Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

جب راستے بولنے لگیں

(گزشتہ سے پیوستہ)
ایران کے عوام میں پاکستان کے لئے خیرسگالی کاجذبہ بھی اسی عمل سے فروغ پائے گا۔پاکستان کایہ اقدام حقیقت پسندی پرمبنی ہے،وہ براہِ راست تجارت کے بجائے سہولت فراہم کررہاہے،میعنی ایک ایساراستہ اختیارکررہاہے جوقانونی اور سفارتی حدودمیں بھی ہواورفائدہ مندبھی۔یہ سیاست کی وہ لطیف جہت ہے جہاں اصول،مفاد ایک دوسرے سے متصادم نہیں، ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ جب رسمی بینکنگ نظام پابندیوں کے بوجھ تلے دب جائے توتجارت اپنے لیے نئے راستے تراشتی ہے۔ پاکستان اورایران کے درمیان بارٹرسسٹم اسی تخلیقی مزاحمت کی ایک مثال ہے۔یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیاپاکستان عالمی پابندیوں کے باوجودایران کوٹرانزٹ سہولت فراہم کرسکتاہے؟اس کاجواب بین الاقوامی قانون میں پوشیدہ ہے۔اقوامِ متحدہ کے قوانین کے تحت ٹرانزٹ فراہم کرناایک جائزعمل ہے اورسمندری قوانین کے تحت کسی ایسے ملک کو،جوعملی طورپرلینڈلاک ہوچکاہو،تجارتی راہداری فراہم کرناایک جائزعمل ہے۔پاکستان نے اسی قانونی بنیاد کوپیشِ نظررکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔یہ فیصلہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کا خیال رکھتا ہے بلکہ عالمی قوانین کی پاسداری کوبھی مقدم جانتاہے۔
پاکستان کی جانب سے ایران کے لئے تجارتی راہداریاں کھولنے کے اعلان پرامریکاکی طرف سے تاحال کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔یہ اشارہ ہے کہ پاکستان نے اپنے اس فیصلے میں نہ صرف قانونی تقاضوں کوملحوظ رکھابلکہ عالمی طاقتوں کوبھی پیشگی اعتمادمیں لیا۔گویایہ اقدام کسی جذباتی جوش کانتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچاسمجھا ،نپاتلاقدم ہے۔
اقتصادی ماہرین اس اقدام کوپاکستان کے اس دیرینہ خواب کی تعبیرکی طرف ایک اہم قدم قراردیتے ہیں جس کے تحت وہ علاقائی تجارت کامرکز بننا چاہتا ہے۔اقتصادی ماہرین اسے ایک سٹریٹیجک پیش رفت قراردیتے ہیں۔یہ ایک ایساخواب ہے جس کی تعبیر پورے خطے کی تقدیربدل سکتی ہےاوریہ خواب محض اقتصادی نہیں بلکہ جغرافیائی حقیقتوں میں پیوست ہے۔ پاکستان اگر صرف اپنے محلِ وقوع کو مؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کرلےتویہ خطہ عالمی تجارت کےنقشے پرایک نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ گویایہ سرزمین اگراپنی حیثیت کوپہچان لے توقافلے اس کے درپر خود دستک دیں گے،اورراستے اس کے نام سے پہچانے جائیں گے۔پاکستان ایران ٹرانزٹ راہداری کے عملی آغازکے ساتھ ہی پہلی تجارتی کھیپ ایران کے راستے تاشقند ،ازبکستان روانہ کی گئی۔یہ ایک علامتی سفر بھی ہے جویہ پیغام دیتاہے کہ اگرارادہ پختہ ہوتو فاصلے رکاوٹ نہیں بنتے۔ اسے فکری انداز میں میں یوں کہاجاسکتاہے کہ عمل وہ معیار ہے جو دعوؤں کوحقیقت میں بدلتاہے،اورقومیں اسی سے پہچانی جاتی ہیں کہ وہ اپنے ارادوں کوکس حدتک عملی جامہ پہناتی ہیں۔
2018ء میں پاکستان اورایران کے درمیان یہ اتفاق ہواتھاکہ ایران کے راستے ترکی تک اورپاکستان کے راستے چین تک تجارتی راہداری کھولی جائے گی۔یہ معاہدہ دراصل ایک وسیع تراقتصادی نیٹ ورک کی بنیادہےجس میں پوراخطہ ایک دوسرے سے جڑسکتا ہے۔ اگر ایران پاکستان کی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی تجارت میں حصہ لیتاہے توپاکستان بھی ایران کے راستے وسطیٰ ایشیااوریورپ تک رسائی حاصل کرسکتاہے۔یہ باہمی انحصاردراصل علاقائی استحکام کاضامن بن سکتا ہے۔ اسے سفارتی اسلوب میں یوں کہاجاسکتاہے کہ راستے جب ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں تووہ صرف فاصلے کم نہیں کرتے بلکہ دلوں کوبھی قریب لے آتے ہیں۔
پاکستان ماضی میں وسطیٰ ایشیاتک زمینی رسائی کے لئے افغانستان پرانحصار کرتا رہا ہے، مگروہاں کی غیر یقینی صورتحال اورسیاسی کشیدگی نے اس راستے کوغیرمستحکم بنا دیا ہے۔گزشتہ سال سے پاکستان اورافغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باعث گزرگاہیں بندہیں، جس سے تجارت شدیدمتاثرہوئی جس نے پاکستان کو متبادل راستوں کی تلاش پرمجبورکیاکہ ایران کے ذریعے یہ خلاپرہوسکتاہے اورتجارت کوتسلسل مل سکتاہے۔ ایسے میں ایران کے ذریعے متبادل راستہ تلاش کرناایک ناگزیرحکمت عملی تھی۔یہ اقدام پاکستان کو ایک سے زیادہ محفوظ اورقابلِ اعتمادتجارتی راستہ فراہم کرسکتاہے، ایساراستہ جوسیاسی اتارچڑھاؤ سے نسبتاًمحفوظ ہو۔ گویا جب ایک دربندہو جائے تودانشمند وہی ہے جودیوارمیں دروازہ تلاش کرے،نہ کہ بند درکے سامنے بیٹھ کرماتم کرے۔
آبنائے ہرمزکی بندش کے دوران کئی جہاز پاکستان کی بندرگاہوں پرلنگراندازہوئے،جس سے کراچی کی بندرگاہوں پرکارگوہینڈلنگ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ عالمی تجارتی جہازوں کی آمدنے یہ واضح کردیاکہ یہ بندرگاہیں خطے کی معیشت میں کلیدی کرداراداکرسکتی ہیں۔یوں بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان ایک معاشی مرکزبننے کی راہ پرگامزن ہے۔اب ایران کےلئےتجارتی راہداری کھلنے کے بعدیہ سرگرمیاں مزیدتیزہونے کی توقع ہے۔گوادراورکراچی کی بندرگاہیں محض ساحلی مقامات نہیں رہیں بلکہ وہ معاشی سرگرمیوں کےمراکزبننےجارہی ہیں۔یہ بندرگاہیں اب محض ساحلی مقامات نہیں بلکہ اقتصادی زندگی کی دھڑکن بن رہی ہیں۔ یہ وہ دھڑکنیں ہیں جن سے معیشت کاجسم زندہ رہتا ہے۔گویاسیاسی دانش کایہ بروقت فیصلہ درست ثابت ہواکہ معیشت کی قوت اس کے بہا ؤمیں ہوتی ہے اور جہاں بہاؤ رک جائے، وہاں زوال جنم لیتاہے ،یہ اقدام اسی بہاؤ کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے۔اب اس فیصلے کے بعد ان میں مزید تیزی آئے گی۔
یہ ساری داستان محض راہداریوں،بندرگاہوں اورمعاہدوں کی نہیں بلکہ ایک قوم کے شعورکی کہانی ہے،ایک ایسی قوم جواپنے محلِ وقوع کواپنی تقدیرمیں بدلنے کی کوشش کررہی ہے۔ پاکستان نے ایران کے لئے تجارتی راہداری کھول کرنہ صرف ایک ہمسائے کی مدد کی ہے بلکہ اپنے لیے بھی امکانات کے درواکیے ہیں۔یہ اقدام سیاست، معیشت اوراخلاق تینوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔یہ فیصلہ محض ایک اقتصادی اقدام نہیں بلکہ ایک فکری اعلان ہے کہ پاکستان اپنےجغرافیےکواپنی تقدیربنانےکی صلاحیت رکھتاہے۔اگرنیت میں اخلاص اورحکمت میں توازن قائم رہا،اوریہ پالیسی تسلسل کے ساتھ جاری رہی تووہ دن دورنہیں جب پاکستان واقعی علاقائی تجارت کامرکزبن جائے گااورتب تاریخ یہ لکھےگی کہ ایک قوم تھی جس نے اپنےجغرافیے کوپہچانا،اسے سنوارا،اورپھراسے اپنی تقدیربنالیااوریہی وہ لمحہ تھاجب جغرافیہ اللہ کی بیش بہا نعمت ثابت ہوااورزمین نے تاریخ کوجنم دیا۔
یہ فیصلہ محض راہداری کھولنے کانہیں بلکہ امکانات کے درواکرنے کاہے۔اس میں سیاست کی بصیرت،معیشت کی ضرورت اورتہذیب کی شائستگی تینوں یکجاہیں۔اگرتاریخ کوغور سے دیکھاجائے تومعلوم ہوتا ہے کہ اقوام وہی زندہ رہتی ہیں جواپنے جغرافیے کو تقدیرمیں بدلنا جانتی ہیں۔پاکستان نے اس اقدام کے ذریعے یہی پیغام دیاہے کہ وہ محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک راستہ ہے،ایک ایساراستہ جو مشرق ومغرب کو ملاتا ہے،اورجس پرچل کرخطہ ایشیاء ایک نئی صبح کی طرف بڑھ سکتاہے۔

یہ بھی پڑھیں