Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

اتحادِ امت کا نیا موڑ

(گزشتہ سے پیوستہ)
اسلامی نیٹوکی تجویزکی سیاسی معنویت،قیادت کابیانیہ اورپاکستان بطورایٹمی قوت کے ذمہ دارانہ کردارایک انتہائی اہم ذمہ داری کا بوجھ کوئی معمولی بات نہیں کیونکہ پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہے۔پاکستان کواپنی ایٹمی صلاحیت کوڈیٹرنس (بازدار قوت)کے طورپرپیش کرنا چاہیے ،نہ کہ سیاسی دبائوکے آلے کے طور پر۔ میزائل ٹیکنالوجی،دفاعی تربیت،اور انسدادِ دہشت گردی کے تجربے کو رکن ممالک کے ساتھ شیئرکیا جا سکتا ہے۔ ایک مشترکہ جوہری سلامتی وتحقیقی فورم قائم کیا جائے تاکہ ٹیکنالوجی کے پرامن اوردفاعی استعمال میں رہنمائی ہو۔یہ کردارپاکستان کوقیادت نہیں بلکہ ذمہ داری کاامین بنائے گا۔
لندن سے شائع ہونے والے روزنامہ ری الیوم نے یہ دعویٰ کیاکہ صدراردوغان کے ریاض اور قاہرہ کے دورے ایک ایسے منصوبے کاحصہ ہیں جس کامقصد سیاسی وعسکری اسلامی اتحادکی بنیادرکھنا ہے۔ اسی طرح القدس العربی نے اسے ایک ممکنہ دفاعی چھتری قراردیاجبکہ ترک ویب سائٹ ترک پریس نے مصر،سعودی عرب اورترکی کی بڑھتی ہوئی قربت کوایک نئے علاقائی اتحادکاپیش خیمہ کہاجبکہ عربیک ڈیفنس اورمصری اخبار یوم7نے اس پیش رفت کوسیاسی حقیقت پسندی کی علامت قراردیتے ہوئے احتیاط اور تدریج کی ضرورت پرزوردیاہے۔
یعنی اختلافات کومنجمدکرکے مشترکہ مفادات کی طرف پیش قدمی گویا حقیقت پسندی جذباتیت پر سبقت لے رہی ہے۔مگربیانیہ اورحقیقت کے درمیان ابھی فاصلہ باقی ہے۔تاہم عرب ذرائع ابلاغ میں زیرِگردش قیاس آرائیاں ابھی ٹھوس شواہدسے محروم ہیں گویا افواہوں کی فصیلیں بلندہیں مگربنیادیں ابھی ڈالی نہیں گئیں۔
بعض عرب رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت نے ترکی اورپاکستان کوشامل کرتے ہوئے کسی باقاعدہ اسلامی نیٹومنصوبے کی تردیدکی ہے۔ممکنہ شرکاکے طور پر ترکی، مصر،پاکستان اورانڈونیشیاکے نام لئے جارہے ہیں۔ یہ ممالک جغرافیائی اعتبارسے تین براعظموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔اگریہ سب ایک دفاعی فریم ورک میں منسلک ہوں تویہ اتحادبحیرہ روم سے بحرالکاہل تک ایک اسٹریٹجک پٹی تشکیل دے سکتاہے۔
پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہے۔ اس کی میزائل ٹیکنالوجی اورعسکری تجربہ اتحاد کواسٹریٹجک گہرائی فراہم کرسکتاہے۔ مگراس کردارکوذمہ داری اور توازن کے ساتھ نبھانا ہو گا،تاکہ ایٹمی قوت محض باز دار رہے،انسدادِ دہشت گردی،میزائل ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ فوجی تربیت میں پاکستان کاتجربہ قیمتی اثاثہ ہے۔ ایک مشترکہ نیوکلیئرسیفٹی فورم کے قیام سے سلامتی کے معیارات کوہم آہنگ کیاجاسکتاہے۔اشتعال انگیزنہ بنے لیکن دشمن پراپنی ہیبت طاری کرنے کے لئے ہرقسم کے جدیداسلحہ ومیزائل کے تجربات جاری رہیں۔
ترکی نے ڈرون ٹیکنالوجی،بکتربند گاڑیوں اوربحری دفاعی نظام میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ترکی کودفاعی پیداوارکے میدان میں مشترکہ صنعتی زونز قائم کرنے کی پیشکش کرنی چاہیے۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ تحقیق وترقی ’’آراینڈڈی‘‘کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ دفاعی نمائشوں اورمشترکہ مشقوں کے ذریعے عملی ہم آہنگی کوفروغ دیاجائے۔ترکی کا تجربہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیاسی عزم اور صنعتی پالیسی مل کر خود کفالت کی راہ ہموارکرتے ہیں۔سرکاری حمایت یافتہ تحقیقی ادارہ سیٹااس فعال حکمتِ عملی کوترکی کے نئے عالمی کردار سے تعبیرکرتاہیایک ایسا کردارجوپل سے بڑھ کرمحور بننے کی خواہش رکھتاہے۔
قطر،متحدہ عرب امارات اوردیگرخلیجی ریاستیں توانائی کی دولت رکھتی ہیں۔ایک اسلامی دفاعی سرمایہ کاری فنڈقائم کیاجائے۔ دفاعی صنعتوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی جائے تاکہ درآمدی انحصارکم ہو۔مصرافریقہ اورعرب دنیاکے سنگم پرواقع ہے۔اپنی بحری اورزمینی فوجی مہارت کومشترکہ مشقوں کے ذریعے بروئے کارلاسکتاہے۔نہرسویزکی اسٹریٹجک اہمیت کے پیشِ نظربحری سلامتی میں مرکزی کرداراداکیا جا سکتا ہے۔ مصرنہرِسویز کے ذریعے عالمی تجارت میں کلیدی حیثیت بھی رکھتاہے۔بحری سلامتی میں قائدانہ کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔افریقی ممالک کے ساتھ دفاعی ہم آہنگی کوفروغ دیاجاسکتاہے۔
انڈونیشیااورملائشیادفاعی ٹیکنالوجی اوربحری صنعت میں تجربہ رکھتے ہیں۔یہ دونوں ممالک بحری سلامتی اورصنعتی مہارت کے حوالے سے اہم کردارادا کر سکتے ہیں۔ان کی شمولیت جنوب مشرقی ایشیاء اتحاد کو جغرافیائی وسعت اورعملی توازن دے گی۔جنوب مشرقی ایشیاء میں بحری سلامتی کے لئے مشترکہ بیڑہ تشکیل دیاجا سکتا ہے۔ سائبرسکیورٹی اورالیکٹرانک وارفیئرکے میدان میں تعاون کووسعت دی جائے مگرداخلی سیاسی ترجیحات، معاشی مسائل اورعلاقائی رقابتیں اس خواب کی راہ میں حائل ہوسکتی ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض سفارتی قربت ہے یاحقیقی عسکری ہم پیمانی کی تمہید؟
روزنامہ ری الیوم کے دعوے کے مطابق ابتدا تین ممالک سے ہوسکتی ہے۔یہ حکمت عملی یورپی تجربے سے مماثل ہے جہاں محدود شراکت نے رفتہ رفتہ وسعت اختیارکی۔اگر ترکی، مصراورسعودی عرب ابتدائی فریم ورک تشکیل دیں تووہ دفاعی ہم آہنگی،مشترکہ مشقوں اورانٹیلی جنس تعاون کے ذریعے اعتمادسازی کی فضا قائم کرسکتے ہیںاوریہی اعتماد آئندہ وسعت کاپیش خیمہ ہوگا۔ اخبارکا دعویٰ ہے کہ صدراردوغان کے ریاض وقاہرہ کے دورے ایک ایسے منصوبے کاحصہ ہیں جس کامقصدابتدائی طورپرتین ممالک پر مشتمل اتحادہے، جس میں بعدازاں پاکستان اورانڈونیشیا شامل ہوسکتے ہیں۔اگریہ درست ہے تویہ تدریجی حکمتِ عملی کی علامت ہے پہلے بنیاد،پھرعمارت۔
سعودی عرب،قطر،متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک توانائی کی دولت سے مالامال ہیں۔یہ ممالک ایک اسلامی دفاعی سرمایہ کاری فنڈقائم کرسکتے ہیں۔اس فنڈکے ذریعے مشترکہ اسلحہ سازی کارخانوں، ٹیکنالوجی پارکس اورعسکری اکیڈمیوں میں سرمایہ کاری ہو۔دفاعی صنعت کومحض درآمدی انحصارسے نکال کر مقامی پیداوارکی طرف منتقل کیاجائے۔ سرمایہ اگر حکمت کے ساتھ جڑے تو قوتِ بازوکودوام بخشتاہے۔
مشترکہ دفاعی منشورواضح کیاجائے کہ اتحاد کا مقصددفاع اورعلاقائی استحکام ہے۔بحران کے وقت فوری ردعمل کے لئے مرکزی نظام، یعنی مشترکہ کمانڈاینڈ کنٹرول سینٹرقائم کیاجائے جو سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں، فضائی، بحری اورزمینی افواج کی ہم آہنگی کی ذمہ دار ہو۔ اسلامی دفاعی یونیورسٹی میں افسران اورسائنس دانوں کی مشترکہ تربیت،دفاعی صنعت میں خود انحصاری،مشترکہ اسلحہ سازی کارخانے اورٹیکنالوجی پارکس کے لئے ہنگامی بنیادوں پرکام شروع کیاجائے۔علاوہ ازیں اقتصادی ومالیاتی تعاون کے لئے مقامی کرنسیوں میں تجارت اور دفاعی منصوبوں کے لئے خصوصی بینک قائم کئے جائیں۔ یہ اقدامات تدریجی ہوں مگرمربوطکیونکہ اتحادایک دن میں نہیں بنتا،بلکہ اعتماد کی اینٹوں سے تعمیرہوتاہے۔ان خوابوں کی تعبیرکے لئے عملی اقدامات کرناضروری ہے۔
ترک پریس نے مصر،سعودی عرب اورترکی کے مابین بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کوایک نئے اتحادکی علامت اورعلاقائی اتحادکاپیش خیمہ قراردیا۔تاہم یہ سوال اہم ہے کہ کیایہ محض وقتی مفاہمت ہے یااسٹریٹجک ہم آہنگی؟مصراورترکی کے تعلقات حالیہ برسوں میں کشیدہ رہے؛اگریہ دونوں ممالک اختلافات کوپسِ پشت ڈال کرمشترکہ مفادات پرمتفق ہوتے ہیں تویہ علاقائی سیاست میں بڑی تبدیلی ہوگی۔تاہم بعض مبصرین کے نزدیک یہ اتحادسے زیادہ مفاہمت کی سیاست ہییعنی اختلافات کومنجمد کرکے مشترک مفادات کی طرف پیش قدمی۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں