Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ایک عہد،ایک قیادت،ایک فیصلہ

پاکستان کی سیاسی وعسکری تاریخ کے افق پر بعض ادوارایسے طلوع ہوتے ہیں جومحض واقعات کامجموعہ نہیں ہوتے بلکہ ایک عہد کی فکری وتہذیبی تشکیل کاپیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ محض واقعات کی قطارنہیں ہوتی،بلکہ وہ ایک زندہ شعورہے جوقوموں کے عروج وزوال،ان کے فکری سانچوں، اورقیادت کی بصیرت کواپنے دامن میں سمیٹ کرآگے بڑھتی ہے۔ بعض اوقات زمانہ ایسے افرادکو جنم دیتاہے جومحض حالات کے تابع نہیں ہوتے، جونہ صرف حالات کواپنی بصیرت سے نئی جہت عطاکرتے ہیں بلکہ محض عہدوں کی بلندی سے نہیں بلکہ حالات کی دھارکوموڑدینے کی صلاحیت سے پہچانے جاتے ہیں۔یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب تاریخ اپنے معمول کے بہاسے ہٹ کرایک نئے دھارے کی صورت اختیارکرلیتی ہے،اورافراد اپنے کردارکے ذریعے عہدکی سمت متعین کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جووقت کے طوفانوں میں چراغ کی مانندجلتے ہیں اور تاریخ کے اندھیروں میں سمت کا تعین کرتے ہیں۔ پاکستان کی حالیہ سیاسی وعسکری تاریخ میں فیلڈ مارشل عاصم منیرکی شخصیت اسی نوع کی ایک علامت کے طور پر ابھری ہے۔
یہ داستان صرف ایک سپہ سالارکے عروج کی نہیں بلکہ ایک ایسے عہدکی ہے جس میں داخلی انتشار، خارجی دبائاورعالمی سیاست کے پیچیدہ دھارے ایک دوسرے سے ٹکراتے نظر آتے ہیں اورانہی تصادمات کے بیچ ایک قیادت اپنے کردار کومنواتی ہے۔فیلڈمارشل عاصم منیرکی شخصیت بھی اسی نوع کی ایک مثال کے طورپرسامنے آئی ہے ایک ایسی مثال جس میں عسکری وقار،سیاسی بصیرت ، اورعالمی سفارت کاری کانادر امتزاج دکھائی دیتاہے۔فیلڈمارشل عاصم منیرکاعروج بھی اسی نوع کاایک ایساتاریخی مظہرہے جس میں داخلی بحران ، عسکری استقامت،سفارتی مہارت اور عالمی سیاست کے پیچیدہ تانے بانے ایک دوسرے میں پیوست ہوکرایک نئی کہانی رقم کرتے ہیں۔
نومبر2022ء میں جب عاصم منیرنے پاک فوج کی کمان سنبھالی،توپاکستان ایک ہمہ گیرسیاسی بحران اوراضطراب کی گرفت میں مبتلاتھا۔ تحریکِ عدم اعتمادکے نتیجے میں عمران خان کی حکومت کاخاتمہ ہوچکاتھا اورملک ایک ایسی کشمکش کاشکار تھاجس میں ریاستی اداروں کی ساکھ،سیاسی بیانیے اورعوامی اعتمادسبھی آزمائش میں تھے۔ تحریکِ عدم اعتمادکے نتیجے میں عمران خان کی رخصتی نے سیاسی منظرنامے کودھندلادیاتھا۔یوں محسوس ہوتاتھا جیسے ریاستی کشتی بے یقینی کے گرداب میں ہچکولے کھارہی ہو،اورہرسمت سے اٹھنے والی لہریں اس کے توازن کوچیلنج کررہی ہوں۔یہ وہ لمحہ تھاجسے تاریخ ابتلائے قیادتسے تعبیرکرتی ہے جہاں منصب اعزازنہیں بلکہ ذمہ داری کابوجھ بن جاتاہے۔ایسے میں جب عاصم منیرکوفوج کی کمان سونپی گئی تو گویا ان کے ہاتھوں میں ایک ایسے جہازکی باگ ڈوردی گئی جوطوفانی سمندرمیں راستہ تلاش کررہا تھا ۔
عمران خان کی قیادت میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک نیسیاسی فضاکوگرمادیا۔ملک کے طول وعرض میں احتجاج کی صدائیں گونج رہی تھیں ۔ سڑکیں نعروں سے آباداوردل شکوک سے بھر گئے۔ عمران کے حامی سڑکوں پرتھے اور الزامات کی بوچھاڑبراہِ راست فوجی قیادت پرہورہی تھی۔ براہِ راست الزامات نے اس کشیدگی کوایک نئے مرحلے میں داخل کردیا۔یہ وہ مرحلہ تھاجب الفاظ تلواروں کا کام دے رہے تھے اوربیانیے میدانِ جنگ بن چکے تھے۔یہ صرف سیاسی اختلاف نہ تھابلکہ بیانیے کی ایسی جنگ تھی جس میں ہرفریق اپنی سچائی کاعلم اٹھائے کھڑاتھا۔اس پس منظرمیں فوجی قیادت پرلگنے والے الزامات نے ایک نئی کشیدگی کوجنم دیا،جس نے ریاستی اداروں کے درمیان اعتمادکی فضاکومتاثرکیا۔
فوج اورحکومت کی جانب سے الزامات کی مسلسل تردیدکی گئی،مگرفضامیں شکوک وشبہات کے بادل بدستورمنڈلاتے رہے۔فوج اور حکومت کی جانب سے ان الزامات کی مسلسل تردیدکی گئی جو سوشل میڈیااور جلسوں کے ذریعے پھیل رہاتھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب اعتمادکارشتہ متزلزل اور کمزور پڑجائے تووضاحتیں اسے بحال کرنے سے قاصراوراکثربے اثر ہوجاتی ہیں۔یہی وہ مرحلہ تھاجہاں ریاستی بیانیہ جذبات کی آندھی میں غوطے لگارہاتھااوردلیل کی آوازمدہم ہوتی چلی گئی ا ور عوامی تاثرایک دوسرے سے متصادم دکھائی دینے لگا۔
نومئی کے واقعات پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ہنگامہ خیزباب اورسنگِ میل ثابت ہوئے جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک گہراشگاف ڈال دیا۔ عمران کی گرفتاری کے بعدملک بھرمیں ہونے والے پرتشددمظاہروں نے ریاستی نظم کوہلاکررکھ دیا۔راولپنڈی میں جی ایچ کیوسمیت کئی حساس تنصیبات کونشانہ بنایا گیا۔ عسکری تنصیبات پرحملے دراصل ایک علامتی بغاوت کی شکل اختیارکرگئے۔یہ وہ دن تھاجب احتجاج اور بغاوت کے درمیان لکیردھندلاگئی۔
ان واقعات کے بعدمقدمات کاایک سلسلہ شروع ہوا،جس میں سینکڑوں افرادنامزدہوئے۔ ریاست نے سخت قانونی کارروائی کاآغازکیا، عمران اوران کی جماعت نے اسے انتقامی کارروائی قراردیا جبکہ ریاست نے اسے قانون کی عملداری کاتقاضا بتایا۔ یوں بیانیے کی جنگ مزیدگہری ہوگئی،اور سیاسی تقسیم واضح ترہوتی گئی۔ یہی وہ موڑتھاجہاں سے سیاسی تحریک کی رفتارمدہم پڑتی دکھائی دی۔ اس کشمکش نے سیاسی فضاکومزیدپیچیدہ بنادیا۔
نومئی کے واقعات نے درحقیقت سیاسی تحریک کی رفتارکومتاثرکیا۔جوتحریک ایک عوامی لہرکے طورپر ابھری تھی،وہ رفتہ رفتہ اپنی توانائی کھونے لگی ۔ یوں محسوس ہوتاتھاجیسے تاریخ نے ایک موڑلے لیاہواورسیاسی قوتوں کواس بحرانی موڑپر ازسرِنو صف بندی اورحکمت عملی پرنظرثانی کرناپڑی۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں