کسی نے کھسیانی بلی کو کھمبا نوچتے ’’لائیو‘‘ دیکھنا ہو تو بھارتی میڈیا کی آج کل کی کوریج پر نظر دوڑا لے ، مزید تفصیلی ’’نظارے‘‘ کیلئے آپ کو پاکستان اور عراق کے درمیان 1 ارب 80 کروڑ ڈالر کے 24 طیاروں کی بڑی دفاعی ڈیل کی خبر کے حوالے سے بھارتی نیوز چینلز کی رپورٹیں اور اینکرز و دفاعی ماہرین کی دلچسپ بحث سننا پڑے گی۔ بھارتی میڈیا پر یہ سیاپا کیوں جاری ہے ؟ اس کی کچھ تاریخی وجوہات ہیں ۔
معاملہ کچھ یوں ہے کہ ایک طرف بھارت کا حال یہ ہے کہ اپنے لڑاکا طیارے تیجس کی پہلی پرواز کو تقریباً چوتھائی صدی گذر جانے کے باوجود اس کیلئے عالمی مارکیٹ میں وہ ابھی تک پہلا گاہک تلاش کرتا پھر رہا ہے لیکن کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ، دوسری طرف الحمدللہ پاکستان نے ایک بڑا سنگ میل عبور کرتے ہوئے عراق کے ساتھ ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی تاریخی ڈیفنس ڈیل کے تحت 12 جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں اور 12 مشاق ٹرینر طیاروں کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں ۔ یہ منظر دیکھ کر بھارتیوں کی باڈی لینگوئج اس ادھیڑ عمر کنواری دوشیزہ سے ملتی جلتی ہے کہ شادی کے انتظار میں جس کی عمر ڈھل چکی ہو اور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ گاں میں ہونے والی شادی کی مہندی میں اسے اکثر ڈھولک بجانے کیلئے کہا جاتا رہے۔
بغداد میں عراقی وزارت دفاع کی پرشکوہ عمارت میں پاکستان کے ساتھ اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے جانے کی تقریب کی خبر پوری دنیا کی ائیر فورس کمیونٹی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ، لیکن اس دوران بھارت میں صف ماتم بچھی رہی ۔ پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر نے بغداد میں منعقدہ تقریب میں پاکستان کی نمائندگی کی ، جو عراق کے کئی روزہ دورے پر گئے ہوئے تھے ، جبکہ عراقی وزارت دفاع کے سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد داد اور لیفٹیننٹ جنرل شہاب زاہد علی بغداد حکومت کی طرف سے شریک ہوئے ، معاہدے کے مطابق پاکستان پہلے مرحلے میں 12 مشاق ٹرینر طیارے سپلائی کرے گا اور پھر 12 جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری لڑاکا طیارے عراقی فضائیہ کو فراہم کیے جائیں گے۔
ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کے اس بڑے دفاعی معاہدے پر دستخطوں کے ساتھ ہی عراق پاکستان کے جدید ترین جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا ہے ، اس سے قبل نائیجیریا اور میانمار (برما) یہ طیارے استعمال کر رہے ہیں جبکہ آذربائیجان کو ان طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے ۔ پاکستان موجودہ معاہدے سے قبل عراق کو 12 مشاق ٹرینر طیارے فراہم کر چکا ہے ، ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی نئی ڈیل کے تحت مزید 12 مشاق طیاروں کی فراہمی کے بعد عراق کے پاس ان جدید ترین تربیتی طیاروں کی کل تعداد 24 ہو جائے گی ، ذرائع کا کہنا ہے ، ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی میگا ڈیفنس ڈیل میں عراق کو جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری طیاروں کے ساتھ ساتھ دنیا کے جدید ترین فضا سے فضا اور فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل ، گائیڈڈ بم اور دیگر ایمونیشن بھی سپلائی کیا جائے گا اور پاک فضائیہ عراق فضائیہ کے پائلٹوں اور ایروناٹیکل انجینئرز کو مختلف شعبوں میں حربی تربیت بھی دے گی ۔ پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری کے اس تاریخی معاہدے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ عراق ان طیاروں کو اپنے پرانے ایف 16 طیاروں کو ری پلیس کرنے کیلئے خرید رہا ہے جو اس نے 1980 ء کے عشرے میں امریکہ سے حاصل کیے تھے اور پرزے نہ ملنے اور انتہائی مہنگی دیکھ بھال کی وجہ سے یہ امریکی لڑاکا طیارے عراقی فضائیہ پر بوجھ بنے ہوئے ہیں ، عالمی ائیر فورس کمیونٹی اس بات پر حیران ہو رہی ہے کہ ایک طرف دنیا پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر طیارے اپنے اعلیٰ درجے کے امریکی لڑاکا طیاروں کو ری پلیس کرنے کیلئے خرید رہی ہے تو دوسری طرف بھارتی لڑاکا طیاروں تیجس کو بطور ٹرینر طیارے خریدنے کیلئے بھی دنیا کا کوئی ملک تیار نہیں ہو رہا ، چند برس قبل ملائیشیا نے تیجس کی خریداری کیلئے بھارت سے جاری مذاکرات کو ختم کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے ٹرینر لڑاکا طیارے ایف اے 50 کی خریداری کا معاہدہ کر لیا جس سے بھارتیوں کی بہت سبکی ہوئی کہ جو تیجس کو اسرائیلی و بھارتی ٹیکنالوجی کے اشتراک کا شاہکار قرار دیتے ہوئے(کاغذات میں) فور پوائنٹ فائیو جنریشن کا لڑاکا طیارہ ثابت کرنے پر مصر ہے ۔ بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع جیسلمیر میں حال ہی میں ایک ہندوستانی پائلٹ نے انتہائی غیر پیشہ ورانہ انداز میں افراتفری کے ساتھ فل فنکشنل تیجس طیارے سے ایجیکٹ کیا اور اپنے طیارے کو آبادی پر گرا دیا ، اس واقعے نے بھی تیجس کی عالمی مارکیٹ پر بہت منفی اثر ڈالا ہے جو پہلے ہی کچھ اچھی نہیں تھی ۔
تیجس نے اپنی پہلی پرواز 2001 میں کی جبکہ جے ایف 17 تھنڈر کی پہلی پرواز 2004 میں ہوئی ، پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر نے مختصر عرصے میں عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا لی اور پہلی پرواز کے ایک عشرے بعد ہی دنیا بھر میں ہونے والے ائیر شوز میں حیران کن کارکردگی دکھاتے ہوئے عالمی مارکیٹ میں مقام کے ساتھ خریدار بھی بنا لیئے ، دہشت گردی کیخلاف آپریشنز ہوں یا کشمیر کنٹرول لائن پر پاک بھارت فضائی جھڑپیں ‘جے ایف 17 تھنڈر کی ایک قابل فخر فل آپریشنل وار ہسٹری بھی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں تیجس ابھی تک کسی جنگی میدان میں بھی کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکا نہ بھارتی ائیر فورس کے سوا دنیا کے کسی ملک کی فضائیہ نے اسے خریدنے کا ’’رسک‘‘ لیا ہے ۔ وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ہے کہ بھارت کے مگ 21 کی طرح تیجس کے بارے میں بھی ڈر یہ ہے کہ یہ بھی ایک اڑتا ہوا جدید تابوت ہے ، جیسلمیر والے فضائی حادثے نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے ۔
پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کے عراق کے کامیاب دورے پر دنیا بھر کی نظریں ہیں اور عالمی میڈیا میں یہ تبصرے جاری ہیں کہ پاک فضائیہ نے مختصر عرصے میں ٹرینرز و لڑاکا طیاروں کی عالمی مارکیٹ میں اچھی ساکھ بنا لی ہے ، بھارتی فضائیہ بھی حسرت بھری نگاہوں سے اس وزٹ کو دیکھتی رہی کیونکہ خود بھارت بھی کچھ عرصہ قبل تک تیجس طیاروں کی عراق کو فروخت کیلئے مذاکرات کرتا رہا ہے لیکن یہاں بھی اسے جنوبی کوریا کے ہاتھوں ہی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور عراقی فضائیہ نے بھارتی لڑاکا طیارے تیجس کو رد کر کے جنوبی کوریا سے 24 ٹی ففٹی لڑاکا طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کر لیا تھا۔