Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

آزاد کشمیر میں نئی بھارتی پراکسی وار

آزاد کشمیر کے سابق آئی جی پی سہیل حبیب تاجک نے گزشتہ برس میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جب یہ انکشاف کیا کہ پولیس نے کچھ ایسے گروپس پکڑے ہیں جن میں 25، 25 لوگ شامل تھے، یہ گروپس امن و امان کی صورت حال خراب کرنے اور انتشار پھیلانے کے لئے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیز کے پے رول پر ہیں۔ تاجک صاحب کا یہ انکشاف کسی کو ’’ہضم‘‘ نہیں ہو رہا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے کشمیری بہن بھائیوں پر ظلم و جبر کی انتہا دیکھنے کے باوجود کوئی کشمیری شہری بھارتی ایجنٹ بھی بن سکتا ہے، لیکن پھر جوں جوں ان گروپس کے بارے میں تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوتا گیا، حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹنے لگے اور یہ جان کر دل بجھ گیاکہ پیسے کی چمک انسان کو کتنا خود غرض اور سفاک بنا دیتی ہے اور وہ اپنی ہی قوم اور اپنے ہی وطن کے ساتھ غداری سے بھی گریز نہیں کرتا۔ سہیل حبیب تاجک نے بتایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک سے وابستگی رکھنے والے آزاد کشمیر کے بہت سے لوگ اس وقت بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘کی ہٹ لسٹ پر ہیں اور 25, 25افراد کے ان خفیہ ’’را‘‘ گروپس سے آزاد کشمیر میں فسادات، شٹر ڈائون ہڑتالوں اور جلائو گھیرائو کا کام لینے کے ساتھ ساتھ ٹارگٹ کلنگ میں سہولت کاری بھی لی جا رہی ہے، آزادکشمیر میں جلائو گھیرائو اور ہڑتالوں کے اس منظم سلسلے کا خفیہ ایجنڈا یہ بھی ہے کہ اس طریقے سے آزاد کشمیر میں سیاحوں کی آمد ورفت کا راستہ روکاجائے جو کشمیری عوام کے روزگار کا بڑا ذریعہ ہے۔ یوں جب آزاد کشمیر میں لوگوں کا روزگار خراب ہو گا اور غربت بڑھے گی تو بھارتی خفیہ ایجنسی کو اپنےخفیہ نیٹ ورک میں بھرتیوں کے لئے مزید لوگ دستیاب ہوں گے کیونکہ غربت اور بیروزگاری انسان کو کفر تک کے قریب لے جاتی ہے۔
پنجاب کے بزرگ صوفی شاعر نے اس نکتے کو اپنے ایک شعر کے ذریعے دریا کو کوزے میں بند کرنے والے انداز میں پیش کیا ہے، فرماتے ہیں
ترجمہ: (اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں، لیکن اے فرید ! ایک چھٹا رکن روٹی ہے ۔ اگر یہ چھٹا رکن نہ ملے تو پانچوں بنیادی ارکان بھی ختم ہو جاتے ہیں)
آزاد کشمیر میں سیاحت کے بزنس کو تباہ و برباد کرنے والی سرگرمیوں کا راستہ روکنا ہر شہری کا بنیادی فرض ہے کیونکہ اس سازش کا اصل مقصد آزاد کشمیر میں بیروزگاری اور غربت بڑھا کر مزید لوگوں کو ’’را‘‘ نیٹ ورک میں بھرتی کی طرف مائل کرنا ہے تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے لئے جاری جدوجہد کے اس بیس کیمپ کو افراتفری اور عدم استحکام کا شکار کیا جاسکے، بھارت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پراکسی وار کے ذریعے خون کی جو ہولی کھیل رہا ہے، اس سلسلے میں اس کا اگلا گھنائونا منصوبہ آزاد کشمیر کا امن و امان اور خوشحالی تباہ کرنا ہے، آزاد کشمیر کے عوام کو اس صورتحال کو سمجھنا چاہیے اور آٹا و بجلی کی قیمتوں اور دیگر معاملات کی آڑ میں اپنی پرامن ریاست کے امن و خوشحالی کو خود اپنے ہی ہاتھوں آگ لگانے کی اس سازش کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔آٹا و بجلی کی قیمتوں کے نام پر ہنگامے شروع کروانےوالی آزاد کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) نے خود کو آزاد جموں وکشمیر میں عوامی حقوق کا ترجمان بنا کر پیش کیا، حقیقت میں اس کا بیانیہ ادھورے حقائق اور عوامی جذبات بھڑکانے والے من گھڑت نعروں پر مبنی ہے۔ یہ کمیٹی تاجروں، ٹرانسپورٹروں، وکلا، طلبہ اور چند قوم پرست عناصر کا ایک ایک اتحاد ہے جن کے 95 فیصد سے زائد لوگوں کو اس گھنائونے کھیل کے اصل مقاصد کا کچھ اندازہ نہیں، جن معاشی مسائل کو سیاسی ہتھیار بنا کر احتجاجی تحریک کھڑی کی گئی اگر انصاف کے ساتھ ان کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بجلی اور آٹا سمیت بہت سے معاملات میں آزاد کشمیر کے عوام کو سبسڈی دینے کا سلسلہ عرصے سےجاری ہے، اس کے باوجود احتجاج شروع کرکے ریاست کو مفلوج کرنے کے پیچھے اصل مقاصد کچھ اور ہیں۔
محکمہ تعلیم میں اساتذہ اور طلبہ کا تناسب ہو یا صحت کے شعبے میں ڈاکٹرز اور مریضوں کی تعداد کا موازنہ آزاد کشمیر تعلیم و صحت کی سہولتوں کا تناسب پاکستان کے چاروں صوبوں سے زیادہ ہے، صحت کے شعبے کے اعداد و شمارتو سب سے زیادہ واضح تصویر دکھاتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے ضلعی ہسپتال اور خصوصی علاج کے مراکز وسیع پیمانے پر موجود ہیں اور سالانہ 11لاکھ 80 ہزار سے زیادہ مریض آرمی میڈیکل سہولیات سے علاج کراتے ہیں۔ بجلی کا مسئلہ، جو JAAC کا سب سے بڑا نعرہ ہے، دراصل ایک واضح دھوکہ ہے۔ آزاد کشمیر کے شہری فی یونٹ 3 سے 6 روپےادا کرتے ہیں، جبکہ پنجاب، سندھ اور کے پی میں یہ نرخ 50 روپے فی یونٹ تک پہنچتے ہیں۔ عبوری آئین 1974 واضح طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر سے آئے مہاجرین کو ریاستی شہری تسلیم کرتا ہے اور انہیں 12نشستیں دیتا ہے۔ یہ نشستیں کوئی سیاسی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہیں۔ اس تحریک نما افراتفری سے نمٹنے کے دوران نرمی سے کام لیا گیا کیونکہ کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ واقع یہ ایریا مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک کا بیس کیمپ ہے اور حکومت یہاں سخت اقدامات کرنے سے احتراز کر رہی ہے، اس رعایت کا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا اور یہ تاثر دیا کہ اس کی عوامی طاقت ایسی ہے کہ حکومتی مشینری مفلوج ہو چکی ہے، لیکن اب جبکہ اس گھنائونی سازش میں بھارتی ہاتھ ثابت ہو چکا ہے، انتظامیہ کو یہ پراکسی جنگ بھڑکانے والوں کو سختی کے ساتھ کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا تاکہ یہ نئی آگ بھڑکا کر آزاد کشمیر کا روزگار تباہ کرکے ریاست میں غربت پھیلانے کی سازش کا راستہ روکا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں