(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان کی جانب سے امریکااورایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں پہلے ہی جاری تھیں۔ایسے میں یہ تجارتی راہداری ایک خاموش سفارتی اشارہ ہے،ایک ایسااشارہ جو الفاظ سے زیادہ عمل کی زبان میں مؤثرربات کرتاہے۔ سفارتکاری کاکمال یہی ہے کہ وہ شورکے بغیراثر پیداکرے۔یہ اقدام اعتمادسازی کی ایک اینٹ ہے،جس پرمستقبل کے تعلقات کی عمارت کھڑی ہوسکتی ہے۔تجزیہ کاراسے اعتمادسازی کا ایک اہم قدم قراردیتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی تعلقات میں اکثروہی اقدامات دیرپاثابت ہوتے ہیں جوعملی بنیادوں پراٹھائے جائیں۔یہ اقدام سفارتکاری کے اس اصول کی یاددلاتاہے کہ بعض اوقات خاموش خدمات بلند ترین خطبات سے زیادہ اثررکھتی ہیں۔گویاسیاست اگر حکمت سے خالی ہوتومحض شوررہ جاتی ہے اورپاکستان نے اس شورمیں حکمت کی آواز پیداکی ہے۔
وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق پاکستان اس اقدام سے نہ صرف علاقائی تجارت کوفروغ اور اقتصادی مرکزبننے کی جانب گامزن اورایک لاجسٹکس حب میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرے گا بلکہ پاکستان کی سٹریٹیجک اہمیت میں بھی اضافہ ہوگا۔گوادر،کراچی اور تافتان کوٹرانزٹ کوریڈورز قراردینااس بات کااعلان ہے کہ پاکستان اب محض ایک گزرگاہ نہیں بلکہ ایک مرکزبننے کی خواہش رکھتا ہے اوراپنی جغرافیائی حیثیت کومعاشی قوت میں تبدیل کرناچاہتاہے۔یہ وہی خواب ہے جوصدیوں پہلے شاہراہِ ریشم کے قافلوں نے دیکھا تھا کہ یہ خطہ دنیاکی تجارت کادل بن سکتاہے۔آج پاکستان اسی خواب کی تعبیرکی طرف قدم بڑھارہاہے۔یہ بروقت فیصلہ دراصل پاکستان کے جغرافیے کواقتصادی تقدیرمیں بدلنے کی ایک کوشش ہے۔
پاکستان اورایران کے درمیان909 کلو میٹرطویل سرحدمحض ایک حد بندی نہیں بلکہ تہذیبوں کاسنگم اورربط کی علامت ہے۔تافتان،گبد اورمند جیسے راستے صدیوں سے قافلوں کی گزرگاہ اور تاجروں کے قدموں کی چاپ سنتے آئے ہیں۔یہ وہ راستے ہیں جن پرکبھی اونٹوں کی گھنٹیاں بجتی تھیں،آج یہی راستے جدیدتجارت کی شاہراہیں بننے جارہے ہیں،آج انہی شاہراہوں پرٹرکوں کے قافلے چلیں گے۔فرق صرف رفتارکاہے، مقصدکانہیں کہ تجارت ہمیشہ قوموں کوجوڑتی ہے،توڑتی نہیں۔گویا تاریخ خودکونئے قالب میں ڈھال رہی ہے ۔یہ سرحد نہیں،دو تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ ہے جوکبھی رکانہیں،صرف بدلتارہاہے۔
اگرجغرافیہ تقدیرکاپہلاباب ہے تورسائی اس کی تکمیل کاآخری مصرع۔ایران کے لئے کھولی گئی یہ تجارتی راہداری دراصل پاکستان کے لئے وسطی ایشیاء کے دروازوں پردستک ہے۔یہ وہ خطہ ہے جوقدرتی وسائل سے مالامال،مگرسمندری راستوں سے محروم رہاہے اور یہی محرومی اسے راہداریوں کامحتاج بناتی ہے۔یہ راہداری مستقبل میں پاکستان کے لئے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا دروازہ کھول سکتی ہے۔پاکستان کایہ اقدام گویا ایک تیرسے دوشکارکے مترادف ہے۔یہ اقدام صرف ایک فوری ضرورت کاجواب نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کاحصہ ہے،ایسی حکمت عملی جو پاکستان کوعلاقائی تجارت کے مرکزمیں لاسکتی ہے۔
بظاہریہ سہولت ایران کے لئے ہے،مگر درحقیقت یہ راستہ تاشقند،سمرقنداوربخاراکے دروازوں تک جا پہنچتا ہے۔یہ وہی سرزمین ہے جہاں کبھی ریشم، مصالحہ جات اورعلم کے قافلے گزرتے تھے۔آج اگروہی راستے جدید شاہراہوں میں ڈھل جائیں توتاریخ ایک بارپھراپنے آپ کو دہراسکتی ہے مگراس باردائرہ وسیع تررفتارہوگا۔ قومیں جب اپنے جغرافیے کو پہچان لیتی ہیں توفاصلے سمٹ جاتے ہیں اورسرحدیں راستوں میں بدل جاتی ہیں۔ گویا یہ قدم صرف ایک ملک کے لئے نہیں بلکہ پورے خطے کے لئے امکانات کی نئی صبح لیکرآیاہے۔
یہ اقدام کسی اچانک واردہونے والے خیال کانتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی تسلسل کی کڑی ہے۔ 2008ء میں پاکستان اورایران کے درمیان سڑک کے ذریعے تجارت کامعاہدہ طے پایا،جبکہ 2006ء میں ٹرانزٹ آرڈرجاری کیاگیا ، یہ دونوں معاہدے گویااس فیصلے کی بنیاد ہیں اورپاکستان اپنی تجارتی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھناچاہتاہے ۔اب2026 ء میں انہی بنیادوں پرایک نئی عمارت تعمیرکی جارہی ہے۔یہ وہ تسلسل ہے جوقوموں کوسنجیدگی عطاکرتا ہے، ریاستوں کو استحکام بخشتاہے اورعالمی برادری میں ان کی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے کیونکہ پالیسیوں کا تسلسل ہی ریاستی وقارکاضامن اور ریاستوں کواستحکام بخشتاہے۔
یادرہے کہ یہ فیصلے یکایک نہیں اگتے،یہ تاریخ کی زمین میں برسوں پہلے بوئے گئے بیج ہوتے ہیں، جو وقت آنے پرثمردیتے ہیں۔یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان نے محض معاہدے کیے نہیں بلکہ انہیں وقت کے تقاضوں کے مطابق زندہ رکھااوریہی زندہ قوموں کی پہچان ہے۔ پاکستان نے ثابت کیاہے کہ تاریخ کے اوراق صرف محفوظ رکھنے کے لئے نہیں بلکہ وقت آنے پرانہیں عمل کی روشنائی سے دوبارہ لکھنے کے لئے ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں اعتماد وہ سکہ ہے جو ہر بازارمیں چلتاہے،مگراسے کماناآسان نہیں ہوتا ۔ پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت کیلئے بینکنگ شرائط میں نرمی کرکے اوراب ٹرانزٹ سہولت فراہم کرکے ایک ایساماحول پیداکیاہے جس میں باہمی اعتمادپروان چڑھ سکتاہے۔تجارت دراصل تعلقات کی وہ زبان ہے جسے ہرقوم سمجھتی ہے۔یہ اقدام محض اقتصادی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے کیونکہ قومیں صرف مفادات سے نہیں،اعتمادسے جڑتی ہیں۔
( جار ی ہے )