Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس

قومی اسمبلی و سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز عمر ایوب اور شبلی فراز کا نااہل ہونا ہم عمران خان، پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے لئے Blessing in disguise قرار دے سکتے ہیں کہ وہ نقصان جو الٹا فائدے اور خیر کا سبب بن گیا، بے شک اللہ کی ہر تقدیر میں بہتری ہوتی ہے، جس فیصلے نے اپوزیشن کو بظاہر دھچکا پہنچایا ایسا لگتا ہے کہ اس کے نتیجے میں آنے والی تبدیلی نہ صرف حزب اختلاف بلکہ پورے ملک کے لئے بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کا محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اور علامہ راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدوں کے لئے نامزد کرنے کا فیصلہ محض ٹیکنیکل تبدیلی نہیں بلکہ ایک سیاسی حکمت عملی کی علامت ہے ایک ایسی حکمت عملی جو ایک نئے توازن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر دونوں رہنما اپنی ساکھ، تجربے اور نظریاتی وابستگیاں استعمال کریں تو یہ تعیناتیاں ملک کو ٹکرائو اور کشیدگی کے دور سے نکالنے کا ایک موقع بن سکتی ہیں۔
محمود خان اچکزئی ایک طویل سیاسی سفر طے کر چکے ہیں۔ وہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین ہیں اور اپنی پارٹی کی بنیادوں سے جڑے رہ کر پختون حقوق، وفاقیت اور شہری آزادیوں کی آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ ان کا سیاسی سفر نوجوانی سے شروع ہوا، جب انہوں نے طلبہ سیاست میں حصہ لیا، اور پھر والد کے انتقال کے بعد پارٹی کی رونق سنبھالی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اچکزئی نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے وہ تمام مراحل دیکھے ہیں جب جمہوریت کمزور پڑی، ریاستی ادارے طاقتور ہوئے اور سیاسی رہنما مشکلات کا شکار رہے۔ انہوں نے کبھی اقتدار کے مراکز کے سامنے سر نہیں جھکایا، ہمیشہ ایک آزاد، اصول پرست سیاستدان کے طور پر پہچانے گئے۔ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو شاید ان کی اصول پسندی ہے وہ سمجھوتوں کی سیاست کے بجائے موقف کی سیاست کے قائل ہیں۔ ان کی نامزدگی دراصل اس بات کی علامت ہے کہ عمران خان ایک ایسے اپوزیشن لیڈر کو سامنے لانا چاہتے ہیں جو جمہوری استقامت اور شرافت گفتار دونوں میں مثالی ہو۔علامہ راجہ ناصر عباس ایک ممتاز مذہبی و سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے مجلس وحدتِ مسلمین کو اعتدال، یکجہتی اور نظریاتی نظم کا استعارہ بنایا۔ وہ سینیٹ میں مذہبی و فکری توازن کے نمائندہ ہیں اور ان کی سیاست ہمیشہ اتحادِ امت، انصاف اور معاشرتی ہم آہنگی کے گرد گھومتی ہے۔ وہ شدت پسندی کے مخالف اور مکالمے کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننا نہ صرف شیعہ مکتبِ فکر کے عوام کے لیے اطمینان کا باعث ہے بلکہ ایک علامتی پیغام بھی ہے کہ اب مذہبی قیادت بھی جمہوری فریم ورک کے اندر رہ کر کردار ادا کرے گی۔یہ فیصلہ کہ محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو اپوزیشن قیادت سونپی جائے، دراصل تحریکِ انصاف کی ایک بڑی سیاسی تدبیر ہے۔ ایک طرف پشتون قوم پرست سیاست کی نرم گفتاری، دوسری طرف مذہبی وحدت کی نمائندگی دونوں کو اکٹھا کر کے ایک متوازن اپوزیشن کا چہرہ سامنے لایا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب سیاسی محاذ آرائی اپنی انتہا کو چھو رہی ہے، یہ جوڑی اگر بصیرت اور بردباری سے کام لے تو ملک و قوم کو تصادم سے نکال کر مفاہمت کی طرف لے جا سکتی ہے۔قومی اسمبلی و سینیٹ میں یہ نامزدگیاں اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ پاکستان میں اپوزیشن کا کردار اکثر صرف شور شرابے اور جلسے جلوسوں تک محدود سمجھا جاتا ہے،۔ لیکن اگر یہ رہنما ایوان کے اندر موثر قانون سازی، شفافیت، عوامی مفاد اور آئینی بالادستی پر توجہ دیں تو سیاست میں ایک نیا معیار قائم ہو سکتا ہے۔
اپوزیشن کا کام محض تنقید نہیں بلکہ توازن پیدا کرنا ہے، اور یہی توازن اس وقت ریاست پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔دونوں رہنما اگر عمران خان کے بیانیے کو ’’ٹکرا نہیں، تعمیر‘‘کے انداز میں آگے بڑھائیں، تو یہ سیاست ایک نئی سمت اختیار کر سکتی ہے۔ عمران خان نے خود اپنی جدوجہد میں ہمیشہ اداروں سے تصادم کے بجائے انصاف، شفافیت اور قومی خودمختاری پر زور دیا ہے لیکن حالیہ تین چار برس کے افسوس ناک واقعات نے ان کی سیاست کے اس پرامن چہرے کو گہنا دیا ہے۔ اگر اچکزئی اپنی اصول پسندی اور ناصر عباس اپنی فکری اعتدال پسندی کے ساتھ اصول پسندی و مفاہمت کے بیانیے کو پارلیمنٹ کے اندر موثر انداز میں پیش کریں، تو یہ اپوزیشن نہ صرف حکومت کے لیے بلکہ پورے سیاسی نظام کے لیے مثبت دبائو کا باعث بن سکتی ہے۔محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس اپنے جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک قومی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے کندھوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف اپنے ووٹرز کے نہیں بلکہ پوری قوم کے مفاد کی نمائندگی کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اقتدار کی سیاست سے بالاتر ہو کر ایسی راہ دکھائیں جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ملک کی بھلائی کے لیے شریک سفر ہوں۔
پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں یہ لمحہ ایک نئے آغاز کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ اگر اپوزیشن اپنے کردار کو شور سے نکال کر شعور میں بدل دے، اگر اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کی بنیاد بنایا جائے، اور اگر قیادت کا معیار ذاتی مفاد کے بجائے قومی بصیرت پر قائم ہو جائے، تو یہی وہ راستہ ہے جو قوم کو پائیدار جمہوریت اور سیاسی استحکام کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔امید کی جا سکتی ہے کہ محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس اپنے تجربے، دانش مندی اور نظرئیے سے اپنی وابستگی کے عہد کو محض علامتی نہیں بلکہ تاریخی بنائیں گے۔ اگر وہ چاہیں تو سیاست کے اس شور زدہ منظرنامے میں عقل و برداشت کی وہ شمع روشن کر سکتے ہیں جو پاکستان کو تصادم سے نکال کر جمہوری عمل کی روشنی کی طرف لے جائے۔

یہ بھی پڑھیں