Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

معرکہ حق اور ناچ گانے

معرکہ حق اور بنیان المرصوص کا ناچ گانے اور اچھل کود سے کیا تعلق ہے؟معرکہ حق کا نام لے کر مخلوط ناچ گانوں کی محفلیں کرنا بے حیائی اور فحاشی کو پروان چڑھانا دراصل شہدائے معرکہ حق کے خون کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے،ناچنے اور گانے والے مرد اور عورتیں انڈیا کے پاس بہت زیادہ ہیں اگر ناچ گانے سے ہی کوئی جنگ جیت سکتا تو انڈیا گزشتہ سال پاکستان سے جنگ جیت چکا ہوتا لیکن پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی عبرت ناک شکست یہ ثابت کر رہی ہے کہ جنگ ناچنے اور گانے والوں کے بس کی بات نہیں، بلکہ جنگ ’’کھیڈ نہیں ہوندی زنانیاں دی‘‘ ہمارے جوانوں نے تکبیر کے نعرے بلند کرتے ہوئے انڈیا پر وار کئے، قرآنی آیات پڑھتے ہوئے انڈیا پر زمینی اور فضائی حملے کیے، مسلم لیگ نون کی حکومت بالخصوص پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو میرا چیلنج ہے کہ وہ کوئی ایک واقعہ ثابت کریں کہ جنگ بنیان المرصوص میں کسی پاکستانی فوجی نے گانا گاتے یا ناچتے ہوئے انڈیا پر حملہ کیا ہو؟کوئی ایک بھی نہیں، خود فیلڈ مارشل حافظ جنرل سید عاصم منیر اپنی تقریروں میں ہمیشہ قرآنی ایات پڑھ کر قران مقدس کے حوالہ جات دیتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج کمان سے لے کر عام فوجی تک انڈیا کے ساتھ جنگ کو مقدس جنگ سمجھ کر لڑتی چلی ا رہی ہے،فیلڈ مارشل فرماتے ہیں کہ معرکہ حق میں ہم نے اللہ کی مدد دیکھی،معرکہ حق کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ قوموں کی زندگی میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ یہ لمحات صرف میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ قوم کے نظرئیے، اتحاد، قربانی اور کردار کی طاقت کا مظہر ہوتے ہیں۔ جب کوئی قوم اپنے دفاع، اپنی خودمختاری اور اپنے نظریے کے تحفظ کے لئے کھڑی ہوتی ہے تو اس کے ہر عمل میں سنجیدگی، وقار اور مقصدیت نظر آنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے مواقع کو تفریحی رنگ دینا یا انہیں محض ایک جشن کی صورت میں پیش کرنا اس قربانی کی روح کے منافی سمجھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں قوم کو عزت اور سربلندی نصیب ہوتی ہے۔
قومیں اپنے شہداء کو صرف یاد نہیں کرتیں بلکہ ان کی قربانیوں کو اپنے کردار اور عمل میں زندہ رکھتی ہیں۔ شہداء کی یاد ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ آزادی، امن اور خودمختاری کسی تحفے کا نام نہیں بلکہ یہ مسلسل جدوجہد اور قربانی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جب ہم ان قربانیوں کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس ہونا چاہیے کہ ہم اپنے رویوں، اپنی گفتگو اور اپنے اجتماعی طرزِ فکر میں وہی سنجیدگی پیدا کریں جو ایک زندہ قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ کسی بھی قومی کامیابی کو صرف تفریح یا جشن تک محدود کر دینا اس کے اصل پیغام کو کمزور کر دیتا ہے۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قوموں کی اصل طاقت ان کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نوجوان نسل جب اپنے ماضی سے سبق حاصل کرتی ہے تو وہ مستقبل کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں اپنی شناخت اور نظرئیے سے جڑی رہیں تو ہمیں انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ قومی وقار اور قومی کامیابیاں محض خوشی منانے کا نام نہیں بلکہ یہ شکرگزاری، اتحاد اور خدمت کے جذبے کو فروغ دینے کا موقع بھی ہوتی ہیں۔ ہمیں ایسے مواقع کو قومی یکجہتی، اخلاقی اقدار اور مثبت سوچ کے فروغ کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔ایک مضبوط قوم وہ ہوتی ہے جو اپنی کامیابیوں میں عاجزی اور شکرگزاری کو شامل رکھتی ہے۔ جب قومیں اپنی کامیابی کو محض اپنی طاقت کا نتیجہ سمجھنے لگتی ہیں تو وہ غرور کا شکار ہو جاتی ہیں، جبکہ شکرگزاری انہیں مزید مضبوط اور متحد بناتی ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو قوم کو بحرانوں میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور اسے مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بناتا ہے۔لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی اجتماعی سوچ میں سنجیدگی، احترام اور ذمہ داری کو جگہ دیں۔ قومی کامیابیوں کو یاد کرتے ہوئے ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہماری گفتگو، ہمارے روئیے اور ہماری تقریبات ان قربانیوں کے شایانِ شان ہوں جنہوں نے ہمیں یہ مقام دیا۔ یہی طرزِ فکر ایک باشعور، باوقار اور مضبوط قوم کی بنیاد بنتا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اتحاد، ترقی اور استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔آخر میں یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ ایک مسلمان معاشرے کی شناخت اس کی اخلاقی بنیادوں، دینی شعور اور روحانی وابستگی سے ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنے اجتماعی معاملات میں دین کی رہنمائی کو نظر انداز کر دیتی ہے تو اس کے اندر اخلاقی کمزوری پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ولا تبرجن تبرج الجاہِلِیۃِ الاولی (الاحزاب: 33) یعنی جاہلیت کے زمانے کی طرح بے پردگی اور نمائش نہ کرو۔ یہ آیت اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ ایک باوقار معاشرہ بے حیائی اور غیر سنجیدہ سرگرمیوں کو فروغ دینے کے بجائے وقار، حیا اور سنجیدگی کو اختیار کرتا ہے۔ (جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں