Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

آپریشن سندور2 : آ بیل مجھے مار

آپریشن سندور 1 میں پاکستان نے بھارت کا جو حشر کیا اس کی وجہ سے اسے آ بیل مجھے مار آپریشن قرار دیا جا رہا تھا، مودی سرکار نے آپریشن سندور 2 شروع کرنے کا جواز تراشنے کیلئے جو لال قلعہ کار بم دھماکہ فالس فلیگ آپریشن کیا ہے وہ بھی انجام کار آ بیل مجھے مار ہی ثابت ہوا ہے اور شب جمعہ رات 11 بج کر 20منٹ پر سری نگر کے نوگام پولیس اسٹیشن میں موجود 2900 کلوگرام بارود اور حساس کیمیکلز دھماکے سے پھٹ گئے جس سے پولیس اہلکاروں اور فارنزک ٹیم کے لوگوں سمیت 9 افراد مارے گئے اور 29 شدید زخمی ہو گئے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس نے اس واقعے کے بعد جو پریس بریفنگ دی اس میں ایک لکھا ہوا بیان پڑھ کر میڈیا نمائندگان کو سنایا اور فورا ً اٹھ کر تیزی سے کمرے سے نکل گئے اور صحافیوں کے سوالات کے شور کی طرف بالکل توجہ نہیں دی، بھارتی حکام میڈیا کا سامنا کرنے سے گھبرا کیوں رہے ہیں؟ اس کی دو تین وجوہات ہیں، پہلی وجہ تو یہ ہے کہ لال قلعہ کار بم دھماکہ فالس فلیگ آپریشن کی جو کہانی تراشی گئی ہے اس میں بے پناہ جھول ہیں، دوسرے اس معاملے سے نمٹنے کیلئے بھارتی انٹیلی جنس ادارے اور پولیس کوئی پیشہ ورانہ مہارت دکھانے سے بھی قاصر رہے ہیں, یہی وجہ ہے کہ لال قلعہ کار بم دھماکہ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اعلی سول و فوجی حکام کے ساتھ پراسرار میٹنگز تو کرتے رہے لیکن کوئی میڈیا ٹاک کرنے کی انہیں بھی ہمت نہیں ہوئی، اس فالس فلیگ آپریشن کا سارا ملبہ براستہ بانی سربراہ جیش محمد مولانا مسعود اظہر پاکستان پر ڈالنے کیلئے جو کہانیاں گھڑی گئی ہیں وہ تمام بھارتی میڈیا کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہیں اور ایک میڈیا وار جاری ہے لیکن چونکہ یہ تمام کہانیاں ممبئی فلم انڈسٹری کے کسی سستے فلمی رائٹر کی لکھی ہوئی ہیں اس لیئے بات بن نہیں رہی۔
سری نگر کے نوگام پولیس اسٹیشن میں 2900 کلوگرام بارود اور خطرناک کیمیکلز کے پچھلے دو روز سے سیمپلز لیئے جا رہے تھے کہ جمعہ 14 نومبر کی شب اس عمل کے دوران حادثاتی طور پر یہ سارا بارود اچانک دھماکے سے پھٹ گیا، بھارتی میڈیا کے مطابق اکثر لاشیں جل کر ناقابل شناخت ہو گئی ہیں اور کئی زخمیوں کی حالت بھی بہت تشویشناک ہے اور تھانے کی بلڈنگ ، پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں اور قریبی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس بارود اور کیمیکلز کی اتنی بھاری مقدار کو بھارتی انٹیلی جنس ادارے اور پولیس ہینڈل نہیں کر سکی اسے پانچ چھ ڈاکٹروں نے کیسے تیار کیا اور کئی ماہ سے کیسے بحفاظت سنبھال کر رکھا اس حوالے سے پہلے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا تھا لیکن نوگام پولیس اسٹیشن میں بارود و کیمیکلز کی سیمپلنگ کے دوران ہونے والے دھماکے نے تو بھارتی کہانی کی قلعی کھول دی ہے کہ ایک منی ٹرک کے لوڈ کے برابر بارود کس طرح کسی عام سے گھر میں تیار کیا اور اسٹور رکھا جا سکتا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امیت شاہ ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دووال کی اوسط عمر 75 برس کے لگ بھگ ہو گی، یہ بوڑھی قیادت ذہنی و جسمانی طور پر نقاہت کا شکار ہونے کی وجہ سے قوت فیصلہ سے محروم ہو چکی ہے، اور آج کے انتہائی جدید دور میں پرانے ہتھکنڈوں سے کام چلانا چاہتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کا ہر پاکستان دشمن پلان ’’بانس‘‘ ہو رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے لال قلعہ کار بم دھماکہ فالس فلیگ آپریشن کے نام پر بھارتی حکام پاکستان کو ملوث کرنے کی جو کہانی گھڑ رہے ہیں اس کے ہر دوسرے چیپٹر میں جیش محمد کے بانی مولانا مسعود اظہر کے گھرانے اور دیگر افراد کو ملوث قرار دیا جا رہا ہے حالانکہ یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ بھارتی قید سے رہائی کے بعد مولانا مسعود اظہر کا زیادہ وقت افغانستان میں طالبان کے ہمراہ گذرا ہے۔جیش محمد کے ذریعے لال قلعہ کار بم دھماکے کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کیلئے بھارتی میڈیا کی دلچسپ کہانی ملاحظہ فرمائیں جو آج کل تازہ ترین چورن کی صورت میں پیش کی جارہی ہے۔
’’ لال قلعہ کار بم دھماکے کا پاکستانی رابطہ بے نقاب ! دہلی ریڈ فورٹ دھماکے کی سازش کار ڈاکٹر شاہین سعید کا جیشِ محمد سربراہ مسعود اظہر کے بھتیجے کی بیوی کے ساتھ تعلق، اہم انکشاف، ڈاکٹر شاہین سعید اور عفیرہ بی بی کے درمیان براہِ راست رابطہ تھا، عفیرہ بی بی مسعود اظہر کے بھتیجے(یا بھانجے) عمر فاروق کی بیوی ہے، ڈاکٹر شاہین اور عفیرہ بی بی دونوں مل کر بھارت میں ایک نیٹ ورک قائم کر رہی تھیں جس کا مقصد خواتین کو شدت پسند نظریات کی طرف مائل کرنا تھا۔ یہ نیٹ ورک جیش محمد کا خفیہ خواتین ونگ ہے جسے جماعتِ المومنات کہا جاتا ہے اور ڈاکٹر شاہین سعید اس کی بھارت شاخ کی سربراہ ہے، پاکستان میں اس ونگ کی قیادت سعدیہ اظہر کے پاس ہے، جو مسعود اظہر کی بہن ہیں، سعدیہ اظہر کا شوہر یوسف اظہر تھا، جو 1999 کے قندھار ہائی جیکنگ واقعے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ عفیرہ بی بی کا کردار اس ونگ میں بہت کلیدی ہے وہ جیشِ محمد کے کمانڈروں کے درمیان رابطہ کار تھیں اور ان کی ذمہ داری تھی کہ کمانڈروں میں ہم آہنگی برقرار رہے۔‘‘
بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی مذکورہ بالا کہانیوں میں پھولن دیوی بنا کر پیش کی جا رہی لکھنئو کی ڈاکٹر شاہین سعید ان چار ڈاکٹرز کی ساتھی قرار دے کر گرفتار کی جا چکی ہیں جن پر الفلاح یونیورسٹی فرید آباد ہریانہ کو مرکز بنا کر بھارت میں بڑے پیمانے پر بم دھماکے کروانے کا منصوبہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اب ان کا تعلق مولانا مسعود اظہر کے پورے خاندان کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے اور کسی لنک کا کوئی ثبوت بھی فراہم نہیں کیا گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس اداروں کو مسعود اظہر کے گھرانے کی ایک ایک ایکٹیویٹی کا پتہ ہے لیکن اپنے کام کا پتہ نہیں کہ نام نہاد ریکوری کے بعد بارود کے بڑے ڈھیر کو کیسے سنبھالنا ہے؟

یہ بھی پڑھیں