صوبوں کی ٹیل ہو یا نہروں کی ٹیل، دونوں کا مشترکہ دکھ عموما یہ رہتا ہے کہ وہاں نہ تو قانون کی رٹ پوری طاقت سے نافذ العمل ہوتی ہے اور نہ ہی نہری پانی پوری مقدار میں پہنچتا ہے، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی ٹیل کے اضلاع رحیم یارخان، راجن پور، گھوٹکی، کشمور اور ڈیرہ بگٹی کا یہ ’’دکھ‘‘ مشترکہ ہے، لیکن حالیہ چند ماہ کے دوران ٹیل کے اضلاع خاص طور پر ضلع رحیم یار خان میں ایک تواتر سے ایسے عجیب مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا کہ پنجاب کی ٹیل پر قانون کی ایسی زوردار عملداری بھی ہو سکتی تھی، بار بار دل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ہم کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہے، ایک طرف لاکھوں کروڑوں روپے سر کی قیمت والے اغوا برائے تاوان گینگز کے ڈاکو دھڑا دھڑ ’’باجماعت‘‘سرنڈر کر رہے ہیں تو دوسری طرف ترقیاتی کاموں کی رفتار اور معیار میں حیران کن تبدیلی آ چکی ہے، برسوں سے ایک رستا ہوا ناسور بن جانے والا ضلعی ہیڈکوارٹرز کا میگا سیوریج سسٹم انتہائی گہرائی تک صفائی کی وجہ سے ایک بار پھر 90 فیصد تک فعال ہو چکا ہے اور تازہ خبر یہ ہے کہ باقی 10 فیصد ایریا بھی اگلے ایک ڈیڑھ ہفتے میں کلیئر کر دیا جائے گا، تجاوزات کے خلاف آپریشن ہو یا غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے خلاف ’’آہنی اقدامات‘‘حکومتی رٹ اپنی پوری قوت سے بروئے کار لائی جا رہی ہے،
شہر کے تمام مرکزی بازاروں میں فٹ پاتھ اور ٹف ٹائلز والی سڑکیں بنانے کے ساتھ ساتھ انتہائی مضبوط لوہے کے سایہ دار شیڈز نصب کرنے کا کام بھی اپنے آخری مراحل میں ہے،دریائے سندھ کے کچہ کے علاقے جو کئی عشروں سے اغوا برائے تاوان گینگز کی ’’جنت‘‘کہلاتے تھے حالیہ ڈرونز آپریشن کی وجہ سے ان کے لئے ’’جہنم‘‘ بن چکے ہیں، ایک ایک کروڑ روپے سر کی قیمت والے بدنام زمانہ ڈاکو سرغنہ قابل سکھانی اور مورزادہ دشتی نے ابھی 72 گھنٹے قبل ہی اعلیٰ پولیس افسران کی موجودگی میں سرنڈر کیا ہے، اس سے چند روز قبل رحیم یار خان اور راجن پور کے کچہ ایریاز کے لٹھانی اور کوکانی اغوا برائے تاوان گینگز کے 11 ڈاکوئوں نے سرنڈر کیا ہے، جن میں لٹھانی گینگ کے مراد عرف موڈی، فاروق، اکبر، غفار، ارشاد اور سائیں داد لٹھانی جبکہ کوکانی گینگ کے اللہ ڈتہ، شوکت، فرید، وحید اور مورو کوکانی شامل ہیں، ان کچہ کریمنلز کے خلاف اغوا برائے تاوان، ڈکیتی و دیگر سنگین جرائم کے مقدمات درج ہیں اور یہ تمام کچہ کریمنلز طویل عرصے سے ان مقدمات میں مجرم اشتہاری چلے آ رہے تھے، رحیم یارخان ، راجن پور ، کشمور اور گھوٹکی یعنی سندھ پنجاب ٹیل کے 4 اضلاع میں اغوا برائے تاوان گینگز کے حوصلے اس قدر بڑھ چکے تھے کہ انہوں نے ملتان سکھر سی پیک موٹر وے پر ناکے لگا کر کوئٹہ، کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور جانے والی ایئرکنڈیشنڈ کوچز اور پرائیویٹ گاڑیوں پر سفر کرنے والے مسافروں کے لئے خوف و ہراس پیدا کر دیا تھا۔ صادق آباد سے کوئٹہ جانے والی مسافر کوچ سے 19مسافروں کے اغوا کا واقعہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا، جس کے بعد لاڑکانہ سے شکار پور تک، کچہ ایریاز میں سرگرم ڈاکوئوں کے خلاف ڈرون آپریشنز کرنے والے سندھ کے انتہائی پروفیشنل اور جرات مند سینئر پولیس افسران کی سرکردگی میں سندھ پنجاب بارڈر ایریا کے کچہ میں ڈرون آپریشن شروع کر دیا گیا، سندھ پولیس نے اس موقع پر جس تیزی اور دلیری سے ڈاکوئوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ڈرون بمباری سے نشانہ بنایا اور چاروں اضلاع کی پولیس نے جس جرات مندانہ انداز میں کچے میں داخل ہو کر ڈرون بمباری سے پریشان حال ڈاکوئوں کا گھیرا کیا اس کی وجہ سے چند ہفتوں کے اندر ہی صورت حال میں کمال کی تبدیلی آ گئی اور ڈاکوئوں کی دہشت کا مکمل طور پر قلع قمع ہو گیا اور پولیس کا مورال اور عوام میں احساس تحفظ آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا، الحمدللہ پنجاب کی ٹیل کے عوام اغوا برائے تاوان گینگز کے خلاف کامیاب ڈرون آپریشن پر سندھ پولیس، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صدر پاکستان آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کا میڈیا سیل یوں بھی خاصا سست الوجود اور کاہل مشہور ہے لیکن جب سے پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود اپنی طویل علالت کی وجہ سے پچھلے چھ سات ماہ تک لندن میں ہیں پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کا میڈیا سیل بالکل ہی ’’سویا ہوا محل‘‘بنا ہوا ہے، سندھ حکومت اور سندھ پولیس نے چاروں صوبوں کے سنگم کے علاقوں کو اغوا برائے تاوان گینگز سے پاک کرنے کیلئے تاریخی ڈرون آپریشن کرکے جو ناقابل فراموش خدمت انجام دی ہے اس کی وہ پرشکوہ کوریج نہیں ہو سکی جو بلا شبہ پاکستان پیپلز پارٹی، سندھ حکومت اور سندھ پولیس کا حق تھا، ہم امید کرتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری اور مخدوم سید احمد محمود اپنی پارٹی کے میڈیا ونگز کی اس سستی اور کاہلی کا نوٹس لیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ضلع رحیم یار خان میں عرفان علی سموں کو ڈی پی او اور ظہیر انور جپہ کو ڈپٹی کمشنر بنا کر جس دور اندیشی اور میرٹ پسندی کا مظاہرہ کیا ہے اس کے انتہائی حیران کن ثمرات سامنے آ رہے ہیں جس کی تفصیل ہم زیر نظر کالم کی دوسری قسط میں پیش کریں گے، پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتیں جس مستقل مزاجی سے معاملات کو سدھانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں، انہیں اجاگر کرنا پاکستان کے سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی بھی بنیادی ذمے داری ہے لیکن افسوس کہ ہمارے میڈیا خاص پر ٹاک شوز کو ’’سیاسی پراکسی وارز‘‘ نے یرغمال بنا رکھا ہے، یہ صورتحال بھی تبدیل ہونی چاہیئے۔
(جاری ہے)