Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

خیبرپختونخوا ،ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا

خیبرپختونخوا حکومت اپنی بیڈ گورننس کی ہانڈی کی کالک وفاق کے چہرے پر مل کر نام نہاد مظلومیت کا جو لبادہ اوڑھنے کی کوشش کر رہی ہے اس پر بے اختیار ہمیں انگریزی زبان کا محاورہ Throw someone under the bus یا آجاتا ہے جس کا مطلب ہے اپنے آپ کو بچانے کیلئے کسی دوسرے کو قربانی کا بکرا بنا دینا، انگریزی ہی کا ایک اور دلچسپ محاورہ ہے A poor workman blames his tools یعنی نکھٹو کاریگر ملبہ اپنے اوزاروں پر ڈال دیتا ہے، اسے ہم ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا بھی کہہ سکتے ہیں۔
ہم نے ہمیشہ چھوٹے صوبوں کی مظلومیت اور محرومیوں کے حوالے سے آواز بلند کی ہے لیکن خیبرپختونخوا حکومت کی حالیہ برسوں کی نااہلیوں کے تازہ ترین اعدادوشمار سامنے آئے ہیں تو انہیں دیکھ کر ہمارا میٹر بھی گھوم گیا ہے کہ اس سے بڑی نااہلی اور نالائقی کیا ہو گی کہ صوبے کی اپنے وسائل سے آمدنی آٹے میں نمک کے برابر ہو اور دستیاب ترقیاتی فنڈز بھی استعمال نہ ہو سکنے کی وجہ سے لیپس ہوتے رہیں، چہ بوالعجبی است!
ترقیاتی بجٹ کے عدم استعمال کی صورتحال ملاحظہ فرمائیں کہ گزشتہ برس 468 ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سے صرف 35 فیصد استعمال ہوا۔ جبکہ اس سے پچھلے سال 319 ارب میں سے محض 31 فیصد ترقیاتی کام کروائے گئے۔
مالی سال 2025-26 ء میں خیبرپختونخوا کی متوقع آمدن 2,119 ارب روپے ہے، جس میں سے حیران کن طور پر 1,990 ارب روپے وفاق سے آئے گا۔ یعنی صوبے کی کل آمدن کا 94 فیصد وفاق فراہم کرے گا گویا خیبرپختونخوا کی اپنے وسائل سے آمدن صرف 129 ارب روپے ہوگی۔ خیبرپختونخوا کیلئے دستیاب وفاقی اور صوبائی وسائل کا یہ حیران کن موازنہ ہمیں تصویر کا وہ رخ دکھا رہا ہے جو اب تک 25 کروڑ عوام کی نظروں سے اوجھل تھا، مرض کی یہ وہ علامت ہے جو بتاتی ہے کہ صوبائی حکومت’’پولیو زدہ‘‘ ہے اور اپنی ٹانگوں پر کھڑا نہیں ہو سکتی بلکہ وفاق کی بیساکھی کے سہارے چلتی ہے، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ خیبرپختونخوا مسلسل آکسیجن سلنڈر پر زندہ ہے اور برسوں سے وینٹی لیٹر پر ہے۔
ایک اور حیران کن پہلو اس انتہائی تشویشناک صورتحال کی یہ ہے کہ وفاقی مالیاتی امداد وفاقی وار آن ٹیرر کے ایک فیصد پر مشتمل ہے اس مد میں بھی خیبرپختونخوا اب تک 700 ارب روپے وصول کر چکا ہے، اتنی بھاری رقم کا درست طریقے سے استعمال کیا جاتا تو آج وزیراعلی سہیل آفریدی کو دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے یکطرفہ مخالفانہ بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ یہ 700 ارب روپے 2010 ء سے 2025ء کے درمیان وفاق نے دہشت گردی کے ازالے کے نام پر خیبرپختونخوا کو اضافی دیے، لیکن سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کے باوجود کیا صوبہ آج پہلے سے زیادہ محفوظ ہے؟ بلاشبہ ہرگز نہیں۔ یہ 7 کھرب روپے کس سکیورٹی ادارے پر خرچ کیئے گئے؟ کچھ پتہ نہیں، کیا پولیس مضبوط ہوئی؟ کیا ادارے مستحکم ہوئے؟ کیا شدت پسندی کم ہوئی؟ ہر سوال کا جواب ایک بہت بڑی ناں کی صورت میں ہے۔
ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ان 700 ارب روپے کا کوئی جامع آڈٹ آج تک عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پیسہ آیا، بٹا، تقسیم ہوا، مگر اس کے مثبت اثرات کہیں نظر نہیں آئے ، گویا اندھا بانٹے ریوڑیاں والا معاملہ لگتا ہے۔
خیبر پختونخوا کو ملنے والے وفاقی منتقلیاں، آئل و گیس رائلٹی، ہائیڈل پرافٹ، ضم شدہ اضلاع کے فنڈزسب ملا کر خیبرپختونخوا کا فی کس بجٹ پنجاب سے بھی زیادہ بنتا ہے، مگر اس بڑے بجٹ کے باوجود صوبے میں شرح خواندگی صرف 55 فیصد، حفاظتی ٹیکہ جات صرف 71 فیصد ، پینے کا صاف پانی صرف 82 فیصد اور ہسپتالوں کے بستر فی ہزار آبادی صرف اعشاریہ 5 فیصد ہیں۔
ایک بڑا مسئلہ یہ بھی بنا ہوا ہے کہ پچھلے دو برسوں سے خیبرپختونخوا کے وزیراعلی کی اصل نوکری وفاق پر چڑھائی، لانگ مارچ، احتجاج اور جلا گھیرا آپریشنز ہیں بطور وزیراعلی خدمات کو ’’پارٹ ٹائم‘‘ ورکنگ کا درجہ حاصل ہے جس کی وجہ سے گورننس کی صورتحال پر گزرتے دن کے ساتھ بدترین ہوتی جا رہی ہے۔
ایک صوبہ جس کو ہر سال سینکڑوں ارب روپے ملتے ہیں، وہ ترقیاتی بجٹ خرچ نہ کر کے اپنی عوام کے مستقبل کا گلا خود اپنے ہاتھوں سے گھونٹ دیتا ہے۔ اسے بدانتظامی کہنا بہت رعایت ہو گی ، یہ تو تعمیر و ترقی کا صریحاً قتل عمد ہے۔
یہ جان کر ہماری تو جان ہی نکل گئی ہے کہ خیبرپختونخوا کی تحصیل کونسلوں کے لیے مختص 94 ارب روپے خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے جاری ہی نہیں کیے گئے۔ گویا مقامی حکومتیں کسی سیاسی دشمنی کا شکار تھیں اور اس عمل کی بھاری قیمت بیچارے عوام نے چکائی۔
خیبر پختونخوا پر ایک اور بڑا الزام یہ ہے کہ اس صوبے میں احتساب اور شفافیت کے حوالے گورننس کا جنازہ نکال دیا گیا ہے، آڈٹ اعتراضات 300ارب روپے سے زیادہ، غیر ایڈجسٹ شدہ ایڈوانسز دسیوں ارب کے قریب۔ یہ کوئی چھوٹا موٹا اکانٹنگ مسئلہ نہیںیہ واضح ثبوت ہے کہ کہیں کچھ بہت غلط ہوا ہے۔ سرکاری کاغذوں میں اجرا شدہ ان گنت رقومات، ٹھیکے، اسکیمیں ادھوری تفصیلات پر مشتمل ہیں گویا ہر چیز اس صوبائی نظام کے اندرونی انتشار کی بدترین تصویر کشی کر رہی ہے۔
’’محنت نہیں، صرف شکایت‘‘ والے اس سیاسی کلچر کے فروغ کی وجہ سے جب کوئی صوبہ بار بار وفاق سے پیسہ مانگے مگر خود ٹیکس بیس وسیع نہ کرے، زمینوں کو ڈیجیٹائز نہ کرے، معدنیات کو نظام میں نہ لائے، سیاحت کو منظم نہ کرے تو پھر یہ سوال بھی بنتا ہے کہ کیا یہ نااہلی یا سہل پسندی ہے؟ یا پھر جان بوجھ کر کی گئی ملک دشمنی تاکہ عوامی محرومیوں کو بڑھا کر ان کی آڑ میں شدت پسند تنظیموں یا دشمن ملک بھارت کے ایجنڈے و پروپیگنڈے کو تقویت ملے؟
ضرورت اب اس امر کی ہے کہ خیبرپختونخوا کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ یہ صوبہ اپنے وسائل کے اعتبار سے کمزور نہیں، مگر گورننس اور ترجیحات کے لحاظ سے خطرناک حد تک بکھرا ہوا ہے، اگر فوری طور پر ٹیکس بیس وسیع نہ کیا گیا، ریونیو سسٹم جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوا، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل نہ کی گئی ، ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف اور سخت احتساب نہ کیا گیا تو پھر یہ صوبہ ہمیشہ کشکول پکڑے وفاقی امداد کا محتاج رہے گا اور عوام ہمیشہ ایسے افسوسناک سوالات پوچھتے رہیں گے کہ ہمارا پیسہ کہاں گیا؟

یہ بھی پڑھیں