Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بانی پی ٹی آئی اور آدھے لڈو ڈپلومیسی

بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت ہمارے کچھ سیاسی و مذہبی رہنما اپنے اپنے سیاسی و جماعتی مفادات یا سطحی سوچ کی وجہ سے افغان طالبان حکومت کے ساتھ ’’یکطرفہ دوستانہ تعلقات‘‘ کے بیانیہ کو آگے بڑھاتے ہوئے جس طرح منگنی کے آدھے آدھے لڈو بانٹ رہے ہیں اس پر ہمیں بے اختیار سردار سنتا سنگھ یاد آ جاتا ہے جو اپنی بات پکی ہونے کی خوشی میں منگنی کے آدھے آدھے لڈو بانٹ رہا تھا، گاں والوں نے آدھے لڈو بانٹنے کی وجہ پوچھی تو سردار جی نے جواب دیا کہ ہماری طرف سے بات پکی ہو گئی ہے لیکن ابھی لڑکی والے راضی نہیں ہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ افغانستان سے جو دہشت گرد سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہو کر پاکستانی فوج اور عوام کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے اس میں 75 سے 80 فیصد دہشت گرد افغان شہری ہیں، ٹی ٹی پی کے پاکستانی نژاد دہشت گرد صرف 20 سے 25 فیصد ہیں اور وہ بھی زیادہ تر لاجسٹک اور گائیڈ کا کردار ادا کر رہے ہیں، یوں عملًا زمینی صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں داخل ہونے والے خود کش حملہ آوروں میں 95 فیصد تک افغان نیشنل ہیں، اس پراکسی جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کے مستند اعداد و شمار کے مطابق صرف 2025 ء کے دوران 126 افغان حملہ آور پاک فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں مارے گئے۔
افغانستان کے اندر کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں ٹی ٹی پی، داعش خراسان، بی ایل اے اور بی ایل ایف کے 57 ٹریننگ کیمپس اور لانچنگ پیڈز اس وقت سرگرم ہیں اور یہ تعداد سابق اشرف غنی حکومت کے دور میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مدد سے قائم ایسے ہی دہشت گرد ٹریننگ کیمپس اور لانچنگ پیڈز سے تین چار گنا زیادہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے بارڈر پر یہ خوفناک تبدیلی 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد بتدریج آئی ہے اور اس دراندازی و دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ابتدائی برسوں میں پاکستانی فوج اور عوام اس خوش فہمی یا غلط فہمی کا شکار رہے کہ داعش خراسان، ٹی ٹی پی ، بی ایل اے اور بی ایل ایف کی دہشت گرد سرگرمیوں میں تیزی کی وجہ یہ ہے کہ افغان طالبان حکومت کا ابھی ملک کے تمام دور دراز مقامات پر مکمل کنٹرول نہیں ہے، لیکن دو تین سال کے اندر ہی یہ غلط فہمی یا خوش فہمی دور ہو گئی کیونکہ افغان طالبان حکومت کا اپنے ملک پر کنٹرول جوں جوں مستحکم ہوتا گیا پاکستان کی طرف دراندازی اور دہشت گردی کم ہونے کی بجائے تیزی سے بڑھتی گئی، جب اس سارے معاملے کی افغانستان کے اندر کے زمینی حقائق کی روشنی اور تفصیلی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر چھان پھٹک کی گئی تو یہ تہلکہ خیز انکشافات ہوئے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں خون ریز پراکسی وار میں ملوث چاروں بڑی دہشت گرد تنظیموں کے ٹریننگ کیمپس اور لانچنگ پیڈز کی تعداد سابق اشرف غنی حکومت کے زمانے کے مقابلے میں تین چار گنا بڑھ چکی ہے، دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپس اور لانچنگ پیڈز پانچ سات ہوتے تو انہیں افغان حکومت سے چھپ چھپا کر جاری دہشت گرد سرگرمیاں قرار دیا جا سکتا تھا، لیکن 5 درجن کے قریب دہشت گردی کے اڈے تو پاکستانی انٹیلی جنس ادارے ٹریس کر چکے ہیں اور ابھی نہ جانے کتنے ایسے خفیہ اڈے مزید ہوں گے، اتنے بڑے پیمانے پر لانچنگ پیڈز اور ٹریننگ کیمپس افغان طالبان حکومت کی رضامندی اور سرپرستی کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھ ہی نہیں سکتے۔
پاکستان چونکہ افغان مہاجرین اور افغان مجاہدین کا پچھلے چالیس پینتالیس برس میزبان و مددگار رہا ہے اس لیئے افغان طالبان حکومت کے اندر آج بھی بہت سے انصاف پسند طالبان رہنما اور مجاہدین موجود ہیں جو اپنی قیادت کی اس دوغلی پالیسی پر کڑھتے رہتے ہیں کہ امارات اسلامی افغانستان کی سرکردہ قیادت خرگوش کے بھی ساتھ ہے اور شکاری کے بھی ساتھ ہے۔ انہی انصاف پسند افغان ذرائع سے یہ معلومات بھی باہر نکلتی رہی ہیں کہ امارات اسلامی افغانستان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کی طرف سے ٹی ٹی پی دہشت گردی کی سرپرستی کی پالیسی پر افغان طالبان حکومت میں اختلافات بھی پیدا ہوئے لیکن رفتہ رفتہ افغان طالبان حکومت کے امیر کی پالیسی غالب آتی گئی اور اس وقت صورتحال یہ ہے افغانستان کی مقتدرہ اور تمام سیاسی و عسکری قیادت پاکستان کیخلاف جاری پراکسی وار کی سرپرستی جاری رکھنے پر’’یکسو‘‘ ہو چکی ہے لیکن پاکستان کی مقتدرہ اور سیاسی و حکومتی شخصیات ابھی تک اس حوالے سے ایک پیج پر نہیں آ سکے کہ افغانستان کی طرف سے افواج پاکستان اور 25 کروڑ پاکستانی عوام پر مسلط کی گئی اس ’’آل آئوٹ پراکسی وار‘‘ سے ہمیں کس طرح نمٹنا ہے؟
سب سے دلچسپ موقف اس وقت بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ہے، ان کے نزدیک اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو قیام امن کا مینڈیٹ دے کر کابل بھجوایا جائے اور وہ افغان طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرکے اس مسئلے کا پرامن حل نکالے، اس سے بڑی ستم ظریفی کیا ہو گی کہ بانی پی ٹی آئی ایک انتہائی پیچیدہ اور حساس مسئلے کے حل کیلئے ایک انتہائی غیر ذمہ دار شخصیت کو ڈپلومیٹ بنا کر بھجوانے کے خواہش مند ہیں، ان سے یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ جناب والا! گنڈا پور سے اپنے گھر کا مسئلہ تو حل ہوا نہیں، وہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان اور بانی پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان صلح تو دور کی بات ہے ’’سیز فائر‘‘ تک نہیں کروا سکے، وہ عالمی سازشوں کی وجہ سے جاری بین الاقوامی پراکسی وار کا حل کیسے نکال لیں گے؟ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے سلگتے مسئلے کے حل میں اس انتہا درجے کی غیر ذمہ داری، غیر سنجیدگی اور عدم دلچسپی بانی پی ٹی آئی کے اس ’’انتخاب‘‘ اور ایک انتہائی غیر سنجیدہ شخصیت کو امن کا ایلچی بنا کر افغانستان بھجوانے کے فیصلے سے صاف ظاہر ہو رہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی سمیت وہ تمام سیاسی رہنما اب نرگسیت اور خوش فہمیوں کی دلدل سے باہر نکلیں اور زمینی حقائق کی روشنی میں اس آل آئوٹ پراکسی وار کا مقابلہ کرنے کا کوئی ٹھوس لائحہ عمل بنائیں، ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کی قیادت میں ڈیورنڈ لائن کے اس پار تو تمام اسٹیک ہولڈرز ’’یکسو‘‘ ہو چکے ہیں، ہماری طرف یہ’’یکسوئی‘‘ پیدا کیئے بغیر ہم یہ جنگ کیسے اپنے منطقی انجام تک پہنچائیں گے؟ یہ بلا شبہ اک لمحہ فکریہ ہے، اگر ہم سنجیدہ اور یکسو نہ ہوئے تو پاکستان کے دونوں مغربی صوبوں میں بے گناہوں کا خون اسی طرح بہایا جاتا رہے گا۔ آخر کب تک؟ ہم ملک و قوم کو اپنے ذاتی، جماعتی اور سیاسی مفادات پر قربان کرتے رہیں گے؟ آخر کب تک؟

یہ بھی پڑھیں