دہشت گردی، خونریزی، انتہا پسندی، نفرت، تقسیم اور سازش سے اقلیتوں خصوصا ًمسلمانوں کا قتل عام ہمیشہ سے بھارت کی سرشت میں شامل ہے، بنیادی طور پر یہ ہندوتوا کا وہ نظریہ ہے جو اسے کوٹیلہ چانکیہ سے ورثے میں ملا ہے ، فرق مگر یہ ہے کہ کانگریس نے قیام پاکستان سے اپنے اقتدار کے آخری لمحات تک بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی پالیسی اختیار کئے رکھی، یعنی چانکیہ کی تعلیمات کے مطابق ’’جس درخت نے تمہیں دکھ دیا ، اسے کاٹو نہیں ، اس کی جڑوں میں شکر ڈال دو ، کیڑے خود ہی اسے ختم کردیں گے۔‘‘ بی جے پی اس کے برعکس چانکیہ کے اس اصول کو مانتی ہے کہ’’طاقت ملے تو ہر اس شخص کو مٹادو ،جو تمہارا نہیں،چاہے اتحادی ہی کیوں نہ ہو ،‘‘ نیم خواندہ ، غنڈہ صفت، خونی مزاج مودی کی اس پالیسی کا ہمیں پاکستان کو شکریہ ادا کرنا چاہئے کیونکہ اس کی وجہ سے دنیا جان سکی کہ بظاہر رنگوں ، گیتوں ، رقص وسرود اور جنسی کشش کا مذہب ہندوتوا کس قدر سفاک ، وحشت ناک اور غلیظ ہے ، ورنہ کانگریس کی منافقت نے تو یہ سارا گند میٹھی زبان کے پیچھے چھپا رکھا تھا ۔ مودی کی نوازش کہ اس کی وجہ سے آج کینیڈا اور امریکہ وہی کہہ رہے ہیں ، جواس خطے کے مسلمان قیام پاکستان سے پہلے سے کہتے چلے آرہے ہیں ۔ ایک طرح سے اچھا ہی ہے کہ ، مودی جیسے سانپ کو پالنے والے امریکہ کو بھی سمجھ آرہی ہے کہ اس نے کس نیچ منش کو گود لیا ہوا تھا، گوکہ امریکہ حکومت اور پینٹا گان ابھی نہیں سمجھے، کیونکہ مودی اسلام دشمنی میں اسرائیل کی طرح ہی ان کا اتحادی ہے ، لیکن پورا یقین ہے کہ جلدہی انہیں بھی اچھی طرح سمجھ آجائے گی۔
سپاں دے پتر متر نئیں بندے
بھانویں چلیاں ددھ پیایئے ہو
پاکستانی سیاستدانوں نے اپنے گھٹیا سیاسی مقاصد اور مفادات کے چکر میں بھارت کو کلین چٹ دے دی ،مودی کے کرتوتوں سے آنکھیں بند کرلیں، بھارتی مسلمانوں کی درد ناک چیخ وپکاراور سسکیوں پر کان بند کر لئے ، کشمیریوں کو بھلادیا۔ یہاں تک بھارت کی دشمنی کو بھی گھول کر پی گئے ، لیکن مظلوم بھارت کے ہوں ، کشمیر کے یا فلسطین کے ،میرا رب کسی کا محتاج تو نہیں ، وہ علیم ، خبیر ، بصیر اور مسبب الاسباب ذات، وہاں سے ان کے لئے آواز اٹھانے کا بندوبست کرے گی ، جہاں سے گمان بھی نہ ہو۔ یہ ہمارے لئے وارننگ بھی ہے کہ اگر پھر بھی اپنی ذمہ داری نہ سمجھے تو وہ ان کے مددگار بھی وہیں سے پیدا کردے گا ، پھر ہم کہاں ہوں گے؟ انجام کیا ہوگا ؟ یہ سمجھنا کوئی زیادہ مشکل نہیں ، اس نے خود ہی قرآن میں وضاحت کردی ہے ۔
تازہ ترین یہ ہے کہ کینیڈا اورامریکہ میں مودی کی ہندوتوا دہشت گردی گردن گردن پھنس چکی ہے، ایک جانب امریکہ میں دہشت گرد ایجنسی RAW کے سٹیشن ہیڈ’’ وکاس یادو‘‘ کے خلاف فرد جرم عائد کردی گئی ہے تو دوسری جانب کینیڈا سے بھارتی سفیر سمیت 7سفارتکاروں کی بے دخلی کے بعد وسیع پیمانے پر تشدد کی کارروائیوں میں ملوث بھارت کے مزید سفارت کاروں کو ملک بدر کر نے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، وہاں دہشت گردی اور خفیہ کارروائیوں کے لیے را کے ایک نیٹ ورک کا بھی انکشاف ہوا ہے ، جس کے خلاف کارروائی شروع کی جا چکی ہے۔ دوسری جانب امریکہ کےعالمی ادارہ برائے برائے مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف( نے ایک بار پھر ہندوستان کوتشویشناک ملک قرار دینے کی سفارش کردی ہے اور کہا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں مذہبی امتیاز کی پالیسیوں کو فروغ دیا گیا،مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، دلتوں اور آدی واسیوں کے حقوق غصب کئے گئے ، یو پی اے کے تحت این جی اوز کو نشانہ بنایا، ہراساں کیا اور املاک کو مسمار کیا۔ مذہبی اقلیتوں اور ان کے حامیوں کی آوازیں دبائی گئیں۔ مساجد پر حملوں سمیت مذہبی اقلیتوں پر حملے بڑھ گئے، گائے کی اسمگلنگ کے الزام میں عیسائیوں، مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف تشدد ہوا۔بی جے پی کے رکن اسمبلی نے گائے کے ذبیحہ پر تشدد کو بھڑکایا۔بہار، اتر پردیش اور دہلی میں کشیدگی بڑھی ۔
اسی ادارے کی رپورٹ میں پاکستان کی تعریف کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان نے مذہبی آزادی کے لیے اہم کوششیں کی ہیں، جیسے کرتار پور راہداری،سکھ یاتریوں کی رسائی آسان بنانا یہ سب پاکستان کے عزم کی علامت ہے۔ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی آزادی میں اضافہ ہو رہا ہے،اقلیتوں کو سیاسی میدان میں زیادہ نمائندگی ملی ہے۔بھارت میں مسلم خواتین کو ہراساں کیا جا رہا ہے،پاکستان نے غیر مسلم طلبہ کے حقوق کا احترام کیا ہے۔2002 کے گجرات تشدد میں بلقیس بانو کیس نے اقلیتوں کے انصاف پر سوال اٹھائے۔ بھارت میں اقلیتوں کی جائیداد کی تباہی جاری ہے، مذہبی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ ہندو قوم پرست گروہوں نے سوشل میڈیا کا استعمال کشیدگی بڑھانے کے لیے کیا۔ پاکستان نے قوانین میں اصلاحات کا عزم ظاہر کیا ہے، بھارت نے شہریت ترمیمی ایکٹ اور NRC میںمسلمانوں کو پسماندہ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔آسام میں سات لاکھ مسلم باشندوں کو شہریت کا خطرہ ہے۔
دوسری جانب بھارت کے اندر کی صورتحال یہ ہے کہ نریندر مودی کی بی جے پی کے تحت ہندوستان میں مساجد اور مزارات کو منظم طور پر شہیدکیا جا رہا ہے۔اس کا مقصد مسلمانوں کو پسماندہ کرنا اور ان کے حقوق پامال کرنا ہے۔یہ مہم اسلامی تاریخ کو مٹانے کی کوشش ہے۔یہ مسلم مخالف ایجنڈے کو بے نقاب کرتی ہے۔بی جے پی ہندو بالادستی کے لیے مسلمانوں اور اقلیتوں کے حقوق ختم کر رہی ہے۔ 2014 کے بعد، مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔اس میں لنچنگ، عبادت گاہوں پر حملے اور نفرت انگیز تقاریر شامل ہیں۔ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ثابت کردیا ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کو مرکزی دھارے سے خارج کررہی ہے، اس کی یہ کارروائی مسلمانوں کو مٹانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں اور مذہبی مقامات کو میدانِ جنگ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، بھارت میں اگرعدالتیں اقلیتوںؓ کےحق میں مداخلت کریں تو ان کے فیصلے تسلیم نہیں کیے جاتے ۔ یہ اقدام انسانی حقوق خصوصاً مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ ان اقدامات سے بھارت کا سیکولر ہونے کا دعویٰ تباہی سے دوچار ہے ۔ہم تو ہمیشہ سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ بھارت کبھی سیکو لر تھا ہی نہیں، یہ ہمیشہ سے ہندوتوا انتہا پسند ریاست تھی اور ہے۔