پاکستان اور بنگلہ دیش تعلقات پر بھارت کی تلملاہٹ
بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت کے خاتمے کے بعد سے مودی سرکار تلملاہٹ کا شکار ہے۔ حسینہ واجد کے بھارت فرار کے مناظر دیکھ کر یہ مصرعہ یاد آگیا ’’بڑے بے ابرو ہو کر تیرے کوچے
بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت کے خاتمے کے بعد سے مودی سرکار تلملاہٹ کا شکار ہے۔ حسینہ واجد کے بھارت فرار کے مناظر دیکھ کر یہ مصرعہ یاد آگیا ’’بڑے بے ابرو ہو کر تیرے کوچے
پاکستان میں دہشت گردی کا عفریت پوری قوت سے سر اٹھا رہا ہے۔ پاکستان دشمن کالعدم گروہ افغان سرزمین سے سرگرم عمل ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف عالمی سطح پہ ہو چکا ہے۔ پاکستان نے سفارتی ذرائع اور مختلف وفود
مودی کی فتنہ انگیز قیادت میں بھارت عالمی دہشت گرد ریاست کا روپ دھار چکا ہے۔ کینیڈا ، امریکہ اور برطانیہ سے بھارتی شر انگیزی کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔کینیڈا اور انڈیا کے درمیان تقریباً ڈیڑھ برس سے
بلوچستان کی معاشی ترقی قومی استحکام کے لئے ناگزیر ہے۔ وسیع رقبے پر مشتمل صوبے کی قلیل آبادی کی خوشحالی بھی اقتصادی ترقی سے وابستہ ہے ۔برادر ملک سعودی عرب نے حسب روایت دست تعاون دراز کیا ہے۔ صوبے میں
صوبہ خیبر پختونخواہ کی صورتحال کئی اعتبار سے توجہ کے مستحق ہے۔گزشتہ تین برسوں کے دوران تیزی سے سر اٹھاتی دہشت گردی کی لہر اور نام نہاد قوم پرست عناصر کے زہریلے پروپیگنڈے نے مجموعی طور پر صوبے میں انتشار
آبادی کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک شمار ہوتا ہے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی آبادی 23.75 ملین ہو چکی ہے ۔آبادی میں ہر سال لگ بھگ 50 لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا جا
فلک بوس کہساروں کی سرزمین گلگت بلتستان کے فطری حسن اور جغرافیائی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ حال ہی میں گلگت بلتستان سے خوش آئند خبریں ملی ہیں۔ چیف منسٹر گلبر خان کی حالیہ پریس کانفرنس بہت اہمیت کی
صوبہ خیبر پختونخوا میں کثیرالجہت مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔ سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ سب سے زیادہ سنگین ہے۔ تاہم افواج پاکستان اور ایف سی کے ادارے دفاعی محاذ کامیابی سے سنبھالے ہوئے ہیں۔ دوسرا اہم مسئلہ ناقص
یہ معمہ ہنوز حل نہیں ہوا کہ افغانستان میں کون فاتح ٹھہرا اور کون ہارا؟ تاریخ کی طویل ترین امریکی فوجی مہم افغانستان میں سر کی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ راتوں رات اشرف غنی کی حکومت دھوپ
آئی ایم ایف کو بھیجے گئے ڈوزئیر کا چرچا ہو رہا ہے۔ حسب معمول یہ ناخوشگوار حرکت تحریک انصاف نے کی ہے۔ اس حرکت کو سیاسی مفادات کے لیے ملکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے بدترین مثال قرار دیا جا