(گزشتہ سے پیوستہ)
مودی حکومت کا کھلم کھلا افغان طالبان حکومت کے ساتھ اتحاد کا اعلان دو انتہا پسند قوتوں نریندر مودی اور ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کا اکٹھا ہونا ہے، گویا کند ہم جنس با ہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر ، باز با بازدو جنونیوں کے اس اتحاد نے دونوں میں ایک نئی ’’دیدہ دلیری‘‘پیدا کر دی ہے، مثل مشہور ہے کہ جب دو آفتیں اکھٹی ہو جاتی ہیں، تو ان کی شدت دوگنی ہو جاتی ہے، اس اتحاد سے حوصلہ پا کر طالبان نے صدر ٹرمپ کے مطالبے کو چیلنج کرتے ہوئے اعلان کر دیا کہ کابل حکومت کسی بھی صورت میں بگرام ایئربیس امریکہ کے حوالے نہیں کرے گی۔ خطے کے تمام ممالک بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے غیر متوقع طور پر ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد قائم کرنے کو حیرت اور تشویش کے ساتھ دیکھ رہے تھے کہ مودی سرکار نے ایک اور قلابازی لگائی اور امریکی دفاعی و اسٹریٹجک کیمپ اچانک دوبارہ جوائن کر لیا، ملائشیا میں ہونے والی اس ڈیل پر اب حیران ہونے کی باری روس اور چین کی ہے۔
بھارت نے پہلے خود کو جنوبی اور وسطی ایشیاء سے ایشیاء بحرالکاہل تک چین مخالفت امریکی اتحاد کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بنایا پھر اچانک امریکہ مخالف اتحاد کی فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر پیش کرتے ہوئے طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ ملا امیر خان متقی کو 10اکتوبر 2025 ء سے شروع ہونے والے چھ روزہ دورے پر نئی دہلی مدعو کر لیا، اس دورے کے دوران خفیہ و علانیہ کئی معاہدے طے پائے۔ بھارت نے سفارتی چال بازی کے ذریعے یہ اشارہ دیا کہ وہ ایران، شمالی کوریا، چین اور روس کے ساتھ کھڑا ہو کر امریکا کی افغانستان میں فوجی واپسی کی مزاحمت میں پیش پیش رہے گا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی حالیہ تجارتی جنگ (ٹیرف وار)سے بھی ناراض تھے، انہوں نے افغان طالبان حکومت کے ساتھ مل کر پاکستان کو مشرقی و مغربی دو اطراف سے گھیرنے کی نئی حکمت عملی اپنائی کیونکہ پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ٹرمپ اپنا دوست قرار دے رہے تھے، یہ تشویش ناک بھارتی چال پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے لئے بیک وقت دو محاذوں پر خطرناک دبائو پیدا کر سکتی ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’’فیورٹ‘‘ فیلڈ مارشل بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کے وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی کے حالیہ دور بھارت کے دوران جو فیصلے سامنے آئے، ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ بھارت نے اپنی سیکولر پالیسی ترک کر کے مذہبی مدارس میں عسکری سوچ کو فروغ دینے کی نئی تزویراتی پالیسی اپنالی ہے یہ سرپرائز گریٹ گیم بالکل اسی طرح کی حکمت عملی ہے کہ جو صدر ریگن کے دور میں سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے دوران امریکہ کی طرف سے اختیار کی گئی تھی اور مسلم ممالک کے دینی مدارس میں عسکری فکر کو منظم انداز میں پھیلا کر ایک نہ ختم ہونے والی ’’جنگجو پیداوار‘‘حاصل کی گئی۔
امریکا نے 47سال قبل سوویت یونین کے لئے جو جال بچھایا تھا، وہی جال بھارت نے امریکا کے لئے بچھانے کا اشارہ دیا اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس مہم کے لیے جو معاشی و دفاعی طاقت درکار تھی، وہ خود امریکا نے پچھلے 25برسوں کے دوران بھارت کو فراہم کی ہے۔1981 ء سے 1987ء تک دینی مدارس میں عسکریت پسندی کے فروغ کے لئے جس طرح صدر ریگن کو سی آئی اے چیف ولیم کیسی کی خدمات حاصل تھیں، آج وہی کردار بھارت میں اجیت دووال وزیر اعظم مودی کے لئے ادا کر رہا ہے۔امریکا کی بھارت نوازی کی تاریخ طویل ہے، مگر 1999 ء کی کارگل جنگ کے بعد یہ تعلق تیزی سے گہرا ہوا۔ اس معرکے کے دوران امریکہ نے پاکستان پر ناقابل برداشت دبائو ڈال کر بھارت کی فتح یقینی بنائی اور یوں بھارت کو غیر معمولی دفاعی، معاشی اور سفارتی مراعات دیتے ہوئے اپنے کیمپ میں شامل کر لیا، اس دوران واشنگٹن کی طرف سے بھارت کو برملا اپنا اسٹریٹجک اتحادی قرار دیا جاتا رہا، لیکن یہ اسٹریٹجک اتحاد آزمائش کے پہلے مرحلے میں ہی ’’پنکچر‘‘ہو گیا جب امریکہ نے بھارت کو چین کیخلاف برسر پیکار ہونے کا اشارہ کیا۔ امریکی معاشی و دفاعی بالادستی کو چین اور روس کی سرکردگی میں تشکیل پانے والے نئے عالمی بلاک کی طرف سے ایک بڑا سنجیدہ چیلنج درپیش ہے، بھارت نے اپنی تین ہزار سالہ چانکیہ ڈپلومیسی کے ذریعے اس صورتحال کو امریکہ کو بلیک میل کرنے کے لئے استعمال کیا، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ امریکہ واقعی بلیک میل ہو گیا ہے یا اس نے بھی جوابی ’’پینٹاگون ڈپلومیسی‘‘سے کام لیتے ہوئے بھارت کو عارضی طور پر ہی اپنایا ہے اور واشنگٹن کے ہاں نئی دہلی کی حیثیت ’’گرل فرینڈ‘‘ والی نہیں بلکہ محض ’’کال گرل‘‘ والی ہے۔
(جاری ہے)