کیا تمہارا خداہے ہمارا نہیں ؟
دہشت گردی، خونریزی، انتہا پسندی، نفرت، تقسیم اور سازش سے اقلیتوں خصوصا ًمسلمانوں کا قتل عام ہمیشہ سے بھارت کی سرشت میں شامل ہے، بنیادی طور پر یہ ہندوتوا کا وہ نظریہ ہے جو اسے کوٹیلہ چانکیہ سے ورثے میں
دہشت گردی، خونریزی، انتہا پسندی، نفرت، تقسیم اور سازش سے اقلیتوں خصوصا ًمسلمانوں کا قتل عام ہمیشہ سے بھارت کی سرشت میں شامل ہے، بنیادی طور پر یہ ہندوتوا کا وہ نظریہ ہے جو اسے کوٹیلہ چانکیہ سے ورثے میں
(گزشتہ سے پیوستہ) اب ہم نے دونوں کے متعلق کچھ بنیادی معلومات حاصل کی ہیں۔’تفسیر صغیر‘ کے مصنف کے چار پہلو ہیں۔ پہلا، مصنف ہونے کا، دوسرا، مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند ہونے کا، تیسرا، اپنے والد کے قائد
انکار ختم نبوت کی سزا ہے یا آقا محمد ﷺ کا در رحمت چھوڑ کر’’ یک چشم گل‘‘ دجال کی پیروی کی نحوست کہ قادیانی ٹولے نے ہمیشہ اپنے سر میں خود خاک ڈالی ، جب بھی،جس کسی سے بھی
بلوچستان میں ماہرنگ بلوچ کو بی ایل اے سپورٹ کرتی ہے تو خیبر پختون خواہ میں منظور پشتین کو ٹی ٹی پی ،دوسرے لفظوں میں ایک جانب ماہرنگ اور بلوچ دہشت گرد ایک دوسرے کا عکس ہیں تو دوسری جانب
(گزشتہ سے پیوستہ) کون نہیں جانتا کہ انتشار کا یہ ایجنڈا کوئی جمہوری عمل نہیں،پاکستان کے خلاف2014 سے جاری بین الاقومی سازش کا تسلسل ہے۔پارٹی قیادت اب جو مرضی وضاحتیں کرتی پھرے ، یہ سب ؑعذر گناہ بد تر ازگناہ کےمترداف
انتشاری کیا چاہتے ہیں ؟ کن کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں ؟ کس حدتک جا سکتے ہیں ؟ ان کے مقاصد کیا ہیں ؟ ان کی سرپرستی کہاں سے ہو رہی ہے ؟قطعی سربستہ رازنہیں ، عیاں تر حقیقت
دنیا بھر میں دہشت گردی ، ملک دشمنی اور ملکی ترقی کا ہر بیانیہ درس گاہوں اور ارباب علم ودانش کی مجلسوں میں طے پاتا ہے ، دہائیوں کے جاں گسل تجربہ کے حامل اور بحر علم کے شناور قومی
(گزشتہ سے پیوستہ) بلوچ سرداروں اور بلوچستان کے نام کی حقیقت یہ ہے کہ ون یونٹ ختم کرنے کے بعد 70 کی دہائی میں جب اس علاقے کو بلوچستان کا نام دیا گیا تو بلوچستان کے نصف سے زائد غیر
خبر تھی کہ خودکش خاتون دہشت گرد بلوچستان میں داخل ہوچکی ہےاورکسی بھی وقت، کسی بھی جگہ پرحملہ آور ہو سکتی ہے ، اس کی تصاویر بھی سامنے آئیں ، فورسز نے سورسز کو ایکٹو کیا تاکہ واردات کو وقوع
جنرل حمید گل کی بائیو گرافی کے لئے یادداشتیں ریکارڈ کر رہا تھا کہ انہوں نے بتایا کہ کس طرح سے بلوچ علیحدگی پسندوں اورآزاد پشتونستان کے سراب کا تعاقب کرنے والوں کو جان کے لالے پڑے تو انہیں وطن