Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

3 صوبوں کا سنگم اور فیلڈ مارشل ڈاکٹرائن

پاک فوج، انٹیلیجنس اداروں اور چاروں صوبوں کی پولیس کی قربانیوں سے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں جو بہتری آئی ہے اس کی وجہ وہ زیرو ٹالرینس ڈاکٹرائن ہے جو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اختیار کیا اور ملک گیر سطح پر اسے پوری طاقت کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے، یہ اسی ڈاکٹرائن کا ثمر ہے کہ تین صوبوں کے سنگم پر دریائے سندھ کے کچہ ایریاز میں کئی عشروں سے مسلط اغواء برائے تاوان گینگز کا صفایا کر دیا گیا ہے، پاک فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے تعاون سے سندھ پنجاب پولیس نے ڈرون طیاروں کے ذریعے ڈاکوؤں کیخلاف کچہ ایریاز اور دریائے سندھ کے اندرونی جزائر میں طویل آپریشنز کیے جس کے نتیجے میں پنجاب کے اضلاع راجن پور،رحیم یارخان سے لے کر سندھ کے اضلاع کشمور،گھوٹکی، سکھر، شکار پور اور لاڑکانہ تک کا پورا کچہ ایریا اغوا برائے تاوان کےجہنم سے آزاد ہوچکا ہے،سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دور میں بھی اغوا برائے تاوان گینگز کیخلاف ضلع راجن پور کے علاقے میں بڑی کارروائی کی گئی تھی جس کی وجہ سے ان علاقوں میں طویل عرصے تک امن و امان رہا لیکن اس بار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی دلچسپی سے سندھ پنجاب کے سات آٹھ اضلاع میں ایک ساتھ ڈرون آپریشنز کے ذریعے بڑے پیمانے پر انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ صفائی کی گئی جس کی وجہ سے ملکی تاریخ میں پہلی بار یہ پورا ایریا اغواء برائے تاوان انڈر ورلڈ کے ہاتھوں مسلسل یرغمال رہنے کی اذیت سے نجات پا چکا ہے جس پر ان اضلاع کے عوام فیلڈ مارشل کے شکر گزار و ممنون ہیں،اغواء برائے تاوان گینگز کا حوصلہ چند ماہ قبل تک اتنا بڑھ چکا تھا کہ انہوں نے دریائے سندھ کے کچہ ایریاز سے نکل کر ملتان سکھر سی پیک موٹر وے پر حملے شروع کر دیئےتھے، اور کراچی سے لاہور، اسلام آباد یا رحیم یار خان سے کوئٹہ جانیوالی کوچز روک کر پندرہ پندرہ بیس بیس مسافروں کو تاوان کیلئے اغواء کرنا شروع کر دیا تھا، اس لیئے اگر یہ کہا جائے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے زیرو ٹالرینس ڈاکٹرائن کے ثمرات نہ صرف سندھ پنجاب بلوچستان کے سنگم کے اضلاع بلکہ پورے ملک کے عوام کیلئے باعث اطمینان ہیں تو بےجا نہ ہوگا کیونکہ چاروں صوبوں کے عوام اور ان کے پیارےاس علاقے میں اکثر محو سفر رہتے ہیں اورحالیہ میجر آپریشن سے یہاں سفر اب محفوظ ہو گیا ہے، الحمدللہ، لاڑکانہ سے گھوٹکی تک جہاں سندھ پولیس کے افسران و اہلکاروں نے اس آپریشن میں بے مثال کاکردگی دکھائی وہیں ضلع رحیم یارخان کے ڈی پی او عرفان سموں کا کردار بھی بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی میرٹ پسندی اور حسن انتخاب کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ سندھ پنجاب بارڈر ایریا کے اہم ترین ضلع رحیم یارخان کے ڈی پی او کا انتخاب پاکستان مسلم لیگ ن کی وزیر اعلیٰ کریں اور اس دلیر اور جرات مند آفیسر کو تمغہ شجاعت سے نوازنے کا مطالبہ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری سے جمال الدین والی ضلع رحیم یارخان کے بھرے جلسہ عام میں کیا جائے، صدر مملکت سے اس آفیسر کے نام کی سفارش پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود نے صدر مملکت کے اعزاز میں اس ایریا میں عوامی استقبالیہ سے خطاب کے دوران سرعام کی جو کئی عشروں سے اغواء برائے تاوان سے شدید متاثر رہا ہے اور اس وقت صورتحال سو فیصد نہیں تو 98 فیصد ضرور تبدیل ہو چکی ہے،الحمدللہ ، اس دلیر، جرات مند اور انتہائی پروفیشنل ڈی پی او کا نام ہے عرفان علی سموں، رحیم یارخان میں بطور ڈی پی او اپنی تعیناتی کے صرف 10 ماہ کے اندر انہوں نے اپنی ٹیم اور برادر صوبہ سندھ کی پولیس کے ساتھ مل کر بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔ضلع رحیم یارخان جغرافیائی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے، ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹرز اور چولستانی چکوک کو “پکا ایریا” کہا جاتا ہے اور دریائے سندھ سے ملحقہ چھوٹے بڑے قصبوں اور دیہات کو کچہ ایریا” کہتے ہیں جو دریائے سندھ کے اندرونی جزائر تک پھیلا ہوا ہے۔ جن میں کچہ کراچی، کچہ روجھان، کچہ سونمیانی، کچی شاہ والی، کچی حیدرآباد اور کچی جمال خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور یہ جزائر نما کچے اور کچیاں زیادہ تر ضلع راجن پور کی حدود میں دریا کے بیڈ کے اندر واقع ہیں اور ڈاکوؤں کی محفوظ پناہ گاہیں کہلاتی ہیں۔
ڈی پی او عرفان علی سموں نے چارج سنبھالتے فیلڈ مارشل ڈاکٹرائن پر عملدرآمد میں کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا اور پالیسی یہ بنائی کہ ڈاکو چاہے کچے کے ہوں یا پکے کے، انہیں کچہ ہی “چبا” لیا جائے گا، اس پالیسی پر عملدرآمد شروع ہوتے ہی “صفایا” شروع ہو گیا اور کچہ پکا ایریاز میں جرائم کی شرح تیزی سے نیچے آنے لگی۔
کچہ ایریا میں رحیم یارخان پولیس کے ساتھ مقابلوں میں کروڑوں روپے کی ہیڈ منی والے 4 بدنام ڈاکو مارے گئے اور 8 گرفتار ہوئے، ڈاکوؤں کے قبضے سے 86 مغوی آزاد کروائے گئے، ان 10 ماہ میں مجموعی طور پر 700 افراد کو ہنی ٹریپ سے بچایا گیا، ایک طرف سندھ پولیس ایکٹو تھی تو دوسری طرف رحیم یارخان اور راجن پور پولیس نے گھیرا ڈال رکھا تھا، اوپر فضا میں ڈرون پرواز کر رہے تھے، اب ڈاکوؤں کیلئے دو ہی راستے تھے کہ یا تو مارے جائیں یا سرنڈر کر دیں
( جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں