(گزشتہ سے پیوستہ)
زیر نظر کالم کی پہلی قسط میں ہم نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ جنگ کیوں ٹلی؟ اب بات کرتے ہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ کیوں چاہتا تھا؟ کیونکہ جب تک مقصد واضح نہ ہو، خطرے کی نوعیت بھی پوری طرح سمجھ میں نہیں آسکتی۔سب سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ ایران آج محض ایک علاقائی طاقت نہیں رہا بلکہ وہ بتدریج ایک اسٹرٹیجک پلیئر بنتا جا رہا ہے۔ایسا نیٹ جو چین، روس، وسطی ایشیاء اور مشرقِ وسطیٰ کو آپس میں جوڑتا ہے۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ، روس کی توانائی سیاست اور ایران کی جغرافیائی اہمیت یہ تینوں عناصر مل کر امریکی عالمی بالادستی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکے ہیں۔امریکہ کے لیے ایران کا مسئلہ صرف جوہری پروگرام یا اسرائیل نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر ایران مضبوط ہو گیا تو پورا خطہ امریکی کنٹرول سے نکل سکتا ہے۔ خلیجی ریاستیں، تیل کی منڈیاں، سمندری راستے اور حتی کہ یورپ تک توانائی کی سپلائی، سب کچھ نئے بلاک کی طرف جھک سکتا ہے اور خاص طور پر پاکستان کا خطے کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ کردار مل کر اس خطے میں امریکہ کی طرف سے بھارت کو ’’پولیس مین‘‘بنانے کے اسٹریٹجک پلان کی دھجیاں اڑا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو مسلسل دبائو میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کبھی پابندیوں کے ذریعے، کبھی اندرونی خلفشار کے ذریعے، اور کبھی جنگ کے خوف کے ذریعے ، یہی سلوک قبل ازیں بھارت کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کے ذریعے کیا گیا جو ’’بیک فائر‘‘کر گیا۔
امریکہ اور اسرائیل کچھ ماہ پہلے بھی ایران پر حملہ آور ہو چکے تھے لیکن اس بار ایک اور فرق بھی نمایاں رہا، اور وہ ہے پاکستان اور سعودی عرب کا کلیدی مصالحانہ کردار، خطے میں چل رہی سینہ گزٹ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نہایت واضح الفاظ میں صدر ٹرمپ کو باور کرایا کہ ایران پر جنگ نہ صرف خطے بلکہ خود امریکی اور یورپی معاشی مفادات کے لیے بھی زہرِ قاتل ثابت ہو گی۔ تیل کی قیمتیں، عالمی تجارت، اور خود امریکی معیشت سب کچھ شدید بحران سے دوچار ہو سکتا ہے۔ اور اتنی بھاری قیمت ادا کرکے بھی شائد مطلوبہ مقاصد حاصل نہ کئے جا سکیں۔ امریکہ کا ایران میں رجیم چینج کا اصل منصوبہ براہِ راست فوجی قبضے پر مشتمل نہیں تھا بلکہ کنٹرولڈ افراتفری اور اندرونی طاقت کی منتقلی پر مبنی تیار کیا گیا تھا۔ اس پلان کے تحت پہلے مرحلے میں شدید معاشی پابندیوں، کرنسی بحران، اور انسانی حقوق کے بیانیے کے ذریعے عوامی بے چینی کو بڑھایا جانا تھا۔ دوسرے مرحلے میں ملک کے اندر موجود نسلی و علاقائی نیٹ ورکس کو متحرک کیا جانا تھا، جن میں کرد گروہ، عرب اقلیتیں (خوزستان) اور چاہ بہار سے متصل بلوچ نیٹ ورکس شامل تھے، تاکہ ایرانی ریاستی رِٹ کمزور ہو۔ تیسرے مرحلے میں بیرونِ ملک موجود ایرانی لبرلزسیکولر اپوزیشن، خاص طور پر سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے حامی حلقوں، اصلاح پسند بیوروکریٹس اور ٹیکنوکریٹس کو عبوری سیٹ اپ کے طور پر آگے لانے کا تصور تھا۔ اس ماڈل میں فوجی بغاوت نہیں بلکہ سیفٹی اسٹیبلشمنٹ کی نیوٹرلائزیشن اور تدریجی اقتدار کی منتقلی مرکزی نکتہ تھا۔جنگ کو ٹالنے میں ایک اور اہم پہلو یہ رہا کہ صدر ٹرمپ کو قائل کرنے کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے ایران کو بھی یہ پیغام دیا گیا کہ سخت لب و لہجہ عوام کے وقتی جذبات کو تو تسکین دے سکتا ہے مگر طویل المدت ایرانی مفادات کو نقصان پہنچائے گا۔ یہی وہ متوازن سفارت کاری تھی جس نے کشیدگی کو وقتی طور پر کم کیا۔اس ممکنہ جنگ کا ایک اور بڑا نقصان غزہ امن منصوبے کا تہہ و بالا ہونا بھی ہو سکتا تھا۔ اگر ایران پر حملہ ہوتا تو اسرائیل کے لیے غزہ میں کسی بھی سیاسی حل کا راستہ مکمل طور پر بند ہو جاتا، اور پورا خطہ ایک نہ ختم ہونے والی نئی پراکسی جنگ میں داخل ہو جاتا۔
یہاں ایک تلخ مگر اہم نتیجہ بھی سامنے آتا ہے، اس کشیدگی نے ایران کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ خطے کے اسلامی ممالک اس کے دشمن نہیں بلکہ مخلص دوست ہیں، اور اصل تنازع کی جڑ اسرائیل اور اس کے اسٹرٹیجک اتحادی ہیں، جن میں بھارت سر فہرست ہے۔ بے شک کچھ لوگ اس تجزیے سے اختلاف کریں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اب ایرانی پالیسی ساز اسی نتیجے پر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں۔آخر میں سوال پھر وہی ہے:ایران پر امریکی حملہ کیوں رکا؟ جواب یہ ہے کہ یہ حملہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ طاقت کے بدلتے ہوئے توازن، ابھرتے ہوئے نئے اتحاد، اور امریکی بالادستی کے زوال کے خوف کا اظہار تھا جسے ہم دوسرے الفاظ میں ’’تھوسی ڈائیڈ ٹریپ‘‘بھی کہہ سکتے ہیں۔ جنگ ٹل گئی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے خوف وقتی طور پر دب تو جاتے ہیں، ختم نہیں ہوتے۔اصل کامیابی اسی میں ہے کہ خطے کے ممالک خصوصاً پاکستان اور عرب دنیااس سفارتی کردار کو مستقل حکمتِ عملی میں بدلیں، ورنہ شعلے بجھ کر دوبارہ بھڑکنے میں دیر نہیں لگتی۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہی وہ سوال ہے جو ہمیں بار بار ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم نے یہ جنگ صرف ٹالنے میں کامیابی حاصل کی ہے، یا خطے میں مستقل امن کی بنیاد بھی رکھ دی ہے؟ واللہ اعلم باالصواب