Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

3 صوبوں کا سنگم اور فیلڈ مارشل ڈاکٹرائن

(گزشتہ سے پیوستہ)
فیلڈمارشل ڈاکٹرائن پرعملدرآمد میں چاروں صوبوں کی حکومتوں کی خصوصی دلچسپی کا اندازہ اس بات سےبھی لگایاجاسکتا ہےکہ نئے آئی جی پنجاب عبدالکریم نے چارج سنبھالنے کے فوری بعد دریائے سندھ کے اس کچہ ایریا کا وزٹ کیا ہےجو کئی عشروں سے اغوا برائے تاوان کا جہنم بناہواتھا، آر پی اوبہاولپور غازی صلاح الدین اور ڈی پی او رحیم یارخان عرفان سموں بھی ان کے ہمراہ تھے، اس موقع پر سندھ پنجاب بارڈر ایریاز کے اضلاع کا میڈیا بھی بڑی تعداد میں پہنچاہوا تھا، بتایا گیا کہ صرف ضلع رحیم یار خان میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران 68 ڈاکو ہلاک ہوئےاور97زخمی حالت میں گرفتار کئے گئے، ہیڈمنی والے 15اشتہاریوں سمیت 216 ڈاکوئوں نے سرنڈر کیا، ہتھیار ڈالنےوالےتمام ڈاکووں کو عدالت میں پیش کیاگیا ہے، آئی جی پنجاب عبد الکریم نے اس موقع پر کچے میں قائم پولیس پوسٹ گڑھی خیر محمد جھک کا دورہ کیا جو رحیم یارخان کے تاریخی قصبے بھونگ اور 30 برس تک ڈاکووں کی جنت کہلانےوالےایریا کچہ کراچی کےدرمیان واقع ہے، بھونگ کو ملک گیر شہرت اپنی تاریخی بھونگ مسجد کی وجہ سے ملی جوفن تعمیر کااعلی نمونہ ہےاور جس میں نقش و نگار اور پچی کاری کیلئےخالص سونےکا استعمال بڑی مقدار میں کیاگیا ہے۔
دریائے سندھ کے کچہ ایریا میں اغوا برائے تاوان گینگز نےباقاعدہ ایک انڈرورلڈ کی حیثیت اختیارکر رکھی تھی، کئی حکومتیں آئیں اورکئی حکومتیں گئیں لیکن اس ناسور کا مکمل خاتمہ نہ کیا جاسکا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ملک بھر میں دہشت گردی اور گھناونے جرائم کے خاتمے کیلئے جو زیرو ٹالرینس پالیسی فائنل کر رکھی ہے، آخرکار اسی نے اس انڈر ورلڈ کی کمر توڑی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس آپریشن میں قربانیاں دینے والے اور اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسروں و جوانوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ہرضلع میں مقامی طور پر تقریبات کا اہتمام کیا جائے، ضلع رحیم یارخان میں یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے، امید ہے کہ دیگر اضلاع بھی اس حوالے سےاہل رحیم یارخان کی پیروی کرتے ہوئے پنجاب پولیس کے اپنےاپنےمقامی ہیروزکوخراج تحسین پیش کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان اور ان کے سپہ سالار اعظم فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لئے اظہار تشکر بھی لازم ہے کہ جن کے زیرو ٹالرینس ڈاکٹرائن نے تین صوبوں کے سنگم کو پرامن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ رحیم یارخان پولیس کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے سب سے پہلے رحیم یارخان پریس کلب نے انیشیئیٹو لیااورڈی پی اوعرفان علی سموں کو’’محافظ رحیم یار خان‘‘ کا ایوارڈ دینے کیلئے جناح ہال رحیم یارخان میں تقریب پذیرائی کا اہتمام کیا گیا۔
جےیو آئی ف کے ضلعی امیر اور ڈسٹرکٹ موبائل امن کمیٹی کے چیئرمین علامہ عبد الروف ربانی نے عرفان علی سموں کو شہریوں کی طرف سے دستار فضیلت پہنائی، اور پاکستان مسلم لیگ ن کےسٹی صدرسابق ایم پی اے چوہدری عمر جعفر، پاکستان پیپلز پارٹی کے سٹی صدر راجہ ریاض سولنگی، ممبر پنجاب بار کونسل چوہدری اختر علی چہور، رحیم یارخان چیمبر آف کامرس کے سرکردہ رہنما قاری ظفر اقبال شریف اور مسلم لیگ ن لائرز ونگ کے ضلعی نائب صدر عدنان مہاندرہ نے علامہ عبد الروف ربانی ، صدر رحیم یارخان پریس کلب ڈاکٹر ممتاز مونس اور جنرل سیکرٹری میاں سجاد اسلم کے ہمراہ ڈی پی او عرفان علی سموں کو محافظ رحیم یارخان کی شیلڈ پیش کی، ایوان صنعت و تجارت رحیم یارخان اور انجمن آڑھتیاں غلہ منڈی رحیم یار خان کے سرپرست اعلی حاجی محمد ابراہیم پاکستان مسلم لیگ ن ایک ضروری مصروفیت کی وجہ سےاس تقریب پذیرائی میں شریک نہ ہو سکے،رحیم یارخان پریس کلب کے وفد کو انہوں نے تاکید کی کہ ن لیگ کے مرکزی رہنما چوہدری جعفر اقبال بھی آج کل رحیم یارخان میں موجود نہیں اس لیے آپ سٹی صدر و سابق ایم پی اے چوہدری عمرجعفر کوضرور مدعو کریں کیونکہ صوبے میں حکمران جماعت کی اس اہم ایونٹ میں نمائندگی لازم یے،رحیم یارخان پریس کلب کی تقریب پذیرائی کے بعد یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے تین چار روز قبل بھی شہریوں کا ایک بڑا جلوس عرفان علی سموں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ڈی پی او آفس پہنچا اور وہاں ایک بڑی عوامی تقریب پذیرائی کا اہتمام کیا گیا، حاجی محمد ابراہیم اس تقریب کی صف اول میں تھے۔ صدر پاکستان کی طرف سے یوم آزادی 14 اگست پر دیگر شعبوں کے ساتھ پولیس افسران کو بھی حسن کارکردگی پر ایوارڈز اور تمغے دیئے جاتےہیں پولیس کو چار قسم کے میڈلز سے نوازاجاتا ہے، جن میں پہلا قائد اعظمؒ پولیس میڈل ہے، دیگر میڈلز میں صدارتی پولیس میڈل، پولیس تمغہ برائے شجاعت اور پولیس تمغہ برائے نمایاں خدمات شامل ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ تین صوبوں کے سنگم کو ڈاکووں سے پاک کرنے والے پنجاب اور سندھ پولیس کے کس افسر و اہلکار کو کون سا تمغہ یا میڈل ملتا ہے، واللہ اعلم باالصواب

یہ بھی پڑھیں