(گزشتہ سے پیوستہ)
اس کے ساتھ یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ فقہی مسائل و احکام میں دوسرے فقہی مذاہب کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے اگر انداز مجادلہ و مناظرہ کی بجائے افہام و تفہیم اور بریفنگ کا ہو تو اس کی افادیت زیادہ ہوگی۔ بریفنگ سے میری مراد یہ ہے کہ متعلقہ مسئلہ میں طلبہ کو تمام ضروری معلومات مہیا کر دی جائیں، اب یہ استاذ کا فن اور مہارت ہے کہ وہ معلومات کو اس انداز اور ترتیب سے طلبہ کے سامنے بیان کرے کہ ان کے ذہنوں میں اپنے فقہی احکام کی ترجیح متاثر نہ ہونے پائے۔
تیسری گزارش یہ ہے کہ فقہی احکام کا ایک بڑا حصہ عرف و تعامل سے تعلق رکھتا ہے اور یہ بات مسلّمات میں سے ہے کہ جن احکام و مسائل کا تعلق عرف و تعامل سے ہو وہ عرف و تعامل کے بدلنے کے ساتھ تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اور یہ بات بھی کسی دلیل کی محتاج نہیں ہے کہ عرف و تعامل میں زمان و مکان دونوں حوالوں سے تبدیلی آتی ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر معاملہ میں امریکہ، یورپ، افریقہ اور جنوبی ایشیا کا عرف و تعامل یکساں ہو، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہمارے ہاں جو عرف و تعامل آج سے ایک سو سال قبل تھا وہ آج بھی اسی طرح قائم ہو۔ اس لیے جب ہم قدوری اور ہدایہ پڑھاتے ہیں تو بہت سے مسائل ان کے مصنفین کے دور کے عرف و تعامل کی بنیاد پر بیان ہوتے ہیں، اگر وہاں استاذ وضاحت نہیں کرے گا تو طالب علم کا ذہن الجھن اور کنفیوژن کا شکار ہوگا اور مسئلہ کی صحیح نوعیت واضح نہیں ہوگی۔ اس لیے استاذ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فرق کو طلبہ کے سامنے رکھے اور انہیں سمجھائے کہ کون سا مسئلہ عرف و تعامل کے فرق کی وجہ سے کس طرح بدل گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے بھی استاذ کو ہی زیادہ محنت کرنا ہوگی اور میرے نزدیک اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ فقہ کی کسی کتاب کا متن یا شرح پڑھاتے ہوئے حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمان دیوبندیؒ، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، اور حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ کے فتاوٰی یا فتاوٰی دارالعلوم دیوبند وغیرہ میں سے بھی کسی کو سامنے رکھے اور جہاں فتوٰی میں فرق محسوس کرے اس کی وجہ معلوم کر کے طلبہ کو اس سے آگاہ کرے۔
چوتھی گزارش یہ کر رہا ہوں کہ آج کے سائنسی دور میں پیش آنے والے جدید مسائل پر بھی استاذ کی نظر ہونی چاہیے اور طالب علم کا یہ حق ہے کہ استاذ اسے جدید مسائل سے روشناس کرائے اور ان کے حل کی طرف اس کی راہنمائی کرے۔ سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی مسلسل پیشرفت نے بہت سے ایسے مسائل پیدا کر دیے ہیں جن سے ہمیں اس سے قبل واسطہ نہیں پڑا تھا۔ ان مسائل کا حل شرعی اصولوں کی روشنی میں تلاش کیا جا سکتا ہے اور ہر دور میں تلاش کیا جاتا رہا ہے۔ فقہ پڑھنے والے طلبہ کو ایسے مسائل سے ذہنی طور پر مانوس ہونا چاہیے تاکہ عملی زندگی میں اس قسم کے کسی مسئلے سے اچانک واسطہ پڑنے پر وہ الجھن اور وحشت کا شکار نہ ہوں۔
مثال کے طور پر میں صرف ایک مسئلہ کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ ابھی گزشتہ شعبان المعظم کے دوران میں امریکہ کے شہر ہیوسٹن گیا جہاں امریکہ کا خلائی تحقیقاتی مرکز ناسا (NASA) ہے۔ وہاں سے خلائی جہاز خلا میں روانہ کیے جاتے ہیں، ان خلائی جہازوں میں خلا باز کئی کئی ماہ خلا رہتے ہیں۔ میں نے اس سفر میں ناسا کا بھی دورہ کیا اور وہاں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اب مسلمان خلاباز بھی خلا میں جانا شروع ہوگئے ہیں اور اسی رمضان المبارک کے دوران ملائیشیا کے بعض مسلمان خلاباز خلا میں گئے ہیں۔ ہمیں وہاں بتایا گیا کہ جب خلائی شٹل زمین کے مدار سے نکل کر خلا میں داخل ہوتی ہے تو سورج کے گرد اس کی گردش چوبیس گھنٹے کے بجائے نوے منٹ کی رہ جاتی ہے۔ ایک تو ان نوے منٹوں میں پانچ نمازوں کی ادائیگی کا مسئلہ درپیش ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کشش ثقل ختم ہوجانے کے باعث وہاں کسی جگہ پاؤں ہی نہیں ٹکتے تو نماز میں قیام، رکوع اور سجود وغیرہ کی کیا کیفیت ہوگی؟ تیسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ کشش ثقل نہ ہونے کی وجہ سے پانی کو جسم کے اعضا پر گرانا اور وضو کرنا بھی ممکن نہیں ہے تو ایسی صورت میں نمازوں کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟ یہ مسئلہ ملائیشیا کے مسلمان خلابازوں کی طرف سے پیش کیا گیا ہے اور امریکہ کے ایک اردو اخبار نے لکھا ہے کہ اس کے بارے میں سب سے پہلے ہاورڈ یونیورسٹی کے ایک یہودی پروفیسر نے رائے دی ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے نماز کی صورت وہی ہوگی جو مسلمان فقہاء نے معذور کے لیے بیان کی ہے۔ مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے عرض کیا کہ میرے خیال میں اس یہودی پروفیسر نے بالکل صحیح بات کی ہے کیونکہ ایسی حالت میں معذور ہی کی طرح نماز ادا کی جا سکتی ہے۔
یہ میں نے صرف ایک مثال دی ہے، اس قسم کی بیسیوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ طلبہ کو ایسے مسائل سے واقف کرانا ضروری ہے تاکہ وہ ذہنی طور پر اس قسم کے مسائل کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ اس کے لیے میری گزارش ہے کہ فقہ پڑھانے والے اساتذہ جدید مسائل پر ہونے والے علمی مباحث سے خود واقف ہوں اور جہاں جہاں موقع مناسب دیکھیں سبق کے دوران ضروری باتیں طلبہ کے سامنے بیان کر دیا کریں۔ ان مسائل پر دنیا میں ہر جگہ بحث و مباحثہ ہو رہا ہے، کتابیں اور مقالات موجود ہیں، مثال کے طور پر حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ، حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ، حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، حضرت مولانا سید نصیب علی شاہ بنویؒ اور دیگر اہلِ علم نے اس سلسلہ میں جو کام کیا ہے وہ ان مسائل پر معلومات کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ اگر فقہ کے مدرس کے مطالعہ میں یہ کتابیں اور مباحث ہوں تو وہ بڑی آسانی کے ساتھ مناسب مواقع پر طلبہ کی ان مسائل کی طرف راہنمائی کر سکتا ہے۔
(جاری ہے)