گستاخوں کو تحفظ دینے کی سازش
ان دنوں سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ،صحابہ کرام و اہل بیت رضی اللہ عنہم اور قرآن کریم کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ہونے پر ایف آئی اے کے
ان دنوں سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ،صحابہ کرام و اہل بیت رضی اللہ عنہم اور قرآن کریم کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ہونے پر ایف آئی اے کے
حضور ﷺ کی محبت اور تکریم ہر مسلمان کے لئے سرمایہ حیات ہے۔سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر چھ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ’’ نبی(ﷺ)تو ایمان والوں کو اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں اور نبی(ﷺ)کی بیویاں مومنوں
اسرائیل نے مشہور محاورہ ۔مرتے کیا نہ کرتے۔ کے تحت فلسطینی جانبازوں کے ساتھ امن معاہدہ کرتولیا مگر اس کے پیٹ میں دوبارہ وحشیانہ جنگ مسلط کرنے کے لیے مسلسل مروڑ اٹھ رہے ہیں اور اب کی بار نکے کی
اسلام دنیا کا ایسا مذہب ہے جو انسانیت کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے جس نے تمام حقوق اس کی حیثیت کے مطابق رکھ دیئے،اسلام امن سلامتی و آشتی کا دین ہے جس میں کوئی جبر نہیں،اتنا آسان
سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث گستاخوں کو تحفظ دینے کے لئے اسلام اور پاکستان دشمن عناصر پوری طرح متحرک ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے انہوں نے
حضرت عمر بن خطاب خلافت سنبھالنے کے بعد بیت المال میں آئے تو لوگوں سے پوچھا کہ حضرت ابوبکرؓ کیا، کیا کیا کرتے تھے، تو لوگوں نے بتایا کہ :’’وہ نماز سے فارغ ہو کر کھانے کا تھوڑا سا سامان
سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث زیر حراست گستاخوں کو تحفظ دینے کی کوششوں کے خلاف معاشرے کے تمام مکاتب فکر میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث گستاخوں کے خلاف جو
فلسطین کے مسلمانوں نے اقصیٰ کی آزادی کے لئے قربانیوں کی جو تاریخ مرتب کی ہے وہ بے مثال بھی ہے اور لازوال بھی، ہمیں شہداء فلسطین پہ فخر بھی ہے اور ان سے پیار بھی ،اللہ ان کی قربانیوں
گو کہ میں جانتا ہوں کہ میدان جہاد سجا ہو تو، ’’شہید‘‘ یا ‘‘ ’’غازی‘‘ کا اعزاز مجاہد کے لئے کسی قیمتی ترین تمغے سے کم نہیں ہوا کرتا،ہم نے سوویت یونین کو جہادیوں کی جہادی یلغار کے سامنے بے
مولانا فضل الرحمن،مفتی محمد تقی عثمانی،مفتی منیب الرحمن،مولانا قاری محمد حنیف جالندھری،پروفیسر ساجد میر سمیت دیگر مسلم قائدین کی خدمت میں اس نیت سے کالم کے ذریعے یہ چندگزارشات پیش کر رہا ہوں تاکہ ان کے توسط سے عوام بھی