علماء اسلام آبادکی بیداری علماء کراچی کہاں ہیں ؟
ناموس رسالت پہ حملوں کے بدترین جرم میں گرفتارپانچ سو کے لگ بھگ شیطانوں کے سہولت کاروں کو خبر ہو کہ علماء اسلام آباد جاگ چکے ہیں،یہ خاکسار اس سے قبل بھی اپنے کالموں میں لکھ چکا ہے کہ تحفظ
ناموس رسالت پہ حملوں کے بدترین جرم میں گرفتارپانچ سو کے لگ بھگ شیطانوں کے سہولت کاروں کو خبر ہو کہ علماء اسلام آباد جاگ چکے ہیں،یہ خاکسار اس سے قبل بھی اپنے کالموں میں لکھ چکا ہے کہ تحفظ
(گزشتہ سےپیوستہ) پھر موسیٰ ں نے ارشاد فرمایا، حمد ہے اس ذات پاک کی جس نے مجھ سے بلا واسطہ کلام فرمایا، مجھ پر تورات نازل فرمائی، فرعون کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات میرے ہاتھ پر ظاہر فرمائی
ماہ رجب کی ایک عظیم الشان خصوصیت معراج نبوی ہے، جو مشہور قول کے مطابق 27 رجب کو ہوئی‘ حضور اکرم ﷺشعب ابی طالب کے پاس ام ہانی کے گھر میں آرام فرما رہے تھے، چھت پھٹی جبرئیل علیہ السلام
(گزشتہ سے پیوستہ) ہم فلسطین سے اس لیے محبت کرتے ہیں کہ یہ فلسطین انبیا علیہم السلام کا مسکن اور سر زمین رہی ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت
امام سمرقندی رحمہ اللہ تنبیہ الغافلین میں فرماتے ہیں کہ ’’تم تین چیزوں کے بارے میں مت سوچو، ہمیشہ غریبی کے بارے میں مت سوچو، تاکہ تمہیں زیادہ پریشانیاں اور مایوسیاں نہ ہوں، اور تمہاری حِرص نہ بڑھے، ہمیشہ ان
سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث زیر حراست گستاخ ملزمان کو تحفظ دینے کے لئے ایک ’’مولوی زادہ‘‘بھی میدان میں آگیا ہے۔مذکورہ گستاخ ملزمان کی وکیل ایمان
(گزشتہ سےپیوستہ) ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کراچی کے وکیل نے جسٹس اقبال کلہوڑو کی ہدایت پر دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ سر!چونکہ جن ملزمان کی جانب سے دائر درخواست ضمانتیں آج سماعت کے لئے مقرر ہیں،
ستم ظریفی یہ کہ اسلام کے نام پر لاکھوں مسلمانوں کی جانی قربانیاں دینے کے بعد حاصل کئے گئے ملک ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ میں مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کے مزید دو گستاخوں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔سندھ
فلسطین اور اسرائیل کے مابین امن معاہدہ جس پرعمل درآمد شروع ہوگیا ہےاس معاہدے کا اعلان ہوتےہی فلسطینی عوام اوردنیا بھر میں حماس مجاہدین سے محبت رکھنے والے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی خاص طور پر غزہ کے
اپنے محسنوں کی یاد منانا زندہ قوموں کا شیوہ رہا ہے، جو قوم اپنے محسنوں کو بھول جائے زمانہ اسے اپنی ٹھوکروں پہ رکھ لیا کرتاہے ،ان کا شمار بھی اس قوم کے محسنوں میں ہوتا ہے،وہ چونکہ خود بھی