امریکہ اور نیٹو کی طرف سے یوکرین کو جدید ترین ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی اب ایک معمول بن چکی ہے۔ ہر ہفتے، ہر ماہ، کسی نہ کسی مغربی ملک سے یوکرین کے لیے اربوں ڈالر کی نئی امداد کا اعلان ہوتا ہے۔ کبھی ہائی مارز راکٹ سسٹمز، کبھی پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس، کبھی جدید ٹینک، تو کبھی ایف-16 طیارے۔ یہ امداد یوں دی جا رہی ہے جیسے کسی آگ پر مسلسل تیل ڈالا جا رہا ہو۔ لیکن اس تمام تر عالمی شور شرابے کے بیچ، خاموشی سے کچھ اور بھی ہو رہا ہے ایک ایسا انقلاب جو مستقبل کی جنگوں کا چہرہ بدل سکتا ہے۔ یہ انقلاب ہتھیاروں کی پیداوار میں روس کا وہ دھماکہ خیز اضافہ ہے جس کی تازہ جھلک تاتارستان کے ’’الابوگا‘‘ اسلحہ فیکٹری سے سامنے آئی ہے۔
روسی ریاستی میڈیا نے حال ہی میں پہلی بار اس فیکٹری کی فوٹیج جاری کی ہے، جہاں Geran-2 ڈرونز کی بڑے پیمانے پر تیاری کی جارہی ہے۔ یہ وہی ڈرون ہے جسے دنیا ایرانی ساختہ Shahed-136 کے نام سے جانتی ہے اور جو یوکرین جنگ میں پہلی بار 2022 ء میں استعمال ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ روس کی جنگی حکمت عملی کا اہم ترین ستون بن گیا۔ فوٹیج میں سینکڑوں تیار شدہ ڈرونز قطار در قطار نظر آ رہے تھے جیسے کسی جنگی شو روم میں مہلک پرندوں کی نمائش ہو رہی ہو۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی خودکش ڈرون فیکٹری ہے، جو اب ہر روز 100 سے زائد Geran-2 تیار کر رہی ہے، اور جلد یہ پیداوار روزانہ 500 یونٹ تک جا پہنچے گی۔ یوں روسی فوج کی طرف سے ایک ہفتے میں ہزاروں ڈرونز فضا میں چھوڑے جا سکیں گے، اور ان میں سے ہر ایک کسی یوکرینی شہر کی روشنیوں کو اندھیرے میں بدلنے کی طاقت رکھتا ہو گا۔
روس نے اپنے ہتھیار خود بنانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس نے وہ راستے تلاش کیے جنہیں مغرب نے یا تو نظرانداز کر دیا یا ان کی صلاحیت کو کم سمجھا۔
شمالی کوریا دنیا کا سب سے الگ تھلگ، مگر سب سے زیادہ عسکری نظم و ضبط رکھنے والا ملک ہے جو کئی دہائیوں سے خود بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے، اب وہ روس کو نہ صرف توپخانے کے گولے اور راکٹ دے رہا ہے بلکہ بیلسٹک میزائل بھی فراہم کر چکا ہے۔ جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، شمالی کوریا اب تک روس کو تقریبا 1 کروڑ 20 لاکھ توپوں کے گولے دے چکا ہے۔ تصور کریں، یہ گولے 28,000 کنٹینرز میں لد کر ماسکو تک پہنچائے گئے۔ یہ کوئی روایتی امداد نہیں بلکہ خالص جنگی ایندھن ہے جو یوکرین کے مورچوں پر روزانہ کی بنیاد پر برسایا جا رہا ہے۔
یہی نہیں، شمالی کوریا نے 100 سے زائد بیلسٹک میزائل جن میں KN23 اور Hwasong11 جیسے جدید ماڈل شامل ہیںبھی روس کے حوالے کیے۔ ان میزائلوں نے 2024 ء میں یوکرین میں شہری ہلاکتوں کا اہم ترین سبب بن کر مغرب کے خدشات کو حقیقت کا روپ دے دیا۔ آنے والے برسوں میں یہ تعداد مزید بڑھنے جا رہی ہے، کیونکہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان دفاعی شراکت داری اب محض اسلحہ کی ترسیل تک محدود نہیں، بلکہ فوجی عملے کی تعیناتی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی تک جاپہنچی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، 25,000 سے زائد شمالی کوریائی صنعتی کارکن تاتارستان کے اسلحہ کارخانوں میں کام کے لیے حال ہی میں پہنچے ہیں، جبکہ سینکڑوں شمالی کورین ورکرز پہلے ہی روسی فیکٹریوں میں موجود تھے۔ ایسے میں جنگ کا اگلا فیز صرف “Russian Made” نہیں، بلکہ “Made by Pyongyang Workers” بھی ہو گا۔
اس منظرنامے کا سب سے خاموش اور سب سے خطرناک کھلاڑی چین ہے۔ دنیا بھر میں جب مغربی ممالک روس پر پابندیاں لگا رہے تھے، چین خاموشی سے روس کی دفاعی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا تھا۔ وہ ریڑھ کی ہڈی جس کا نہ کوئی شور ہے، نہ ہی کوئی اعلان۔ چین نے روس کو وہ سب کچھ فراہم کیا جو ایک جدید جنگی صنعت کو چاہیے تھا یعنی مائیکروچپس، نیوی گیشنل آلات، سرکٹ بورڈز، ڈرون انجن، نائٹرو سیلولوز(جو گولہ بارود کی بنیادی کیمیکل ہے) اور مشین ٹولز۔ مغرب جس روسی انڈسٹری کو پابندیوں سے تباہ کرنا چاہتا تھا، وہ چین کی مدد سے نہ صرف قائم رہی بلکہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ۔
گیران 2 روسی ڈرونز جو یوکرین میں سب سے زیادہ تباہی پھیلا رہے ہیں، ان میں استعمال ہونے والے بیشتر پرزے چینی ساختہ ہیں۔ حتی کہ روس کے جدید لڑاکا طیاروں Su-34 کے کچھ پرزے اور Kh-101 کروز میزائلوں میں بھی چینی ٹیکنالوجی کی جھلک دیکھی گئی ہے۔ چین نے بظاہر غیر عسکری سامان کے پردے میں دوہرے استعمال والے آلات روس کو فراہم کیے، اور یوں اقوام متحدہ کی پابندیوں سے بھی بچ نکلا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر اس اسکرو، چپ اور آلے کے پیچھے ہے جس نے روسی فیکٹریوں کو زندہ رکھا ہوا ہے۔
اور اب آخر میں بات کرتے ہیں مشرق و مغرب کے سب سے بڑے منافق ملک بھارت کی‘ روس کا دیرینہ فوجی اتحادی، جو برسوں بلکہ عشروں سے روسی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے، اور جس نے دنیا کے سامنے روس کو ہمیشہ ایک قابلِ اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر پیش کیا ہے، مگر جیسے ہی روس پر آزمائش کی گھڑی آئی، بھارت کی خارجہ پالیسی نے ایک کھلا منافقانہ رخ اختیار کر لیا۔
یوکرین جنگ کے آغاز سے ہی بھارت نے روس سے زبانی ہمدردی تو کی، مگر عملی طور پر مغرب کے مفادات کا خیال رکھا۔ روسی اسلحے کی خرید میں غیر معمولی کمی، نئی ٹیکنالوجی کے معاہدوں پر توقف، اور اقوام متحدہ میں روس کے حق میں ووٹنگ سے گریزیہ سب اس بات کا اعلان تھا کہ بھارت اب صرف موقع پرست پالیسی پر گامزن ہے۔ اس نے روس سے سستے تیل کا فائدہ تو اٹھایا، مگر جوابی دفاعی تعاون کے حوالے سے خاموش تماشائی بن کر رہ گیا۔ حالانکہ اسی بھارت نے اسرائیل کو جدید کروز میزائلوں براہموس اور دیگر جدید اسلحہ و گولہ بارود کی خفیہ سپلائی جاری رکھی، یہاں تک کہ جب روس کو فوجی پرزہ جات اور سپورٹ کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، بھارت نے اسے کوئی واضح مدد فراہم نہیں کی، بلکہ امریکہ اور یورپ کو ناراض نہ کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔
روس کے نزدیک بھارت کی یہ منافقت ایک کھلا دھوکہ ہے۔ جو ملک کل تک سوویت یونین سے اپنے تعلقات پر فخر کرتا تھا، آج وہ اپنے پرانے اتحادی کے سب سے بڑے بحران میں خاموش تماشائی بن کر کھڑا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ روس اب بھارت کی جگہ چین، شمالی کوریا اور ایران جیسے غیر مغربی، مگر باعمل اتحادیوں کی طرف بڑھ رہا ہے ایسے اتحادی جو لفظوں سے نہیں، عمل سے ساتھ دیتے ہیں۔ دنیا کی نئی فوجی صف بندیاں اب پرانی وابستگیوں پر نہیں بلکہ زمینی حقیقتوں، خاموش معاہدوں اور مشترکہ مفادات پر استوار ہو رہی ہیں۔ دنیا ایک نئے جنگی اتحاد کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں توپ، ڈرون، مزدور اور مائیکروچپس سب کچھ ہتھیار بن چکے ہیں اور اس نئی عالمی صف بندی میں سب سے بڑا یوٹرن بھارت کی منافقانہ پالیسی کو قرار دیا جا رہا ہے۔