Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پوپ سے بھی زیادہ کیتھولک یوٹیوبرز

(گزشتہ سے پیوستہ)
پی ٹی آئی اور عمران خان شاید حکومت و اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے قومی اتفاق رائے کیلئے کسی مذاکراتی عمل میں شریک ہونے پر آمادہ ہو جاتے لیکن ان پوپ سے بھی زیادہ کیتھولک یوٹیوبرز” نے درجہ حرارت اس انتہا تک گرم کر دیا ہے کہ جو بھی اب ڈائیلاگ روم” کی بھٹی میں داخل ہو گا سیاسی طور پر پگھل” جائے گا، اس لیئے اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان دوریاں شیطان کی آنت کی طرح مزید بڑھتی ہی جا رہی ہیں، ستم بالائے ستم یہ ہے کہ الٹرا کیتھولک” قسم کے ہمارے یہ یوٹیوبرز طالبان رجیم اور دھشت گردوں کے بیانیہ کو گلیمرائز کرنے کا یہ چورن ان ممالک میں بیٹھ کر بیچ رہے ہیں، جہاں کی حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی ان تمام طالبانی مطالبات پر غور تو ایک طرف رہا انہیں سننے کے بھی روادار نہیں،
اس معاملے کو یوٹیوب، فیس بک، واٹس ایپ اور ایکس کے مالکان کے ساتھ اٹھایا جا سکتا ہے تاکہ نہ صرف پاکستان بلکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو بھی ان “الٹرا کیتھولک” یوٹیوبرز کی “داعشی فکر” سے نجات ملے اور ملک میں حکومت و اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپوزیشن کے مذاکرات کا سازگار ماحول بن سکے۔
اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان مذاکرات کا کوئی سازگار ماحول نہ بننے کی دوسری بنیادی وجہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتیں بھی ہیں، جس طرح چند “الٹرا کیتھولک” یوٹیوبرز اپنے ویوز اور ڈالرز کے چند کلو گرام گوشت کیلئے پی ٹی آئی کی پوری سیاست کی بھینس کو ذبح کروانے پر تلے ہوئے ہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کو بھی اپنا پانچ سالہ عرصہ اقتدار پورا کرنے کے چند کلوگرام گوشت کیلئے تیزی سے بدلتی دنیا میں پاکستان کے دا پر لگے اسٹریٹجک مفادات کی بھینس کے “ذبح” ہونے کا کوئی غم نہیں۔ نتیجہ اس تشویشناک صورتحال کا یہ ہے کہ ہمارے “جمہوری” حکمرانوں نے ایک طرف عمران خان اور پی ٹی آئی سے لڑائی کا سارا بوجھ فوج کے کندھوں پر ڈال رکھا ہے تو ساتھ ہی ساتھ اپنا الو سیدھا کرنے کا سلسلہ ان کی طرف سے یوں بھی جاری ہے کہ پاک فوج میں اعلی عہدوں پر تعیناتیوں، چھوٹے صوبوں و بااختیار ضلعی حکومتوں کے قیام اور این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے “لائنز شیئر” جیسے انتہائی نازک معاملات پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مسلسل اختلافات کا چورن بھی دھڑلے سے بیچا جا رہا ہے۔ گویا
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
یوکرین اور غزہ کے بعد اب وینیزویلا ہو چکا ہے اور دنیا تیزی سے تیسری عالمی جنگ کے خوفناک فیز کی طرف بڑھ رہی ہے، اور ہمارا حال یہ ہے کہ ملکی قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکا ہے، وفاق کے پاس نہ قرضوں کے سود اور قسطوں کی ادائیگی کے وسائل ہیں اور نہ ہی خطے میں جاری جدید اور انتہائی مہنگے ہتھیاروں کی خریداری کی دوڑ سے نمٹنے کیلئے ناگزیر اربوں ڈالرز کے وسائل، لیکن ہماری صوبائی حکومتوں کو بالکل بھی پروا نہیں، وہ اپنی سیاسی مقبولیت بڑھانے کے نشے میں غرق ہیں، کہیں الیکٹرک بسیں چلانے، لیپ ٹاپ اور اسکوٹیاں بانٹنے سے لے کر ڈبل ڈیکر بسیں لانے تک اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے اپنا ووٹ بنک پکا کرنے اور اس دوران حاصل ہونے والے کمشن کے ذریعے اگلے عام انتخابات کا خرچہ نکالنے جیسے معاملات کا جنوں غالب ہے تو کہیں صرف ذاتی امیج بلڈنگ پہلی ترجیح بنی ہوئی ہے، انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ خدا نخواستہ اگر دنیا تیسری عالمی جنگ کے دور میں داخل ہو گئی یا ہمارے خطے میں منی ورلڈ وار شروع ہو گئی تو پھر کیا ہوگا؟
یہ سمجھنا یا جاننا کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ جنگوں کیلئے جدید ترین میزائل سسٹمز، طیاروں، توپخانہ، ٹینک اور دیگر انتہائی مہنگے حساس جنگی آلات کی دوران جنگوں خریداری اور سپلائی نہیں ہوا کرتی، یہ اہم ترین اور ناگزیر کام زمانہ امن کے دوران دنیا اور خطے میں جاری ہتھیاروں کی دوڑ کے دوران وقت” آنے سے بہت پہلے کرنا پڑتا ہے۔
اقوام مغرب دہشت گردی اور انتہا پسندانہ بیانیہ کے ایشو پر جس قدر حساس ہیں شاید ہی کسی دوسرے موضوع پر اتنے جذباتی ہوں گی، اس حوالے سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ ہمارے جمہوری” حکمرانوں نے پچھلے چار برس میں “الٹرا کیتھولک” یوٹیوبرز کی طرف سے کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم بی ایل اے کے موقف کو بالواسطہ طور پر سپورٹ کرنے والے بیانیہ کو بے نقاب کرنے کیلئے اب تک عملا کیا کیا ہے؟ اس انتہائی حساس بنیاد پر یورپ اور امریکہ میں عوامی سطح پر کیا جوابی بیانیہ مہم چلائی گئی؟ محترم وزیر خارجہ اور وفاقی و صوبائی وزرائے اطلاعات جواب دینا پسند فرمائیں گے؟ ۔۔۔۔ حالیہ چند برسوں کے دوران الٹرا کیتھولک یوٹیوبرز” کو سوشل میڈیا خاص طور پر یوٹیوب، فیس بک اور ایکس پر بین کروانے کیلئے سفارتی و حکومتی سطح پر متعلقہ ممالک کی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کے کتنے ادوار کیئے گئے؟ ۔۔۔۔ صرف یہی نہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ یہ سوال بھی بنتا ہے کہ ان “الٹرا کیتھولک” یوٹیوبرز کے پچھلے 4 برس کے ٹویٹس اور وی لاگز کا ایکسرے” اور “سی ٹی اسکین” کرکے کتنے زور دار کیسز ٹیکنیکل بنیادوں پر تیار کیئے گئے اور امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کی حکومتوں کو پیش کیئے گئے؟ شاید کچھ بھی نہیں۔
بیانیہ کی اس جنگ میں پاکستان کی موجودہ حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان “شراکت داری” کا “فارمولا” اتنا دلچسپ ہے کہ اس پر الگ سے ایک پورا کالم لکھا جا سکتا ہے، فی الحال دو محاورے پیش خدمت ہیں کہ ” دکھ سہیں بی فاختہ اور کوئے انڈے کھائیں، پنجابی میں یہ محاورہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے کہ “گنے کھان نوں باندری، تے ڈنڈے کھان نوں ریچھ”۔
حرف آخر یہ ہے کہ اگر سیاسی حکومتیں بیانیہ کی اس جنگ میں اپنے حصے کا کام کر رہی ہوتیں تو ڈی جی آئی ایس پی آر کو اپنی پریس کانفرنسز میں بار بار عمران خان ، سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کو نہ لتاڑنا پڑتا، صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری سے وزیراعظم پاکستان جناب میاں محمد شہباز شریف صاحب تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی وفاقی و صوبائی حکومتوں کیلئے یہ صورتحال بلاشبہ الارمنگ ہونی چاہیئے، افواج پاکستان کا اس ایشو پر بار بار فرنٹ لائن پر آ کر پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت کو “جواب” دینا، دوسرے الفاظ میں اس بات کا اعلان” ہے کہ بیانیہ کی اس جنگ میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومتیں اپنے حصے کا کام نہیں کر رہیں اور یہ نااہلی و ناکامی ملک کو مڈٹرم عام انتخابات یا پورے سسٹم کا بوریا بستر لپیٹنے کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں