بھارت کی گزشتہ 25 سالہ امریکی سرپرستی، مودی سرکار کی واشنگٹن سے حالیہ آنکھ مچولی اور افغان طالبان و روس کے ساتھ نئی دہلی کے اچانک بڑھتے ہوئے تعلقات اور ان اسٹریٹجک قلابازیوں کے نتیجے میں بھارتی مدارس میں پہلی بار عسکریت پسند سوچ کے فروغ کی کوشش کے نئے دور کو دنیا بھر کے مبصرین ایک منفرد زاویے سے دیکھ رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ بھارت کا کبھی کواڈ، نیٹو اور امریکا سے اچانک منہ موڑ کر برکس ، روس اور افغانستان کی طالبان عبوری حکومت کی طرف غیر متوقع جھکائو اور پھر اچانک امریکہ کے ساتھ دفاعی فریم ورک کا 10 سالہ معاہدہ اس کی شاطرانہ پالیسی کا حصہ ہے جو اسے کچھ وقتی فائدہ (ٹیکٹیکل گین) ضرور دے سکتی ہے مگر یہ مہم جوئی آخر کار طویل المیعاد تباہی(اسٹریٹجک بلنڈر)کا پیش خیمہ ثابت ہو گی، مثل مشہور ہے کہ دو گھروں کا مہمان ہمیشہ بھوکا رہتا ہے، کچھ ایسی ہی صورتحال بھارت کو درپیش ہے، وہ روس کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک دوستی کو بھی بحال رکھنا چاہتا ہے اور امریکہ سے بھی جدید ترین دفاعی و سائنسی ٹیکنالوجی حاصل کرنا چاہتا ہے، ملائشیا کے شہر کوالا لمپور میں امریکی اور بھارتی وزرائے دفاع نے 10 سالہ دفاعی فریم ورک کے جس معاہدے پر دستخط کئے ہیں وہ بھارت کے اسی مخمصے کا اک نیا ’’شاہکار‘‘ہے، اپنی دو گھروں کی اس مہمانداری کی پالیسی کی وجہ سے بھارتی فضائیہ ایک عجیب قسم کی صورتحال سے دوچار ہے، اس کے پاس نہ جدید ترین روسی ٹیکنالوجی ہے اور نہ ہی جدید ترین امریکی ٹیکنالوجی تک اس کو رسائی مل سکی ہے، تیسری بڑی منڈی یورپی و اسرائیلی دفاعی صنعت ہے، بھارت کے پاس جدید طیاروں اور میزائلوں کی بڑی تعداد فرانسیسی اور اسرائیلی بھی ہے، ان عجیب و غریب پالیسی فیصلوں کے نتیجے میں انڈین ائیر فورس کی حالت کچھ اس قسم کی ہے کہ ’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا‘‘
تین قسم کی اس فضائی دفاعی ٹیکنالوجی کی وجہ سے بھارتی طیاروں اور میزائلوں کا آپس میں تال میل نہیں جو جدید جنگ کا ایک لازمی حصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اپنی حالیہ 4 روزہ جنگ میں بھارتی فضائیہ اور میزائل فورس کو ناک آئوٹ کر کے رکھ دیا۔ پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا بڑا دفاعی بجٹ رکھنے کے باوجود بھارت کی شکست انتہائی شرمناک کارکردگی ہے لیکن اس کی بوڑھی قیادت فیصلہ سازی کی طاقت سے محروم ہے اس لئے نئی دہلی ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکا کہ اس نے جدید ترین امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنا ہے یا روسی ٹیکنالوجی پر، ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی کمی یا کوتاہی کا اِزالہ کرنے کے لئے بھارت اب ایک اور خطرناک کھیل کھیلنے جا رہا ہے اور افغانستان کی طالبان عبوری حکومت سے مل کر برصغیر کے مدارس میں عسکریت پسندی کا نیا بیج بو رہا ہے، اس حوالے سے عالمی سفارتی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں بھی جاری ہیں کہ اس نئی گریٹ گیم میں وزیراعظم مودی کا ’’ولیم کیسی‘‘کون ہے؟ اور وہ یہ کیا نیا کھیل کھیلنے جا رہا ہے؟ کے جس کا بھارت فوری فائدہ پاکستان اور افغانستان میں خون کی مزید نئی ندیاں بہانے کی صورت میں اٹھا سکے گا لیکن اس اسٹریٹجک بلنڈر کے طویل المیعاد منفی اثرات آخر کار امریکہ ، چین اور روس کے ساتھ ساتھ خود بھارت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے اور ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا امریکا کی مدد سے حاصل کی گئی بھارت کی بے پناہ اقتصادی طاقت ’’اسٹریٹجک آنکھ مچولی‘‘کے نئے مودی ڈاکٹرائن کے ذریعے خود امریکا کے خلاف استعمال ہونے والی ہے؟جب آندھیاں چلتی ہیں تو جھوٹے دوست دوہرا وار کرتے ہیں۔ یہی ابدی سچائی آج جنوبی ایشیاء کے بدلتے ہوئے اتحادوں میں گونج رہی ہے، جہاں امریکا کی دہائیوں پر محیط بھارت نوازی اب خود اس کے خلاف ایک ہتھیار بن چکی ہے۔
کیا عجب تضاد ہے کہ امریکا اور مغربی دنیا نے گزشتہ 25برسوں کے دوران سفارتی، تجارتی اور دفاعی مراعات کے ذریعے بھارت کو چین کے مقابل ایک بڑی طاقت کے طور پر کھڑا کیا مگر جیسے ہی بھارت نے وہ طاقت حاصل کی جس کا نئی دہلی سرکار واشنگٹن کی مدد کے بغیر صرف خواب ہی دیکھ سکتی تھی، اس نے امریکی قیادت میں قائم چار ممالک کے اتحاد کواڈ کو پس پشت ڈال کر روس اور چین کی قیادت میں قائم مخالفت اقتصادی بلاک برکس کا جھنڈا اٹھا لیا۔ اس اسٹریٹجک قلابازی کے ذریعے بھارت نے پچھلے چار پانچ برسوں میں امریکہ مخالف اقتصادی بلاک سے خوب مفادات سمیٹے اور اب ایک بار پھر امریکہ کے ساتھ اس نے دفاعی فریم ورک کا نیا 10 سالہ معاہدہ کر لیا ہے۔ چند برس قبل کی اسٹریٹجک قلابازی کے ذریعے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے صرف معاشی جنگ میں امریکہ مخالف کیمپ جوائن نہیں کیا بلکہ اچانک افغان طالبان کے ساتھ تعلقات میں ڈرامائی پیش رفت کے ذریعے دفاعی میدان میں بھی صدر ٹرمپ کو للکار دیا اور ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ بھارت نے یہ سب ایک ایسے وقت میں کیا کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے بگرام ایئربیس کو دوبارہ امریکا کے حوالے کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ ( جاری ہے)