آزاد کشمیر محض ایک خطہ ارضی نہیں بلکہ مخصوص علاقائی تناظر میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزادی کی تحریک کا بیس کیمپ بھی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے آزاد کشمیر میں احتجاج کے اعلانات بہت معنی خیز بیانیہ پیش کررہے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہ احتجاج حقوق کے مطالبے کی بجائے انتشار اور بد امنی کا باعث بن رہا ہے۔آزاد کشمیر میں عوامی مطالبات، مہنگائی، بجلی بلوں، انتظامی اصلاحات اور بنیادی سہولیات سے متعلق تحفظات کے پس منظر میں حکومت اور JAAC کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد عوامی مسائل کو مرحلہ وار، قانونی اور انتظامی طریقہ کار کے تحت حل کرنا تھا۔ اس معاہدے کے بعد حکومت نے متعدد نکات پر عملی پیش رفت کی، مالی ریلیف دیا، انتظامی اصلاحات نافذ کیں اور کئی ترقیاتی منصوبوں کو منظوری، فزیبلٹی، PC-I، ٹینڈرنگ اور وفاقی فورمز کے مراحل میں داخل کیا۔اس واضح پیش رفت کے باوجود JAAC رہنمائوں کی جانب سے 9 جون 2026ء کو ہڑتال کی کال نے آزاد کشمیر کے سیاسی وسماجی ماحول میں سنجیدہ سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ جب مطالبات پر عملدرآمد ہو رہا ہے، عوام کو ریلیف دیا جا چکا ہے اور اربوں روپے کے منصوبے عملی مراحل میں ہیں، تو پھر مسلسل احتجاج اور تصادم کی سیاست اب عوامی حقوق سے زیادہ ذاتی ایجنڈے، سیاسی دکانداری اور انتخابی دبا کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے دل کے قریب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود وفاقی حکومت اور حکومتِ آزاد کشمیر نے عوام کو آٹا، بجلی، صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں میں غیر معمولی ریلیف فراہم کیا ہے۔
پاکستان کے عام شہری جہاں مہنگی بجلی، مہنگا آٹا، ٹیکسز اور معاشی دبائو برداشت کر رہے ہیں، وہاں آزاد کشمیر میں سبسڈی، گرانٹس اور خصوصی ترقیاتی فنڈز کے ذریعے عوامی بوجھ کم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عوامی مطالبات اہم ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ بار بار ہڑتالوں سے فائدہ کس کو ہوتا ہے؟ دکان بند ہوتی ہے تو نقصان دکاندار کا، مزدوری رکتی ہے تو نقصان مزدور کا، راستہ بند ہوتا ہے تو تکلیف مریض اور طالب علم کو ہوتی ہے۔ اس لیے عوامی حقوق کا بہتر راستہ تصادم، بندش اور ہڑتال نہیں بلکہ مذاکرات، شفاف عمل درآمد، عوامی نگرانی اور ذمہ دارانہ مکالمہ ہے۔ حق ضرور مانگیں، مگر ایسا طریقہ اختیار کریں جس سے عام آدمی کا چولہا ٹھنڈا نہ ہو۔حکومتی سطح پر 177ایف آئی آرز واپس لی جا چکی ہیں، جبکہ جاں بحق افراد کے ورثا اور زخمیوں کو مجموعی طور پر 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد معاوضے ادا کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح 5KW ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نافذ، سرچارجز ختم اور بجلی بقایاجات کو 36 اقساط میں تقسیم کیا جا چکا ہے۔ منگلا ڈیم منصوبے سے متعلق بجلی بقایاجات بھی معاف کیے جا چکے ہیں، جبکہ صحت کارڈ سہولت کشمیری عوام تک توسیع دی جا چکی ہے۔انتظامی اصلاحات کے تحت محکموں کی تعداد 22 تک محدود اور کابینہ کا حجم 20 وزرا تک کم کیا گیا ہے، جبکہ داخلوں اور ملازمتوں میں اوپن میرٹ پالیسی نافذ کی گئی ہے۔ ترقیاتی شعبے میں بھی اربوں روپے کے منصوبے عملی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جن میں 5.5 رب روپے کے MRI اور CT Scan منصوبے، 2.8 رب روپے کے ہسپتال اپ گریڈیشن پروگرام، 10 رب روپے کے بجلی نظام کی بہتری کے منصوبے، نیلم ویلی اور کہوٹہ آزاد پتن روڈ کے لئے فزیبلٹی اسٹڈیز اور متعدد واٹر سپلائی اسکیمیں شامل ہیں۔اس واضح پیش رفت کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی کے کرتا دھرتاں کی جانب سے دوبارہ احتجاجی کال ان کی نیت اور اصل مقصد پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔ اگر مطالبات پر عملدرآمد ہو رہا ہے، ریلیف دیا جا رہا ہے اور منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں تو پھر یہ ضد کس کیلئے ہے؟ کیا یہ عوامی مفاد ہے یا چند افراد کی ذاتی سیاست، انا اور انتخابی فائدے کیلئے کشمیر کو دوبارہ بند کرانے کی کوشش؟ فزیبلٹی اسٹڈیز، PC-I، CDWP منظوریوں اور ٹینڈرنگ جیسے مراحل وقت طلب اور تکنیکی نوعیت کے حامل ہوتے ہیں، مگر JAAC قیادت انہیں جان بوجھ کر حکومتی ناکامی بنا کر پیش کر رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل سادہ عوام کو گمراہ کرنے، جذبات بھڑکانے اور اپنی احتجاجی سیاست کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ رہنمائوں کو مسئلہ حل ہونے سے زیادہ مسئلہ زندہ رکھنے میں دلچسپی ہے، کیونکہ مسئلہ ختم ہوا تو ان کی سیاسی دکان بھی بند ہو جائے گی۔
یہ کیسی عوام دوستی ہے جس میں عوام ہی قربانی دیں اور چند چہرے اپنی سیاست چمکائیں؟اصل سوال یہ ہے کہ اگر 32نکات پر پیش رفت کے باوجود احتجاج جاری رکھنا مقصود ہے تو پھر مطالبات کا مقصد کیا تھا؟ کیا JAAC قیادت واقعی مسائل حل کرانا چاہتی ہے یا عوامی مشکلات کو اپنی سیاسی سیڑھی بنانا چاہتی ہے؟ آزاد کشمیر کے عوام استحکام، ترقی، کھلے بازار، فعال تعلیمی ادارے اور مکمل ہوتے منصوبے چاہتے ہیں، نہ کہ چند خود غرض عناصر کے ذاتی مفادات کے لئے انتخابات سے قبل ایک اور مصنوعی بحران۔سب سے خطرناک پیش رفت یہ ہے کہ ایکشن کمیٹی اب آئینی معاملات اور کشمیر کے پاکستان کے ساتھ تعلق پر بات کر رہی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے مقاصد کچھ اور ہیں جبکہ ابتدائی مطالبات کچھ اور تھے۔جب 32 نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے، 177ایف آئی آرز واپس ہو چکی ہیں، معاوضے ادا ہو چکے ہیں اور ریلیف دیا جا چکا ہے، تو پھر ایکشن کمیٹی کشمیر کو دوبارہ بند کرانے پر کیوں بضد ہیں؟ کیا JAAC قیادت عوام کو مکمل سچ بتا رہی ہے، یا تکنیکی اور قانونی مراحل کو جان بوجھ کر حکومتی ناکامی بنا کر پیش کر رہی ہے تاکہ غصہ، اشتعال اور اپنی سیاست زندہ رکھی جا سکے؟ جب بجلی بلوں میں ریلیف، سرچارجز کا خاتمہ اور بقایاجات کی 36اقساط دی جا چکی ہیں، تو پھر عوام کو دوبارہ سڑکوں پر لانا کس ایجنڈے کا حصہ ہے؟ ہر ہڑتال میں مزدور کی دیہاڑی، تاجر کا کاروبار، طالبعلم کی تعلیم اور مریض کا علاج متاثر ہوتا ہے؛ کیا عوامی ایکشن کمیٹی کے کرتا دھرتا بھی یہ قیمت ادا کریں گے یا ہمیشہ کی طرح قربانی صرف عام کشمیری دے گا؟ کیا یہ قیادت عوام کو مکمل سچ بتا رہی ہے، یا فزیبلٹی، PC-Iاور CDWPجیسے قانونی مراحل کو جان بوجھ کر حکومتی ناکامی بنا کر پیش کر رہی ہے؟ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ عوامی تحریک نہیں ہے یا چند چہروں کی ذاتی شہرت، میڈیا توجہ، انتخابی دبا اور سیاسی فائدے کی مہم؟ کیا JAAC قیادت مسئلہ حل کرانا چاہتی ہے یا مسئلہ زندہ رکھنا چاہتی ہے، کیونکہ مسئلہ حل ہوا تو ان کی احتجاجی سیاست بھی ختم ہو جائے گی؟ کیا عام کشمیری نے کسی کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس کے بچوں کی تعلیم، مریضوں کے علاج، کاروبار، روزگار اور روزمرہ زندگی کو اپنی سیاست کا ایندھن بنا دے؟ کشمیر کے نام پر کشمیر کو بند کرانا کیسی سیاست ہے۔