(گزشتہ سے پیوستہ)
ماضی کے کئی دفاعی معاہدے عملی صورت اختیار نہ کرسکے۔عرب دنیاکی داخلی کشمکش اور باہمی بداعتمادی اس کی بڑی وجہ رہی۔ اگریہ اتحادبھی محض اعلامیہ رہاتوانجام مختلف نہ ہوگا۔دوسری جانب امریکا اور اسرائیل جیسے طاقتورفریق اس اتحادکواپنے مفادات کے خلاف سمجھ سکتے ہیں۔سفارتی دبائو ،اقتصادی پابندیاں یاسیاسی مداخلت ممکنہ رکاوٹیں ہیں۔لہذا اتحادکوصرف عسکری نہیں،سفارتی اورمعاشی سطح پربھی مضبوط ہوناہوگا۔
سفارتی وقانونی حکمتِ عملی اتحادکوعالمی برادری کے سامنے ایک دفاعی واستحکامی اقدام کے طورپرپیش کیاجائے۔اقوامِ متحدہ کے چارٹرکی پاسداری۔مشترکہ سفارتی محاذ تاکہ کسی رکن ملک کے خلاف غیرقانونی اقدام کی صورت میں متحدہ ردعمل دیاجاسکے۔ اتحادکوعالمی سطح پرجارحانہ بلاک کے طورپرنہیں بلکہ دفاعی واستحکامی اقدام کے طورپرپیش کیاجائے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹرکی پاسداری اوربین الاقوامی قانون کااحترام ضروری ہوگا۔ممکن ہے کہ امریکااوراسرائیل جیسے طاقتور فریق اس اتحادکواپنے مفادات کے خلاف سمجھیں۔ اس لیے سفارتی محاذپرمضبوط اور متوازن حکمتِ عملی درکارہوگی۔
عربیک ڈیفنس کے مطابق یہ قربت سیاسی حقیقت پسندی کامظہرہے،یعنی نظریاتی ہم آہنگی سے زیادہ مفادات کی بنیادپرقربت قراردیا ہے۔ مگرجامع سٹریٹجک اتحاد کی منزل ابھی دور ہے۔مصری اخبار یوم 7 کے ماہرین نے اسے وسیع تراتحادکی بنیادکہا۔گویایہ ایک تدریجی سفراور شجر ِاتحادکاپہلابیج ہے پہلے مفاہمت، پھر تعاون، اوربالآخراتحادپرمنتج ہوگا۔ ماہرین کے مطابق مکمل ادارہ جاتی اتحاد فوری ممکن نہیں۔داخلی سیاسی عدم استحکام،وسائل کی غیرمساوی تقسیم،بیرونی دبائو اور پابندیاں،ان رکاوٹوں کاحل شفافیت،تدریج اور مستقل مزاج قیادت میں ہے۔لچکدارہم آہنگیزیادہ حقیقت پسندانہ راستہ ہے یعنی مشترکہ مشقیں،انٹیلی جنس تعاون،اوردفاعی صنعت میں شراکت۔ یہ ماڈل رفتہ رفتہ جامع معاہدے کی شکل اختیارکرسکتاہے۔تاہم اس معاہدے کے راستے میں چیلنجزاوررکاوٹیں بھی موجود ہیں۔یعنی باہمی بداعتمادی اورتاریخی اختلافات،بیرونی دبائواور اقتصادی پابندیاں،داخلی سیاسی عدم استحکام، وسائل کی غیرمساوی تقسیم،ان رکاوٹوں کاحل شفافیت، تدریج اورمستقل مزاج قیادت میں مضمرہے۔
اسرائیل اورایران کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے بعد عرب میڈیامیں تحادکی بحث کومہمیزدی ہے۔ اسے جہاں ناگزیرقراردیاہے وہاں الجزیرہ مباشرپراس موضوع کوخطے کی بقاسے جوڑاگیا ہے۔ سابق سفارتکاروں نے اسے تاریخ کاممکنہ موڑکہاایک ایساموڑ جہاں سے یاتوخوداعتمادی کاسفرشروع ہوگایا انتشارکی پرانی راہیں دوبارہ کھلیں گی۔یہ تصوراب صرف نظری نہیں بلکہ سلامتی کی حکمتِ عملی کے طورپرزیرِ بحث ہے۔
مشترکہ عسکری کمانڈاورتربیت پرزوردیتے ہوئے تجویزکیاگیاکہ ایک اسلامی مشترکہ کمانڈ سینٹرقائم کیا جائے۔سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں ہوں،جن میں فضائی،بحری اورزمینی افواج شامل ہوں۔ایک متحدہ عسکری اکیڈمی یااسٹاف کالج قائم کیاجائےجہاں افسران مشترکہ تربیت حاصل کریں۔ فوری طورپرمکمل ادارہ جاتی اتحادممکن نہیں۔ابتدامشترکہ مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون سے کی جائے۔رفتہ رفتہ جامع دفاعی معاہدے کی شکل دی جائے۔یہی تدریجی حکمت عملی پائیدارنتائج دے سکتی ہے۔یہ اتحادمحض توپ وتفنگ کابندوبست نہ ہو،بلکہ تہذیبی خوداعتمادی کااظہار ہو۔ اگراس کے پس منظرمیں انصاف،استحکام اورباہمی احترام کااصول ہوتویہ عالمِ اسلام کیلئے احیائے نوکی تمہیدبن سکتاہے۔ورنہ یہ بھی ایک سیاسی نعرہ رہ جائے گاجووقتی جذبات کوتو گرمادے گا،مگرتاریخ کے صحیفے میں محض ایک حاشیہ بن کررہ جائے گا۔اسلامی عسکری اتحاد اگرمحض توپ وتفنگ کابندوبست رہاتواس کی عمر مختصر ہو گی۔ اسے تہذیبی خوداعتمادی،باہمی احترام اورعدل کے اصول پرقائم ہوناہوگا۔اتحادکامقصدکسی قوم یا ریاست پرغلبہ نہیں بلکہ اجتماعی سلامتی اوروقارکاتحفظ ہونا چاہیے۔
لندن کےروزنامہ القدس العربی نےاس ممکنہ اتحادکودفاعی چھتری سے تعبیرکیا اس استعارے میں ایک پیغام پوشیدہ ہے اجتماعی سلامتی کا تصور، جہاں ایک پرحملہ سب پرحملہ سمجھا جائے۔ایسی چھتری جوایک کے بعددوسرے اسلامی ملک پرحملے کے تسلسل کوروک سکے۔ ایسی شق اسی وقت موثرہوگی جب تمام اراکین سیاسی عزم اور عسکری تیاری میں ہم آہنگ ہوں ۔
دفاعی صنعت میں خودانحصاری کےلئےضروری ہےکہ اسلحہ سازی کی مشترکہ پیداوار ، ڈرون اور میزائل پروگرام،اوردفاعی سافٹ ویئرکی تیاری پر مکمل توجہ دی جائے اوربیرونی طاقتوں پرانحصارکم کرنےکےلئے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدے بھی کئے جائیں۔ نوجوان سائنس دانوں اورانجینئروں کےلئے وظائف اور تحقیقاتی گرانٹس جاری کرکے دفاعی خودکفالت کی طرف پوری توجہ دی جائے۔یہ اتحادمحض عسکری بندوبست نہ ہو بلکہ تہذیبی خوداعتمادی اورفکری جہت کی علامت ہو۔ اگراس کے پس منظرمیں انصاف، باہمی احترام اور خودمختاری کااصول ہوتویہ امت کے لئے احیائے نوکی تمہیدبن سکتاہے۔
ترک قیادت نےیورپی یونین کی مثال دے کرغلبے کی سیاست کی نفی کی ہے۔ترک وزیرِ خارجہ نے یورپی تجربے کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ نہ ترک غلبہ،نہ عرب،نہ فارسی بلکہ ذمہ داراشتراک۔ اس تناظرمیں یورپی یونین کاحوالہ ایک ماڈل کے طورپردیاگیا۔سوال یہ ہے کہ کیامسلم دنیابھی اپنے تاریخی اختلافات سے بلندہوکرمشترک پلیٹ فارم تشکیل دے سکتی ہے؟اگریہ اتحاد کسی ایک ملک کی بالادستی کے بجائے مساوی شراکت پرقائم ہوتو اس کی قبولیت بڑھے گی۔ان اختلافات کوختم کرنے کے لئے بنیادی اقدامات اٹھاتے ہوئے فوری دفاعی اتحادکومعاشی اتحادسے جوڑا جائے ۔ مشترکہ بینک یامالیاتی ادارہ قائم کیاجائے جودفاعی منصوبوں کو فنڈ کرے۔مقامی کرنسیوں میں لین دین کے نظام کوفروغ دیاجائے تاکہ بیرونی دباؤکم ہو ۔
حکومتی حمایت یافتہ ترک اداروں بالخصوص سیٹاسے وابستہ ماہرین کے مطابق انقرہ اب غیرفعال پل کے کردارسےنکل کرفعال اتحادوں کی سیاست کی طرف بڑھ رہاہے۔ترکی کا مصرکوفوجی سازوسامان کی برآمد اور سعودی عرب کی ممکنہ سرمایہ کاری اس عملی رخ کی علامت اوردفاعی صنعت کے میدان میں عملی پیشرفت ہے۔یہ اقدامات بیانیے کوحقیقت میں ڈھالنے کی کوشش ہیں اگرچہ ابھی منزل دور ہے۔ اتحادکوعالمی سطح پرجارحانہ بلاک کے طورپرنہیں بلکہ دفاعی و استحکامی فریم ورک کے طور پرپیش کیا جائے۔اقوامِ متحدہ اوردیگرعالمی فورمز پر مشترکہ موقف اختیارکیاجائے۔کسی بھی رکن ملک کے خلاف غیر قانونی اقدام کی صورت میں اجتماعی سفارتی ردِعمل کابھرپورعملی اظہارکیاجائے۔
(جاری ہے)