(گزشتہ سے پیوستہ)
پانچویں گزارش یہ ہے کہ اسلامی احکام و قوانین پر آج کے دور میں جو اعتراضات کیے جاتے ہیں یا ان کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے، ان سے فقہ کے استاذ کا واقف ہونا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو حسب موقع ان کی استعداد کی سطح کو دیکھتے ہوئے ایسے اعتراضات و شبہات سے ان کو آگاہ کرے اور ان کے جوابات کی طرف بھی راہنمائی کرے۔ اس قسم کے بیسیوں اعتراضات میں سے مثال کے طور پر صرف ایک کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ وہ یہ کہ اسلام کے تعزیری قوانین یعنی حدود و تعزیرات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بہت سخت اور تشدد پر مبنی ہیں اور انسانی احترام اور حقوق کے منافی ہیں۔ ان قوانین کی مسلم ممالک میں نفاذ کی اسی لیے مخالفت کی جاتی ہے۔ اب فقہ کے استاذ اور طالب علم کو اس اعتراض کی نوعیت اور اس کے پس منظر سے واقف ہونا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں کہا جاتا ہے اور یہ اعتراض کرنے والوں کے پاس کیا دلیل ہے؟
اس کی وجہ عرض کرتا ہوں کہ اقوامِ متحدہ کے منظور کردہ انسانی حقوق کا چارٹر جس پر کم و بیش دنیا کے سب ممالک نے دستخط کر رکھے ہیں اور اس کی پابندی کا عہد کیا ہوا ہے، اس کی دفعہ نمبر ۵ میں کہا گیا ہے کہ ’’کسی شخص کو جسمانی اذیت یا ظالمانہ، انسانیت سوز، یا ذلیل سلوک یا سزا نہیں دی جائے گی‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جائے گا جس میں جسمانی اذیت اور تذلیل شامل ہو اور سلوک کے ساتھ ساتھ کسی شخص کو ایسی سزا بھی نہیں دی جائے گی۔ گویا کسی بھی سزا کا جسمانی اذیت اور تذلیل سے خالی ہونا ضروری ہے۔ اس کی روشنی میں اسلامی سزاؤں کو دیکھ لیجئے کہ رجم کرنا، ہاتھ کاٹنا، پاؤں کاٹنا، کوڑے مارنا اور برسر عام سزا دینا وغیرہ، ان سب سزاؤں میں جسمانی اذیت بھی ہے اور توہین و تذلیل بھی ہے۔ اسی بنیاد پر اسلامی سزاؤں کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا جاتا ہے اور عالمی فورموں کی طرف سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ چونکہ مسلم ممالک نے انسانی حقوق کے اس چارٹر کو قبول کر کے اس کی پاسداری کا وعدہ کر رکھا ہے اس لیے وہ کوئی ایسا قانون نافذ نہ کریں جس میں اس کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔
ہمارے ہاں چند سال قبل سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ بحث ہو چکی ہے کہ ہمارے قانونی نظام میں انسانی حقوق کے اس چارٹر کی کیا حیثیت ہے۔ چنانچہ ملک کے بعض نامور وکلاء کی طرف سے عدالتِ عظمیٰ میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ قرآن کریم نے ہمیں ’’اوفوا بالعقود‘‘ کے تحت معاہدات کی پابندی کا حکم دیا ہے اور بہت سے معاملات میں عرف کی پابندی کی تلقین کی ہے، اس لیے دونوں حوالوں سے اس چارٹر کی پابندی ہمارے لیے ضروری ہے، یہ بین الاقوامی معاہدہ بھی ہے جسے ہم نے قبول کیا ہوا ہے اور یہ آج کا عالمی عرف بھی ہے جس کی ہمیں پابندی کرنی چاہیے۔ چنانچہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ ہمارے قانونی نظام میں انسانی حقوق کے اس چارٹر کی پابندی ضروری ہے اور اسی بنا پر عدالت عظمیٰ نے ایک مجرم کو کھلے بندوں سزا دینے کا عدالتی فیصلہ منسوخ کر دیا کہ کھلے بندوں سزا دینے میں اس کی تذلیل ہوتی ہے اور ہم اس بین الاقوامی معاہدہ میں یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ کسی کو جسمانی اذیت اور تذلیل پر مبنی سزا نہیں دیں گے۔
یہ میں نے صرف ایک مثال دی ہے ورنہ اقوامِ متحدہ کے اس چارٹر کے حوالے سے ہمارے بیسیوں قوانین و احکام پر اس قسم کے اعتراضات موجود ہیں اور ان کی وجہ سے خود ہمارے معاشرے میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ ہمارے لیے جہاں ان اعتراضات کا جواب دینا ضروری ہے وہاں اپنے تدریسی نصاب میں ایسے اعتراضات اور ان کے جوابات کو شامل کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے تاکہ اساتذہ اور طلبہ ان سے پورے طور پر واقف ہو سکیں اور قوم کی صحیح سمت راہنمائی کر سکیں۔
حضراتِ اساتذہ کرام! مجھے اس امر کا پوری طرح احساس ہے کہ میں جتنی گزارشات بھی کر رہا ہوں ان کے ذریعے آپ کے بوجھ میں اضافہ کر رہا ہوں۔ ظاہر ہے کہ آپ کو بہت زیادہ مطالعہ کرنا پڑے گا، مغز کھپائی کرنا ہوگی اور محنت و مشقت سے کام لینا ہوگا۔ لیکن اگر یہ مقاصد ضروری ہیں جن کا میں نے تذکرہ کیا ہے تو پھر اس کے بغیر کوئی چارۂ کار بھی نہیں ہے اور مجھے یقین ہے کہ اگر اساتذہ کے ذہن میں یہ بات جگہ بنا لے کہ ایسا کرنا ضروری ہے تو وہ نصاب میں کسی قسم کی تبدیلی یا اضافہ کے بغیر بھی اس کا راستہ بنا لیں گے۔ ہم میں ہر ایک کا اپنا اپنا ذوق ہے، کوئی سیاسی ذہن رکھتا ہے، کوئی تبلیغی ذہن کا حامل ہے، کسی کی ذہنی تربیت جہادی ماحول میں ہوئی ہے، اور کوئی ناموسِ صحابہؓ کے تحفظ کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ ہر ایک کا اپنا اپنا ذوق ہے اور وہ اپنا ذوق اسی مروجہ نصاب کے ضمن میں اپنے شاگردوں کو منتقل کر دیتا ہے، اسے اس کے لیے کسی نئی نصابی کتاب کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ اسی نصابی مواد کے اندر جہاں اس کو اپنی بات کو شامل کرنے کا موقع ملتا ہے وہ شامل کر دیتا ہے۔ اس لیے یہ بات اپنی جگہ بحث طلب ہے کہ ان مقاصد کے حوالے سے فقہ کے نصاب میں کوئی اضافہ ہونا چاہیے یا نہیں اور یہ وفاق کی سطح کا مسئلہ ہے، لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا یا اس کو ضروری نہیں سمجھا جاتا تو بھی یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے اور اساتذہ کرام اپنے ذاتی مطالعہ و اسٹڈی اور محنت کے ساتھ ان معاملات میں تیاری کر کے طلبہ کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ اور اگر ہم فقہ کی تعلیم و تدریس کے ضروری اہداف حاصل کرنے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں ایسا ضرور کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی میں دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں اپنی تدریسی و تعلیمی ذمہ داریاں صحیح طور پر سرانجام دینے کی توفیق دیں اور قبولیت و رضا سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔