مڑ کر دیکھنے کی عادت نہ ہو تو حالات بدلنے کی فرصت نہیں ملتی ، راستہ اپنا متعین کیا ہوا نہ ہو تو منزل نہیں ملتی ۔یقین کی دولت نہ ہو تو اعتماد کا دامن ہاتھ نہیں آتا ،رخ متعین نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک دلچسپ اور افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں حکومتیں اکثر اقتدار تو حاصل کر لیتی ہیں مگر اقتدار کا اعتماد حاصل نہیں کر پاتیں۔ تخت ملتا ہے ، مگر اختیار کا یقین نہیں ملتابلکہ الٹنے کی سرگوشی کانوں میں انڈیل دی جاتی ہے،اقتدار کے ایوانوں پرقبضہ تو مل جاتا ہے مگر دلوں اور ذہنوں پر حکمرانی نصیب نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی حکومتیں اپنی مدت کے دوران عوام سے زیادہ اپنے مستقبل، اپنے اتحادیوں، اپنے مخالفین اور اپنے طاقتور سرپرستوں کے بارے میں فکر مند دکھائی دیتی ہیں۔آج اگر ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وفاق اور پنجاب میں برسرِ اقتدار مسلم لیگ (ن) کی حکومت ایک ایسی کشتی پر سوار ہے جو بظاہر پانی پر تیر رہی ہے مگر اس کے ملاح کو یقین نہیں کہ اگلا کنارہ کہاں ہے۔ ملک کے کسی حصے میں ضمنی انتخاب ہو، پارلیمان میں قانون سازی کا مرحلہ آئے، اتحادی جماعتوں کے ساتھ تعلقات کا معاملہ ہو، بجٹ کی منظوری درپیش ہو یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت، ہر محاذ پر حکومت کسی نہ کسی درجے کی بے یقینی، اضطراب اور مخمصے کا شکار دکھائی دیتی ہے۔دراصل راستہ ہمیشہ اسے صاف دکھائی دیتا ہے جو صحیح راستے پر چلنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ جس مسافر کی نیت منزل تک پہنچنے کی ہو وہ کٹھن راستوں سے بھی گزر جاتا ہے، لیکن جس کا پورا دھیان راستے سے زیادہ شارٹ کٹ تلاش کرنے پر ہو، وہ ہر موڑ پر الجھتا رہتا ہے۔ پاکستانی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں اصولی سیاست کے بجائے اقتدار کی سیاست نے جڑیں پکڑ لی ہیں۔ اسی لیے اقتدار مل جانے کے باوجود سیاسی استحکام پیدا نہیں ہو پاتا۔مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کی سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ اس کی پیدائش ہی سوالات کے حصار میں ہوئی۔ 2024ء کے انتخابات کے بعد حکومت تو قائم ہو گئی مگر انتخابی نتائج کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات ختم نہ ہو سکے۔ اپوزیشن خصوصاً تحریک انصاف نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور حکومت کے جمہوری جواز پر مسلسل سوالات اٹھاتی رہی۔ چنانچہ حکومت کے پاس اقتدار تو آگیا مگر وہ سیاسی اعتماد نہ آسکا جو عوامی مینڈیٹ سے جنم لیتا ہے۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ جماعت جب بھی اقتدار میں آئی، اپنے ساتھ مسائل کا ایک نقد انبار لے کر آئی۔ 1990ء کی دہائی میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کی کشمکش، عدلیہ کے ساتھ تنازعات اور سیاسی محاذ آرائی نے اس کے ادوارِ حکومت کو گھیرے رکھا۔ 2013ء میں اقتدار ملا تو دھرنوں اور سیاسی بحرانوں نے حکومت کو مسلسل دفاعی پوزیشن پر رکھا۔ پھر پاناما کیس آیا اور اقتدار کا پورا محل زمین بوس ہو گیا۔موجودہ حکومت بھی اسی تاریخی تسلسل کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس مرتبہ مشکلات پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ معیشت کمزور ہے، مہنگائی نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے، بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، سرمایہ کاری کا ماحول غیر یقینی ہے اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی حکومت کو غیر معمولی سیاسی بصیرت، عوامی اعتماد اور مضبوط فیصلہ سازی کی ضرورت ہوتی ہے، مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ضمنی انتخابات کا معاملہ ہی دیکھ لیجیے۔ جمہوری معاشروں میں ضمنی انتخابات حکومتوں کے لیے معمول کا سیاسی عمل ہوتے ہیں، مگر پاکستان میں ہر ضمنی انتخاب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طاقت کے امتحان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ حکومتی حلقوں میں یہ خوف موجود رہتا ہے کہ اگر نتائج توقعات کے برعکس آئے تو اسے عوامی عدم اعتماد کا ریفرنڈم قرار دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک معمول کا انتخابی عمل بھی حکومتی اعصاب پر سوار رہتا ہے۔قانون سازی کے میدان میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں۔ حکومت کو پارلیمان میں عددی برتری حاصل ہونے کے باوجود اکثر یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں کوئی اتحادی ناراض نہ ہو جائے، کہیں کوئی رکن منحرف نہ ہو جائے، کہیں کوئی سیاسی تنازع قانون سازی کے عمل کو متاثر نہ کر دے۔ یہ کیفیت دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت اپنی سیاسی بنیادوں پر مکمل اعتماد محسوس نہیں کر رہی۔اتحادی سیاست بھی ایک مستقل دردِ سر بنی ہوئی ہے۔
(جاری ہے)