ممالک کا سب سے بڑا سکیورٹی فراہم کرنے والاہے۔ لیکن طویل مدت میں تبدیلی کے آثارنظرآرہے ہیں۔خلیجی ممالک اب اپنی دفاعی پالیسیوں کو متنوع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ چین،یورپ اوردیگرممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں تاکہ مکمل طورپرامریکا پر انحصارنہ کرنا پڑے۔
ادھردوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کی نئی جنگ اور عالمی سیاست کے وسیع تناظرمیں دیکھاجائے توایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو ند کرنے کی دھمکی نے عالمی معیشت میں بے چینی پیداکردی ہے۔یہ سمندری راستہ دنیاکے سب سے اہم توانائی کے راستوں میں شمار ہوتا ہے۔عالمی سطح پرتیل کی ایک بڑی مقداراسی راستے سے گزرتی ہے۔اگر اس راستے میں رکاوٹ پیداہوجائے تونہ صرف تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ عالمی تجارتی نظام بھی متاثرہوسکتاہے۔ابھی ایران کی طرف سے مسلسل یہ اعلان سامنے آرہاہے کہ اس نے آبنائے ہرمزبند نہیں کی لیکن تیل کی عالمی قیمتیں آسمان کی طرف پروازکرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ امریکااوراس کے اتحادی ہمیشہ اس بات کویقینی بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمزکھلی رہے۔ایران اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے اوراسی لیے اس نے بارہااس راستے کوایک اسٹریٹجک دباؤکے آلے کے طورپر استعمال کرنے کی دہمکی دی ہے۔پاسداران انقلاب کے کمانڈرنے ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں کہاہے کہ آبنائے ہرمزسے کسی بھی تجارتی جہازکے لئے کھول کردکھاؤ،جس کے بعد تمام عالمی جہازراں کمپنیوں نے اپنے جہازوں کو اس روٹ کو استعمال کرناچھوڑدیاہے۔موجودہ جنگ میں بھی یہی حکمت عملی نظر آتی ہے۔ایران یہ پیغام دیناچاہتا ہے کہ اگر اس کی سلامتی کوخطرہ لاحق ہواتو وہ عالمی معیشت کے لئے بھی مشکلات پیداکرسکتاہے۔
ہرجنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کاایک بڑاحصہ نفسیاتی اوراطلاعاتی جنگ پر مشتمل ہوتاہے۔موجودہ جنگ میں بھی یہی عنصر نمایاں ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکاتینوں اپنی اپنی کامیابیوں کوبڑھاچڑھاکرپیش کررہے ہیں جبکہ نقصانات کوکم ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ میڈیاکے ذریعے عوامی رائے کومتاثر کرنابھی اس جنگ کاایک اہم حصہ بن چکاہے۔ایک طرف ایرانی میڈیااپنے عوام کویہ یقین دلانے کی کوشش کررہاہے کہ وہ ایک بڑی عالمی طاقت کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں،جبکہ دوسری طرف اسرائیلی اورامریکی میڈیااس جنگ کوایران کے عسکری ڈھانچے کوکمزور کرنے کی مہم کے طورپر پیش کررہے ہیں۔
خلیجی ممالک کے لئے یہ جنگ صرف ایک خارجی مسئلہ نہیں بلکہ داخلی سطح پربھی ایک بڑاچیلنج ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں ان ممالک نے اپنے آپ کو ایک ایسے خطے کے طورپرپیش کیا ہے جہاں معاشی ترقی، جدید انفراسٹرکچراورعالمی سرمایہ کاری کوفروغ دیاجاتا ہے۔ دبئی،دوحہ اورریاض جیسے شہراس پالیسی کی مثال ہیں۔یہاں دنیابھرسے سرمایہ کار،سیاح اور مزدور آتے ہیں۔لیکن جنگ کے ماحول میں یہ ماڈل شدیددباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔اگرخطے میں مسلسل عدم استحکام پیداہوتاہے توعالمی سرمایہ کارمحتاط ہوسکتے ہیں اورسیاحت و تجارت پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک اس جنگ کے جلدخاتمے کے خواہاں نظرآتے ہیں۔
تاہم ایران کی عسکری اورسیاسی حکمت عملی کوسمجھنے کے لئے اس کے تاریخی تجربات کومدنظر رکھنا ضروری ہے۔ایران نے1980ء کی دہائی میں عراق کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ کا سامنا کیاتھاجس میں اسے شدیدجانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس جنگ کے بعدایران نے اپنی دفاعی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں کیں۔اس نے روایتی فوجی طاقت کے بجائے میزائل پروگرام،ڈرون ٹیکنالوجی اورعلاقائی اتحادی گروہوں پرزیادہ انحصارکرناشروع کیا۔ ( جاری ہے )