Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

نئی ریجنل صف بندی اور طالبان رجیم

بھارت اور اسرائیل نے شیعہ محور کے بعد اب سنی محور کیخلاف اپنے گھناونے عزائم کا علانیہ اظہار کردیا ہےلیکن مقام حیرت یہ ہے کہ اسلام کےنام پرجہاد کی علمبردار امارات اسلامی افغانستان (افغان طالبان رجیم) ابھی تک ہمسایہ اسلامی ممالک میں دہشت گردی کی سرپرستی جاری رکھنے کے اپنے ’’خول‘‘سے باہر نہیں نکل رہی، اسرائیل اور بھارت خطےمیں بالادستی کیلئے دو رخی جنگ لڑ رہے ہیں، پہلا حصہ ٹارگٹ ممالک کو مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بنا کر ان کی ترقی کی رفتار کو سست کرنا اور دوسرا مرحلہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی و ریسرچ میں تعاون ہے، افسوسناک معاملہ یہ ہے کہ یہ سب تیاریاں دنیا کی نگاہوں کے سامنے علانیہ ہو رہی ہیں لیکن افغانستان کے طالبان رجیم کو نظر نہیں آ رہیں اور کابل و قندھار سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی سرپرستی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ افغانستان کی سرحد پارکر کےپاکستان میں ہونےوالی دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے دوران کرک میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) کے قافلے پر بزدلانہ حملہ کیا گیا،جوانوں کو جلانےکےنتیجے میں 3 اہلکاروں کی شہادت ہوئی، شکردرہ (کوہاٹ)میں ڈی ایس پی اسد محمود سمیت 7افراد کا نشانہ بننا، اوربھکر میں خودکش حملے کےنتیجے میں 2 پولیس اہلکاروں کی شہادت بھی دہشت گردی کی حالیہ تازہ ترین لہر میں شامل ہے، اس دوران رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا احترام بھی نہیں کیاگیا،ان مقدس ساعتوں میں افغانستان سے ہونے والے یہ خودکش حملے اس امر کے عکاس ہیں کہ ان دہشت گردوں کا نہ تو اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی پختون روایات سے کوئی لینا دینا، حکومت پاکستان نے متعدد بار افغانستان کی طالبان رجیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فتنہ الخوارج کی سرپرستی روکے اس مسلسل ڈیمانڈ پر عمل درآمد کے بجائے، افغان طالبان رجیم کی پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو بار بار چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن اب یہ سلسلہ یونہی جاری نہیں رکھا جاسکے گا کیونکہ باوثوق ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم کو وضاحت کے ساتھ بتادیاگیا ہےکہ اگر اب افغانستان نے دہشت گردوں کی حمایت میں مزید کوئی کارروائی کرنےکی کوشش کی تو اسے پاکستان کے سخت ترین رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
افغانستان کی طالبان رجیم کی پاکستان کیخلاف اس علانیہ جنگ کا اب ایک ہی حل بچا ہےکہ اس کامکمل قومی عزم اور ملی یگانگت سے تمام تر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد و یک جان ہو کر جواب دیا جائے۔ افغانستان کے باشعور عوام اب خود اپنی سرزمین پر پلنے والی اس دہشت گردی پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ عجیب جہاد ہے کہ جس میں صرف کلمہ گو مسلمانوں کا ہی خون بہایا جا رہا ہے، اب تو عام افغان شہری بھی دہشت گردی کی ان تمام کارروائیوں کی اصل جڑ کو پہچان گئے ہیں اور اس غارت گری پر افغان طالبان رجیم کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں اور سوال کر رہے ہیں کہ دنیا بھر سے لا کر دہشت گردوں کو پالنے کا مقصد کیا ہے؟ اور اس فتنہ گری سے افغانستان کو تباہی کے سوا کیاحاصل ہوگا؟ایک اور تعجب خیز ردعمل ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے افغانستان میں مبینہ سویلین ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار ہے،دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں میں مارےجانیوالے خود کش بمباروں ، ان کے ٹرینرز اور دہشت گرد لیڈروں کو سویلینز قرار دینا حقائق کو جھٹلانا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کااس سارے معاملے کو بھارت اور اسرائیل کی عینک سے دیکھنا اور افغانستان کی سرپرستی میں پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کو یکسرنظرانداز کرناانتہائی افسوناک ہے،پاکستان نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج کے7ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، ان کارروائیوں کے دوران مارے جانے والے دہشت گردوں کو محض سویلین کہہ دینا ان ہزاروں معصوم پاکستانی شہریوں کی تضحیک ہے جنہیں ان دہشت گردوں نے اپنی بربریت کا نشانہ بنایا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے 22 فروری 2026 کو اپنے کابینہ اجلاس میں ایک علاقائی حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا جسے اس نے Hexagon of alliances (چھ کونے کا اتحاد)قرار دیا اور اعلان کیا کہ بھارت اسرائیل ، یونان، قبرص اور کچھ عرب، ایشیائی و افریقی ممالک کو ملا کر مشرق وسطیٰ اور اطراف میں ایک نیا ریجنل اتحاد بنایا جائے گا، کابینہ سے خطاب کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت خطے میں دو محور (axes) موجود ہیں، ایران اور اس کے اتحادی شیعہ محور’’کیخلاف تو ہم برسر پیکار ہیں لیکن اب ایک ابھرتا ہوا‘‘سنی محور ہمارا اگلا نشانہ ہوگا، اسرائیلی و مغربی اخبارات نے اس بیان کو ترکی سعودی عرب اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے عسکری رابطوں کیلئے ایک وارننگ قرار دیا ہے، قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بیان بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے 25 اور 26 فروری کے اسرائیل کے دورے سےچند روز قبل دیا، بھارت اور اسرائیل جس دفاعی اور سیکیورٹی معاہدے کے نئے بندھن میں بندھنےجارہےہیں اسے خاص اسٹریٹیجک شراکت داری قائم کرنے اور فوجی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی ڈیل قرار دیا جا رہا ہےجس میں دفاع، سیکیورٹی، ٹیکنالوجی و اقتصادی تعاون شامل ہوگا۔عسکری خطرات، ڈیجیٹل اور سائبر سیکیورٹی، ایجادات (innovation) اور دیگر ڈس رپٹو ٹیکنالوجیز میں مشترکہ حکمتِ عملی تیار کرنا بھی اس نئے معاہدے میں شامل ہے۔معاہدے کا اطلاق آگے بڑھ کر مشترکہ دفاعی نظاموں کی ترقی اور سسٹمز کی مشترکہ تیاری قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دوران 8.6 بلین سے 10 بلین ڈالر تک جدید ترین اسرائیلی جنگ ہتھیار کی خریداری بھی کی جا رہی ہے جس میں سپائس 1000 پریسیژن گائیڈڈ بم، ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، بیلسٹک میزائل سسٹمز، آئس بریکر میزائل سسٹمز بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔کابینہ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے خطے کے نئے ریجنل اتحاد میں اسرائیل ، بھارت ، یونان ، قبرص کا تو باقاعدہ نام لیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس میں کچھ عرب، ایشیائی اور افریقی ممالک بھی شامل ہوں گے، سوال یہ ہے کہ افغان طالبان رجیم جس مستقل مزاجی سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی سرپرستی کر رہا ہے کہیں اندر کھاتے وہ بھی تو اس ریجنل عسکری اتحاد میں شامل نہیں کہ جس میں ابھی صرف چار ممالک بھارت، اسرائیل، یونان اور قبرص کا نام سامنے آیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں