پاکستان میں افغانستان کے راستے دہشت گردی کی تاریخ خاصی پرانی ہے، ایک تاثر یہ تھا کہ بھارت نوازاشرف غنی حکومت کےخاتمے کے بعد پاکستان کی اس عذاب سے جان چھوٹ جائےگی لیکن حیرت انگیز طور پر ہوا یہ ہےکہ کابل میں افغان طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعدیہ دراندازی و دہشت گردی ختم ہونے یا کم ہونے کی بجائے الٹا کئی گنا بڑھ گئی ہے، کالعدم ٹی ٹی پی اورکالعدم داعش خراسان (آئی ایس کے پی)ہو یا کالعدم بی ایل اے اور کالعدم بی ایل ایف،ان تمام دہشت گردتنظیموں کو کھلے عام افغانستان سے آپریٹ کیاجارہاہے، انٹیلی جنس ذرائع تو اس پراکسی جنگ میں مارےجانیوالے دہشت گردوں کےڈیٹا کے تناظر میں اب یہ ہوشربا انکشاف بھی کررہےہیں کہ افغانستان سے پاکستان آ کر دہشت گرد حملے کرنے والوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کےلوگ صرف 25 فیصد ہیں، 75فیصد افغان نیشنلز ان حملوں میں استعمال ہورہےہیں، اس لئےیہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ اس وقت پاکستان کو اپنی مغربی سرحد سے ایک ’’آل آئوٹ پراکسی وار‘‘کا سامنا ہے اورعملاً صورتحال یہ بنی ہوئی ہے کہ پچھلے چالیس پچاس برسوں تک پاکستان نے جن افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور جن افغان مجاہدین کی مختلف انداز میں کبھی اعلانیہ تو کبھی خفیہ مدد کی، افغانستان میں بلا شرکت غیرےحکومت سنبھالنےکےبعدانہوں نےاپنے میزبان ملک کیخلاف ہی عملاً خفیہ عسکری یلغار کر رکھی ہے اور ٹی ٹی پی تو اب صرف ایک ’’کور‘‘ہے اس کے پردے میں اصل جنگ ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کے خاص لوگ لڑ رہے ہیں، گویا معاملہ یہ بن گیا ہے کہ میرے ہاتھوں سے تراشے ہوئے پتھر کے صنم آج بت خانے میں بھگوان بنے بیٹھے ہیں۔ زیادہ واضح اور دو ٹوک انداز میں یہ تبصرہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ جسے ہم نےتراشا بت بنایا وہی برباد کرنے پر تلا ہے۔
ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ صرف بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں یا اس پراکسی وار میں دنیاکی کچھ اور بڑی طاقتیں بھی خفیہ طور پر ملوث ہیں، اور افغان طالبان رجیم اس گریٹ گیم میں صرف ’’رائےکےفوجیوں‘‘والا کردار اداکررہا ہے؟ اس حوالے سے بھی اب شکوک بڑھتےجارہے ہیں کیونکہ افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت نہ صرف بھارت سے بلکہ چین اور امریکہ سے بھی اربوں ڈالر کی مالی امداد انسانی فلاح و بہبود کے نام پروصول کر رہی ہےاور بہت بڑے پیمانے پر نوازشات کی یہ بارش بلا وجہ نہیں ہو سکتی، اسی تناظر میں یہ سوال بھی پوچھا جارہاہےکہ یہ کیسی اسلامی امارات ہےکہ ہندوستان یا کافرستان جس کا دوست ملک ہےجو پہلے سوویت یونین کا سب سے بڑا اتحادی رہاجس نےافغانستان پر حملہ کیا تھا اور پھر 20برس شمالی اتحاد کی حامد کرزئی و اشرف غنی حکومتوں کے ساتھ مل کر خود افغان طالبان کےخلاف برسرپیکاررہا،اورستم بالائےستم یہ ہے کہ اس اسلامی امارات کی ساری پراکسی جنگ اپنے اسلامی ہمسایہ ملک کے خلاف ہے جو نصف صدی تک افغانوں کاسب سےبڑامیزبان و مددگاررہا اور آج کل بھی لاکھوں افغان مہاجرین کو رہائش و کاروبار کےلئے اپنے ملک میں جگہ دیئےہوئے ہے۔پاکستان تحریک انصاف، پشتون تحفظ موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی،بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل،بلوچ یکجہتی کمیٹی،جے یو آئی ف، جے یو آئی س اور جے یو آئی نظریاتی سمیت مختلف دینی و سیاسی جماعتیں اور چند مخصوص مکاتب فکر افغان طالبان حکومت المعروف امارات اسلامی افغانستان کے حوالے سے خصوصی نرم گوشہ رکھتے ہیں، اس خصوصی نرم گوشے کے پس پردہ ہر سیاسی و دینی جماعت کی اپنی اپنی عصبیت یا وجوہات ہیں، یہ جماعتیں اپنے اپنے گروہی یا جماعتی مفادات کی وجہ سے افغان طالبان حکومت کی پاکستان کیخلاف اس آل آئوٹ پراکسی وار کی کھل کر مذمت نہیں کرتیں،جس کی وجہ سے پاکستان کی مسلح افواج اور 25کروڑ عوام کا خون مسلسل بہہ رہا ہے اور مملکت خداداد کی منتخب پارلیمنٹ اور عوامی سطح پر وہ یکسوئی اور یکجہتی پیدا نہیں ہو رہی کہ جو اس آل آئوٹ پراکسی وار سے نمٹنے کے لئے ناگزیر ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ جب داعش خراسان اور افغان طالبان کی سوچ اور عسکری پالیسیوں میں 180 درجے کا فرق ہوا کرتا تھا لیکن دوحہ مذاکرات کے بعد جب سے امریکہ افغانستان کا اقتدار پرامن انداز میں افغان طالبان کے حوالے کر کے گیا ہے ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ رجیم کی پالیسیوں میں واضح یوٹرن آ گیا ہے اس حوالے سے بہت سے سلگتے سوالات ذہنوں میں کلبلا رہے ہیں، افغان طالبان حکومت کے لئےمختلف وجوہات کی بنیاد پر نرم گوشہ رکھنے والی پاکستانی دینی و سیاسی جماعتیں ہوں یا خود افغانستان کے عوام اور مختلف افغان مکاتب فکر، ان سب کو طالبان امارات اسلامی افغانستان سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ افغانستان میں سرگرم کالعدم داعش کو اپنی نظریاتی سوچ اور عملی کردار کی طرف لانے کی بجائے افغان طالبان نے الٹا کالعدم داعش کی سوچ اور کردار کیوں اپنا لیا ہے؟ داعش نے اپنےقیام کے بعد سے آج تک جتنی بھی جنگیں اور پراکسی وارز لڑی ہیں ان میں داعش کے حملوں میں مرنے والے 99فیصد سے زائد مسلمان ہیں، داعش نہ تو اسرائیل کیخلاف جہاد کرتی ہےاور نہ ہی اس نے عرب ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور بحیرہ عرب، بحیرہ قلزم اور بحیرہ روم میں موجود امریکی و اسرائیلی جنگی بحری جہازوں یا مفادات کے خلاف کوئی بڑی عسکری یلغار لانچ کی ہے، حتیٰ کہ حالیہ چند برسوں کے دوران جب سے اسرائیل غزہ میں قیامت ڈھا رہا ہے، داعش نے نہ مقبوضہ فلسطین کے عوام کی کوئی مدد و نصرت کی اورنہ ہی اسرائیل میں کوئی ایک حملہ بھی کیاجبکہ مسلم ممالک کی حکومتوں کو وہ مسلسل ٹارگٹ کر رہی ہے۔
اسلامی امارات افغانستان نے بھی جب سے کابل کا اقتدار سنبھالا ہے، ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کا ذاتی نیٹ ورک ہو یا افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی، آئی ایس کے پی، بی ایل اے اور بی ایل ایف کے جنگجو، انہوں نے بھی نہ تو مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی مدد کے لئے کسی جہادی سرگرمی میں حصہ لیا جس کے یار لوگ ماضی میں دعوے کیا کرتے تھے، اور نہ ہی ہندوستان میں بی جے پی کے ظلم کے شکار بھارتی مسلمانوں کی مدد و نصرت کے لئے کوئی ایکٹیویٹی کی، یوں ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح داعش کی عسکری سرگرمیوں میں مارےجانے والے 99 فیصد مسلمان اور نشانہ صرف اسلامی ممالک ہیں، بالکل اسی پیٹرن پر افغان طالبان حکومت اور اس کی پروردہ دہشت گرد تنظیموں کی پراکسی وار کا 100 فیصد نشانہ بھی صرف مسلمان اور پاکستان ہیں۔ چہ بوالعجبی است؟ عہدحاضر کا سب سے سلگتا سوال اس المناک مماثلت کے تناظر میں یہ ہے کہ افغانستان میں موجود داعش جیسی تنظیموں کو امارات اسلامی افغانستان کی حکمت عملی کا پابند کرنےکی بجائے، امارات اسلامی افغانستان نے داعش والی حکمت عملی کیوں اپنا لی ہے؟ کیا چالیس پچاس برس افغانستان میں جہاد اس لیے کیا گیا اور لاکھوں عوام اور مجاہدین کا خون اس لیے بہایا گیا کہ افغانستان میں ایسی اسلامی امارات قائم کی جائے جو عملی طور پر دور حاضر کے خوارج کہلانے والے داعش گروپ کے نقش قدم پر چلے گی؟ کیا کہتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام بیچ اس مسئلے کے؟