Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ابراہیمی معاہدات یا ضمیر کا امتحان؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخرٹرمپ ایران معاہدہ کوابراہیمی معاہدات کے ساتھ کیوں جوڑنا چاہتے ہیں؟یہ دراصل ایک بڑی تصویرکا حصہ ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کوایک نئے سیاسی نظام میں ڈھالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ تصوربظاہرپرکشش مگرعملی طور پر پیچیدہ ہے۔ٹرمپ ان معاہدات کووسعت دیکراسے اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے طورپر پیش کرناچاہتے ہیں۔یہ ان کے لئے ایک تاریخی ورثہ بنانے کی کوشش بھی ہے ، جسے وہ اپنی صدارت کی پہچان بناناچاہتے ہیں۔
امریکی سینیٹرلنزے گراہم کایہ کہناکہ مسلم ممالک کے پاس’’ناکامی کاکوئی آپشن نہیں‘‘، دراصل ایک ایساتصورہے جوزمینی حقائق سے زیادہ خواہشات پرمبنی ہے۔دراصل ایک ایسی متکبرانہ سوچ کی عکاسی کرتاہے جوعالمی سیاست کومحض طاقت کے زاوئیے سے دیکھتی ہے مگرتاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف دبائو ؤسے نہیں بلکہ بلکہ اپنے اصولوں کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اوران کے پیچھے ایک اجتماعی شعور اور احساسِ غیرت بھی ہوتا ہے۔ امن محض معاہدوں سے نہیں بلکہ انصاف سے قائم ہوتا ہے۔ یہ بیان زیادہ ترایک خواہش معلوم ہوتا ہے، حقیقت نہیں۔ پاکستان کاماضی اس بات کا گواہ ہے کہ اس نے کئی مواقع پرامریکاسے اختلاف کیاہے۔اس لئے یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ پاکستان انکارکر سکتاہے،مگراس کے ساتھ سفارتی دبائو ؤ اور معاشی چیلنجزبھی آئیں گے جس کاسامنا ماضی میں پاکستان کئی بارکر چکا ہے۔یہ فیصلہ ایک تلوارکی دھارپرچلنے کے مترادف ہوگا اور دانشمندی تویہ ہے کہ اس کے لئے ابھی سے کمرکس لینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان،سعودی عرب اوردیگرمسلم ممالک میں عوامی رائے اس معاملے میں نہایت اہم ہے۔ پاکستان اوردیگرمسلم ممالک میں عوامی رائے اس معاملے میں نہایت حساس ہے اور عوام کی اکثریت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے خلاف ہے۔بعض حدتک ہاں،سعودی عرب کا فیصلہ خطے میں ایک رہنماحیثیت رکھتاہے۔ اگرریاض اپنامؤقف بدلتاہے تواسلام آبادپربھی دبائو ئوبڑھے گا،مگرحتمی فیصلہ پھر بھی پاکستان کے داخلی حالات اورعوامی رائے پرمنحصرہوگا۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی حکومت اگراسرائیل کوتسلیم کرنے کی طرف قدم
بڑھاتی ہے تواسے شدیدعوامی ردعمل کا سامنا کرناپڑسکتاہے۔یہ وہ طاقت ہے جواگرچہ خاموش ہوتی ہے،مگرجب بیدارہوتی ہے تونہ صرف ایوانوں کے فیصلوں کوبدل دیتی ہے بلکہ تخت وتاج ہلادیتی ہے۔
غزہ، لبنان اورشام میں اسرائیلی کارروائیوں نے اس کے خلاف عدم اعتمادکومزیدگہرااوراس کے خلاف شکوک وشبہات کوبڑھادیاہے۔ ایسے میں تعلقات کی بحالی محض سفارتی اعلان سے ممکن نہیں بلکہ ایک مشکل مرحلہ ہے۔اعتمادایک ایسانازک آئینہ ہے جوایک بار ٹوٹ جائے تودوبارہ آسانی سے نہیں جڑتایاجڑنے میں طویل وقت لگتاہے جب تک پلوں کے نیچے سے بہت ساپانی گزرچکا ہوتاہے۔اگرچہ مصر،اردن اورترکی،ان ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات موجود ہیں، مگرحالیہ جنگوں کے بعدان تعلقات میں واضح تنائو اورشدید سردمہری دیکھی جارہی ہے۔یہ تعلقات اب محض رسمی رہ گئے ہیں،جن میں وہ حرارت باقی نہیں رہی جوکبھی سفارت کاری کی جان ہوتی ہے۔
ٹرمپ بزورطاقت دراصل ایک تصورکو دوسرے تصورسے بدلنے کی جارحانہ کوشش کررہے ہیں خطے کونئے نظام میں ڈھالنے اور ایک نئے مشرقِ وسطی کاخواب دیکھ رہے ہیں۔ایک ایساخطہ جہاں ایران کو محدود کردیاجائے اوراسرائیل کومرکزی حیثیت حاصل ہو۔یہ تصور بظاہر پرکشش ہے،مگر اس کے عملی نتائج نہایت پیچیدہ اور ہولناک ہوسکتے ہیں۔اپنے اس خواب کی تکمیل کے لئے ٹرمپ نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھرجزوی طورپرایران پرحملہ کیاہے۔یہ ناراضگی دراصل اس بات کی علامت ہے کہ ان کی خواہشات کے مطابق پیش رفت نہیں ہورہی۔ ایران پرحملے کوبعض تجزیہ کارطاقت کے بجائے بے بسی کی علامت بھی قراردیتے ہیںگویا جب دلیل کمزورہوجائے تو طاقت کاسہارا لیا جاتا ہے۔
سیتھ فرانٹزمین جوموجودہ دورکے ایک معروف امریکی نژاداسرائیل میں مقیم صحافی،سیاسی تجزیہ کار،محقق اورمصنف ہیں،جنہیں خاص طورپرمشرقِ وسطیٰ کی جنگوں،ایران، اسرائیل ، شام،عراق اورعسکری حکمتِ عملی کے تجزیے پرگہری مہارت حاصل ہے۔ان کے مطابق ’’نیوابراہیم اکارڈز‘‘ ایک غیرحقیقی تصورہے کیونکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ان کے مطابق خطہ اس وقت استحکام کے بجائے مزید کشیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے،نہ کہ امن کی طرف۔اس لئے ایسے معاہدات کاپھیلاؤ مشکل دکھائی دیتاہے کیونکہ اگران میں انصاف کا عنصر شامل نہ ہواتویہ مزیدتنازعات کوجنم دے سکتے ہیں۔امن صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ انصاف سے قائم ہوتاہے۔یہ تجزیہ اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ زمینی حقائق اورسیاسی بیانیے میں کتنافرق ہے۔ایران جنگ کے بعدممکن ہے کہ نئے اتحادابھریں۔ ترکی،سعودی عرب اور پاکستان ایک مشترکہ محاذبناسکتے ہیں۔یہ اتحاد اگر وجود میں آیاتوعالمی سیاست میں ایک نئی قوت کے طورپر سامنے آسکتاہے۔
کیاامریکاگریٹر اسرائیل کے تصورکو فروغ دے رہاہے؟بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایساہی لگتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکاایک ایسے مشرقِ وسطی کی تشکیل چاہتاہے جہاں اسرائیل مرکزی حیثیت رکھتاہویہی ’’گریٹراسرائیل‘‘ کا تصور ہے۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکااس تصور کوعملی شکل دینے کی کوشش کررہاہے۔یادرہے کہ گریٹر اسرائیل کاتصور ایک ایسا نظریہ ہے جو صرف خطے میں ہی نہیں بلکہ عالمی طورپربے چینی کاسبب بناہواہے۔یہ تصورخطے میں بے چینی کوبڑھا سکتا ہے اورنئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں