(گزشتہ سے پیوستہ)
کہتے ہیں کہ ایک ڈبہ پیر اپنے اجڈ اور گنوار مریدوں کو ہر کام کیلئے سو سو روپے کے عوض تعویز دے کر ان سے مال بٹورا کرتا تھا ، ایک عورت اپنے شوہر سے تنگ تھی ، ڈبہ پیر نے سو روپے وصول کرکے تعویز لکھ دیا اور کہا کہ گھر جا کر چولہے کے نیچے زمین کھود کردبا دینا کہ اسے تپش ملتی رہی ، جلد تمہاری شوہر سے جان چھوٹ جائے گی ، کرنا خدا کا یہ ہوا کہ شوہر کسی جان لیوا مرض میں مبتلا ہو کر چل بسا ، اس کے بھائیوں کو شک پڑا کہ کہیں بیوی نے زہر نہ دیا ہو، انہوں نے گن پوائنٹ پر تفتیش کی تو بیوی مان گئی کہ زہر تو نہیں دیا البتہ پیر سے تعویز لے کر چولہے تلے ضرور دبایا تھا ، مرحوم شوہر کے بھائیوں نے جا کر بندوق ڈبہ پیر کی کنپٹی پر رکھ دی اور اسے بھائی کے قتل کا ذمے دار قرار دے کر انتقام لینا چاہا ۔ پیر کے تو ہاتھ پائوں پھول گئے لیکن چونکہ عیار مکار تو تھا اس لئے فوراً کہنے لگا کہ پہلے میرا دیا ہوا تعویز کھول کرپڑھو ، اس کے بعد بے شک مجھے قتل کر دینا ، چولہا کھود کر تعویز لایا گیا ، کھول کر پڑھا تو لکھا تھا ’’تیرا گھر والا مرے نہ مرے ، میرے 100 روپے کھرے ‘‘
عادل راجہ اور حیدر مہدی جیسے عسکری و انقلابی امور کے نام نہاد ماہر یوٹیوبرز کا فارمولا بھی اسی ڈبہ پیر جیسا ہے ، کہ ان کے وی لاگز سے ملک میں انقلاب برپا ہو یا نہ ہو ، ان کے ڈالر تو کھرے ہو رہے ہیں۔بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنی تقریروں میں بریگیڈیئر راشدنصیرکوطنزاًمسٹر ایکس کے نام سے پکارا کرتےتھے، انہوں نے یہ نک نیم کیوں رکھا معلوم نہیں،لیکن بریگیڈیئر صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد مظہر کلیم کی عمران سیریز والے مسٹر ایکس 2 یا ایکس ٹو ثابت ہوئےہیں اورانہوں نے برطانوی عدالت میں ہتک عزت کا کیس دائر کرکےخاموش مجاہد اورلنگرگپ جیسی اصطلاحات استعمال کرکے سادہ لوح ناظرین پر اپنی دھاک بٹھانے والےعادل راجہ کی بیچارگی اورمفلوک الحالی کاپردہ چاک کر دیا ہے اور راجہ جی نہ صرف اپنے کسی دعوے یاالزام کاکوئی ثبوت پیش نہیں کرسکےبلکہ انہوں نے برطانوی عدالت کےسامنے اپنی غربت اورجیب خالی ہونےکا رونادھونا شروع کردیا ہے ۔
سادہ لوح ناظرین یا سادہ لوح مریدین کو لوٹنے والے عیار اور مکاریوٹیوبرزہوں یاڈبہ پیر ان کی موج اس لئے لگی ہوئی ہے کہ سادہ لوح لوگ ان پر اندھا اعتقاد کر لیتے ہیں ، ایسا ہی ایک چرواہا اپنے ڈبہ پیر سے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی حفاظت کیلئے تعویز لینے گیا اور کہا کہ ہر چند راتوں کے بعد جنگل کے بھیڑیئے اور لگڑ بگڑ اس کی ایک بھیڑ چیر پھاڑ دیتے ہیں ، پیر نے سوچا کہ اس مسئلہ کیلئے تعویز دینا تو بہت رسکی ہوگا کہ چند روز بعد جب بھیڑیئے اور لگڑ بگڑ ایک اور بھیڑ اٹھا لے جائیں گے تو پورے علاقے میں یہ مشہور ہو جائے گا کہ پیر سائیں کے تعویزوں میں اب اثرنہیں رہا ، اس لئے اس نے چرواہے مرید سے کہا کہ اس کام کیلئے تعویز دینا مناسب نہیں تم ایسا کرو کہ ایک دو بوہلی کتےرکھ لو! مریدڈبہ پیر کا کچھ زیادہ ہی معتقد تھا ، اس نے ڈبہ پیر کے اس جان چھڑانے والے فارمولے کو بھی اس کی طرف سے کسر نفسی کا مظاہرہ سمجھا اور بےاختیار کہا،پیر سائیں! ساڈے واسطے تے بوہلی وی تسیں او تےسب کجھ ای تسیں او! جاہل اور اجڈچرواہے کی طرح جب تک ہمارے ملک کے عوام ڈبہ یوٹیوبرز اور ڈبہ عسکری ماہرین کوبوہلی وی تسیں او ، تے سب کجھ تسیں او ” جیسی ذہنی کیفیت اور اعتقاد کے ساتھ سنتے رہیں گے تو عادل راجہ اور حیدر مہدی جیسے ’’پنساریوں‘‘ کے دھندے کو کوئی خطرہ نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن میں جاری عدالتی جنگ کے دوران عادل راجہ کو اب ایک اوربڑاجھٹکا یہ لگا ہے کہ میننگ ہیئرنگ میں شکست کے ساتھ ساتھ اس کی طرف سے قیام کی اجازت اورسکیورٹی اخراجات کی درخواستیں بھی رد کردی گئی ہیں ۔ برطانوی جج نے پیسہ نہ ہونے کی عادل راجہ کی دہائی کو ڈرامے بازی سمجھ کرنظراندازکردیا ہے اور حکم دیا ہےکہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشدنصیر کو بطور ہرجانہ 10 ہزارپائونڈمقررہ وقت کے اندر اداکیے جائیں،جج نےکیس کی باقاعدہ سماعت کاحکم بھی دیدیاہے ، ان پے در پے عدالتی شکستوں کی وجہ سے عادل راجہ اور ان کے ساتھی یوٹیوبرحیدرمہدی کی ذہنی و نفسیاتی حالت مزیدخراب ہو گئی ہے اور انہیں سائیکوٹک ڈپریشن کےزیادہ سنگین اور مہلک دورے پڑنے لگ گئےہیں ، افواج پاکستان جن افسران کو ذہنی طور پرمس فٹ یا ان فٹ قرار دے کر قبل از وقت ریٹائرمنٹ دے دیتی ہیں اگر انہیں جبری ریٹائرڈ کرنےسےقبل سال چھ ماہ کیلئے اپنے کسی کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کے شعبہ ذہنی صحت وارڈ میں اچھے علاج کی سہولت فراہم کرنے کی روایت اپنالیں تومستقبل میں سوشل میڈیاپرنئےعادل راجےاورحیدر مہدی’’پیدا‘‘ ہونے کے سانحات سے بچاجاسکتا ہے۔